Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / فرخ شہباز / مولانا کے کنٹینر میں کیا ہورہا ہے؟

مولانا کے کنٹینر میں کیا ہورہا ہے؟

ہر زبان پر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ہے- لوگ پوچھتے ہیں مولانا کتنی دیر کے لیے آئے ہیں، کب واپس جائیں گے، کیا لے کر جائیں گے؟ یہ چند سوالات ہیں جو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے- مجھے متحدہ اپوزیشن کے اس مارچ کو لاہور اور بعد ازاں اسلام آباد میں کور کرنے کا موقع ملا- اب میں اس مارچ کو اپوزیشن کا آزادی مارچ کہوں تو بات جچتی نہیں آزادی مارچ وہ میلہ ہے جس کے روح رواں مولانا فضل الرحمن ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے کنٹینر میں اندر جانے کا موقع ملا ان سے بات بھی ہوئی- میرے سوال پر کہ کس کا استعفی لینے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا ''یہ ناجائز حکومت ناجائز حکمران ہیں جو دھاندلی کے ووٹ سے برسراقتدار آئی ہے، یہاں پر تاحد نظر عوام کا سمندرہے، عوام کا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت ہو، عوام کی حقیقی نمائندگی کی حامل حکومت ہو، فراڈ الیکشن کی بنیاد پر حکمرانی کو عوام تسلیم نہیں کرتے۔ میں نے پوچھا آپ کے مارچ اور پی ٹی آئی کے دھرنے میں کیا مماثلت ہے؟

انہوں نے کہا ہمارا عمران خان کے 126 دن کے دھرنے سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔ ہم اس کی کوئی پیروی نہیں کررہے، ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ انہوں نے 126 دن کا دھرنا دیا ہم بھی دیں گے، نہ یہ کہہ رہے کہ وہ ڈی چوک گئے ہم بھی جائیں۔ کوئی مماثلت نہیں ہے۔ ہم نے پورے ملک میں 15 ملین مارچ کیے، اس سے فضا ء بنی اور یہ عوام یہاں اپنی سوچ کے تحت آئی ہے- میں نے بالاخر مولانا سے پوچھ ہی لیا ''صرف عمران خان کا استعفی لے کر چلے جائیں گے؟ جس پر ان کا جواب تھا کہ وزیراعظم عمران خان کااستعفیٰ آغاز ہوگا، وزیراعظم کے استعفے کے بعد اسمبلیوں کی تحلیل اور دوبارہ انتخابات کا شیڈول سامنے لانا پڑے گا- میرے اس سوال پر کہ آپ کی پارٹی کے لوگ تو مہینوں کا راشن ساتھ لائے ہیں آپ نے انہیں کیا ہدایات دی ہیں، آپ کے کیا ارادے ہیں؟

جس پر مولانا مسکرا کر کہنے لگے ''اس سے آپ ان (کارکنان) کے ارادوں کا اندازہ لگائیں - میڈیا سے کوئی شکوہ ہے کہ سوال پر انہوں نے کہا میڈیا پر قدغن لگائی لگائی گئی ہے ہم اس لیے ان کے ساتھ ہیں - مگر میڈیا سے شکوہ ہے کہ وہ ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کرتے ہیں اور جانبدار رہتے ہیں - آزاری مارچ کے کنٹینر جس پر مولانا فضل الرحمن، شہباز شریف سمیت اپوزیشن قیادت تھی اس کنٹینر کی چھت کافی کمزور تھی یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کی تقریر سے پہلے بہت سے قائدین کو سٹیج سے اتار دیا گیا تھا۔ یہ کنٹینر ن لیگ کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ شہباز شریف کی آمد پر مولانا نے انہیں کنٹینر پر ہی سبز رنگ کا کپڑا گفٹ کیا جس کلمہ لکھا ہوا تھا جسے شہباز شریف نے خوشی سے کاندھے سے لگا لیا تھا۔ سیکرٹری جنرل جمیعت علماء پاکستان شاہ اویس نوارنی جب کنٹینر پر ٹہل رہے تھے تو انہیں جے یو آئی ف کے رہنما راشد محمود سومرو نے بتایا کنٹینر کی چھت کمزور ہے اس کے گرنے کا خدشہ ہے۔ آزادی مارچ کی کوریج سے خواتین میڈیا ورکرز کو روکنے پر سوشل میڈیا کی تنقید کے چرچے کنٹینر پر بھی رہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے مولانا غفور حیدری کو مشورہ دیا کہ میڈیا کی جو بھی خاتون آپ کے کنٹینر پر آنا چاہے اسے آنے دیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی مارچ کے کنٹینر کی چھت کے اوپر اور نیچے خواتین اینکرز اور رپورٹرز کی اچھی تعداد تھی۔ مارچ کے پنڈال میں عجیب وغریب منظر تھا جیسے ہی سٹیج سے نماز کا اعلان ہوتا چند منٹوں میں صفیں ترتیب پاجاتیں۔ کوئی بھگڈر دیکھنے میں نہیں آئی جلسہ گاہ کے ارد گرد اپنی مدد آپ کے تحت شرکاء نے کیمپ اور بڑی تعداد کھلے آسمان تلے بیٹھی ہے۔ یہ لوگ خود اپنا کھانا بناتے ہیں آپ جلسہ گاہ میں جائیں تو کہیں لوگ آپ کو روٹیاں بناتے ملیں گے، کہیں چاول تیار ہورہے ہوں گے تو کہیں قہوے کا دور چل رہا ہوتا ہے۔ اس اجتماع کی صورت تبلیغی اجتماع کی طرح منظم نظر آتی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ شہباز شریف کی تقریر سے پہلے مسلم لیگ ن کے کارکنان کہیں سے سٹیج کے قریب آگئے مگر یہ تعداد میں اتنے کم تھے کہ بڑے اجتماع میں ان کا نظر آنا مشکل تھا۔ مرکزی سٹیج پر نواز شریف، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، آفتاب شیر پاؤ، آصف زرداری، اویس نورانی، حاصل بزنجو، محموداچکزئی کی تصاویر سے سجایا گیا تھا مگر شہباز شریف کی تصویر نہیں لگائی گئی تھی۔ اس سے بڑھ کر جو کنٹینر ن لیگ کی جانب سے تیار کروایا گیا تھا اس پر مریم نواز، کیپٹن ر صفدر، لاہور سے ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر کی تصاویر تو تھیں مگر صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی تصویر نہیں تھی۔ مولانا کی تقریر نے مارچ کو گرما دیا تھا اسی طرح بلاول بھٹو سٹیج سے عمران خان کے خلاف نعرے لگواتے رہے۔

جیل سے رہا ہونے والے مفتی کفایت اللہ کی تقریر سے پہلے مارچ کے شرکاء نے ان کا کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ ایچ نائن جس جگہ مارچ کے شرکاء موجود ہیں وہاں اور اطراف کے علاقوں میں نیٹ سروس بند کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی باتوں سے لگتا ہے وہ کچھ طے کر کے آئے ہیں مگر ابھی تک انہوں نے سارے پتے اپنے سینے سے لگا رکھے ہیں، مگر ڈر یہ ہے انہیں جو کنٹینر دیا گیا ہے اس کی چھت کمزور ہے شاید وہ یہ بوجھ برداشت نہ کرپائے۔