1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ابنِ فاضل/
  4. انمول خزانے خوابیدہ وارث

انمول خزانے خوابیدہ وارث

ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک دوست تشریف لائے۔ ساتھ ایک پھلوں کی ٹوکری تھی۔ کچھ دیر گفتگو اور ضروری کام نمٹانے کے بعد جاتے ہوئے کہنے لگے یہ آپ کے لیے تحفہ ہے ہمارے علاقے کے خاص آم ہیں۔ دیکھا تو سبز رنگ کے عام سے آم لگے جیسا کہ لنگڑا آم ہو۔ شکریہ ادا کیا توکہنے لگے یہ بہت ہی خاص آم ہیں۔ انہیں پنیالہ کے آم کہتے ہیں۔

پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ایک قصبہ ہے۔ جہاں یہ خاص آم پیدا ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا ان کی کیا خاصیت ہے۔ کہنے لگے ان کی خوشبو بہت زبردست ہوتی ہے اس وجہ سے یہ منڈی میں تھوک میں پانچ ہزار روپےمن سے زائد قیمت میں فروخت ہوتے ہیں۔ میں نے اشتیاق سے سونگھا۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم،  یقیناً میں نے ساری حیات گذشتہ میں ایسی زبردست دلفریب خوشبو نہیں سونگھی تھی۔

کہنے لگے لیکن ان آموں کے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔ ان کی عمر دودن ہے۔ یہ پھٹ جاتے ہیں۔ غور کیا تو ان میں سے کچھ واقعی بہت پھولے ہوئے تھے کہ ابھی پھٹ جائیں گے۔ گھر لاکر چکھا ہے۔ انتہائی زبردست ذائقہ اور رنگ۔ اور خوشبو کا تو پہلے تذکرہ ہوہی چکا۔ اتنا زبردست اور نایاب تحفہ پانے کے بعد میں افسردہ بیٹھا ہوں۔ دیکھیں اگر ایسی منفرد شے جاپان میں ہوتی، تو شاید اس کو علم وآگہی اور محنت سے وہ دنیا میں دوسو ڈالر فی کلو بیچ رہے ہوتے۔

اگر ایسی دلفریب خوشبو والے آم فرانسیسیوں یا ترکوں کے پاس ہوتے تو شاید اب تک اس کے ایسینشیل آئل کا شمار دنیا کی بہترین خوشبوؤں میں ہوتا اور ایک ہزار ڈالر فی اونس بک رہا ہوتا۔ چینیوں نے اس کی خوشبو کسی دوسرے آم میں کہ جس کی لائف زیادہ ہوتی ڈال کر اسے ساری دنیا میں مشہور کیا ہوتا۔ مگر۔۔ ہم بس پانچ ہزار روپے من بیچ کر بالکل مطمئن بلکہ خوش ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس ہی ڈھکی نام کا علاقہ ہے۔ جہاں کی کھجور ڈھکی کھجور کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بالیقین آج تک جتنی اقسام کی کھجور بھی کھائی ہیں بشمول مبروم اور ایرانی۔ سب سے زیادہ مزیدار ڈھکی ہے۔ سائز بھی بہت زبردست ہے۔ مگر ہماری کم اعتمادی کی وجہ سے اس کا نام ہی نہیں۔ اس بارے میں بھی میری یہی رائے ہے کہ اس پر حکمت اور سنجیدگی سے کام کیا جائے تو دنیا کو ایک زبردست سوغات کی صورت متعارف کروائی جاسکتی ہے۔

دنیا بھر میں لوگ اپنی کم آمیز اشیاء کی ایسی پیشکش کرتے ہیں، ایسی ایسی ڈاکومنٹریز بناتے ہیں کہ سچ میں دنیا میں بھر پور اشتیاق پیداہوجاتا ہے اور ان کی اشیاء کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ جبکہ ہماری اشیاء تو حقیقت میں نایاب ہیں، آئیں اپنی اشیاء پر اعتماد کریں ان کے متعلق علم حاصل کریں۔ ان پر کام کریں، انہیں دنیا بھر سے بہترین طریقے سے متعارف کروائیں۔ قدرت ہمیں نوازنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے مگر ہمارا انتخاب شاید ابھی مفلسی ہے۔ مگر انشاءاللہ یہ زیادہ دیر نہیں رہے گا۔