1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ابنِ فاضل/
  4. اذن حاضری

اذن حاضری

غالباً انیس سو اناسی کا مون سون تھا۔ میں نو، دس برس کا رہا ہوں گا کہ سائیکل چلانا سیکھنے کا شوق ہوا، شوق کیا ہوا جنون ہو گیا۔ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے بس ایک ہی دھن۔ سکول سے آتے ہی بستہ ایک طرف پھینک سائیکل پکڑ اور یہ جاوہ جا۔ ماں جی آوازیں دیتی رہتیں کہ پتر پہلے کچھ کھاتو لے… مگر دھن کے آگے بھوک کیا بیچتی ہے۔

ہمارا گھر اس وقت کےشہر کے مضافات میں تھا۔ گو اب یہ وسطِ شہر ہے۔ جیسا عمومی منظرنامہ ہوتا ہے ایسی جگہوں کا، چھدرے چھدرے گھر کچھ مکمل اور کچھ زیرِ تکمیل اور باقی خالی پلاٹ اور سڑکیں یا سڑکوں کے نشانات، بالکل ایسا ہی تھا ہمارا محلہ۔

اس روز بادل کھل کے برسا تھا اور سارا محلہ ایک بڑی سی جھیل میں تبدیل ہو گیا تھا۔ کیا سڑکیں اور کیا پلاٹ سب پانی ہی پانی۔ لیکن دھن تو دھن ہوتی ہے، مجھے توبس سائیکل چلانے کی مشق کرنا تھی۔ سو سائیکل لی اور زیرِ آب سڑکوں پہ مشق شروع، کچھ دیر تو خیریت رہی لیکن پھر کسی کمزور گھڑی ایک دو جھٹکے اور دھڑام نیچے۔ گو یہ درجنوں بار کا گرنا اور اٹھنا اس مشق تدریس کا حصہ تھا لیکن آج معاملہ معمول سے ہٹ کر تھا۔ کہ نیچے بارش کا پانی اور کیچڑ تھا سو پہلی بار گرنے پر ہی سارے کپڑے اور سارا جسم بارش کے پانی اور کیچڑ میں لت پت ہوگیا اور مجبوراً سائیکل سواری کی مشق ادھوری چھوڑ کر گھر جانا پڑا۔

کیچڑ میں لت، گھر کی دہلیز پار ہی کی تھی۔۔ کہ ماں جی کی للکار سنائی دی۔ 'وے چھوٹے ایک پیر نہ آگے ودیں '۔ ماں جی حسبِ عادت برآمدہ کا فرش چمکا رہی تھیں۔ اور میں وہیں ساکت۔ اگلے حکم کا منتظر۔ پھر بڑے بھائی کو آواز دی۔۔ ' اینوں پائپ پھڑا تے ٹوٹی کھول'۔ اور بھائی نے مجھے پانی والا پائپ پکڑایا جو فرش کی دھلائی کے لیے باہر نل سے ہمیشہ متصل رہتا تھا۔ میں نے دہلیز پر کھڑے کھڑے سارا کیچڑ دھویا تب ازنِ داخلہ مرحمت ہوا۔ وقت کا بے رحم چرخ ایسا گھوما کب بڑے ہوگئے خبر نہیں۔ لیکن یہ بات ہمیشہ ازبر رہی کہ کیچڑ میں لت ہو تو گھر میں داخل نہیں ہونا۔

بچپن سے جوانی کی اس تدریج میں ہم نے بہت سی دیگرتبدیلیوں کے ساتھ معاشرہ میں مجموعی معاشی آسودہ حالی کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔ اور اس آسودہ حالی کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے ہاں عمرہ کرنے کا ایک چلن سا ہوگیا ہے۔ جب بھی کوئی دوست عمرہ کیلئے جاتے ہوئے یا واپسی پر آکرملتا ایک ہوک سی دل میں اٹھتی کہ کبھی ہم بھی دربار رسول کے دہلیز نشیں ہوسکیں گے۔ آن کی آن میں میرے اندر سے کوئی 'میں ' نکل کر مقابل آجاتا۔ اور مخاطب ہوتا۔ یہ غلاظت کی پوٹ اور وہ مبارک مقام۔۔ یاد ہے نا وہ بچپن کا واقعہ۔۔ کیچڑ زدہ کو تو ماں گھر میں نہیں گھسنے دیتی۔ اپنے دفتر اعمال پر نگاہ پڑتی اور دل بیٹھ سا جاتا۔ آس کی کشتی مایوسی کے بھنور میں ڈوب جاتی۔

اس دن مگر عجیب ہوا۔ کسی ہمدم دیرینہ نے مدینہ کے تحائف بھجوائے۔ پھر وہی کسک۔۔ پھر وہی مکالمہ… تیرے جیسا غلیظ اور شاہِ دوجہاں کا مہمان۔۔ مگر اب کے کسی نے جیسے اندر سے بغاوت کردی۔ کہ ہم ایسے گناہگاروں کا پھر کون آسرا ہے۔ کہ ایک الرحم الراحمین اور دوسرا رحمت اللعالمین۔۔ اور عاصی و گنہگار فقط رزق نار۔ نہیں نہیں ایسا سوچنا بھی کفران رحمت ہوگا۔۔

رات تک روح وبدن کی عجب کشمکش رہی۔ تب رات گئے ناجانے کتنے عرصہ بعد مصلہ بچھایا اور صلوٰۃ عشاء ادا کی۔ نہیں معلوم کب کیسے رحمتِ ایزدی کے رحمت نل سے طلب کا پائپ لگادیا گیا۔ ندامت کے آنسوؤں کی جھڑی کب لگی اور کب تھمی۔۔ کتنی غلاظت دھلی اور کتنی بچی کچھ پتہ نہیں۔ بس یہ معلوم ہے کہ رات کے پچھلے پہر جب آنکھ کھلی تو مصلہ پر ہی لیٹا تھا۔

صبح معمول کے مطابق ناشتہ کیا اور فیکٹری جانے کی تیاری کرنے لگا۔ ایک دوست کا فون آیا۔ گھر میں ہی ہو۔۔؟ عرض کیا جی۔۔ کہنے لگا آتے ہوئے پاسپورٹ لیتے آنا ہم عمرہ کیلیے جارہے ہیں۔