Sunday, 15 September 2019
/ مہمان کالم / جاوید چوہدری / فیصلے کی گھڑی آپہنچی

فیصلے کی گھڑی آپہنچی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹاف نے 15 اگست کو وزیراعظم عمران خان کے عملے سے رابطہ کیا، وزیراعظم نتھیا گلی میں تھے، صدر ٹرمپ عمران خان سے فوراً بات کرنا چاہتے تھے لیکن وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر اسلام آباد پرواز کے لیے تیار تھا، عملے نے تھوڑا سا وقت مانگا، وائٹ ہاؤس سے دوبارہ رابطہ کیا گیا، پاکستانی اسٹاف نے بتایا، وزیراعظم موسم کی خرابی کی وجہ سے نتھیا گلی سے واپس نہیں آ سکے۔

صدر ٹرمپ کے اسٹاف کو وزیراعظم کا موبائل نمبر دے دیا گیا لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا یہ کال سیکرٹ ہے، ہم کسی موبائل فون نمبر پر کال ٹرانسفر نہیں کر سکتے، وزیراعظم اور صدر دونوں لینڈ لائن نمبر پر ہی بات کریں گے، اس وقت تک شام ہو چکی تھی، وزیراعظم کو اسلام آباد پہنچانا مشکل تھا چناں چہ 16 اگست جمعہ کادن طے ہو گیا۔

وزیراعظم آفس پہنچ گئے اور یوں صدر ٹرمپ اور عمران خان کا براہ راست رابطہ ہوگیا، میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو ایک اور نقطہ بھی بتاتا چلوں، آپ کو یاد ہو گا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں عمران خان سے ملاقات کے دوران دو امریکی مغویوں کا ذکر کیا تھا اور وزیراعظم نے امریکی صدر سے وعدہ کیا تھا ہم ان کی رہائی کے لیے کوشش کریں گے۔

طالبان کی حراست میں موجود مغویوں میں پہلا شخص کیون کنگ ہے، یہ ساٹھ سال کا پروفیسر ہے، امریکن یونیورسٹی کابل میں پڑھاتا تھا، یہ 7 اگست 2016ء کو اپنے آسٹریلوی پروفیسر دوست ڈاکٹر ٹموتھی ویکس کے ساتھ یونیورسٹی سے گھر جا رہا تھا، طالبان نے دونوں کی گاڑی روکی، افغان سیکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کو بھاگ جانے کا حکم دیا اور یہ دونوں کو اغواء کر کے کسی نامعلوم مقام پر لے گئے یوں اغواء ہونے والوں میں ایک امریکی اور دوسرا آسٹریلین ہے، طالبان نے 11 جنوری 2017ء کو دونوں پروفیسرز کی ویڈیو جاری کر دی۔

پروفیسروں نے ویڈیو میں صدر ٹرمپ سے مدد کی درخواست کی، آسٹریلین پروفیسر ڈاکٹر ٹموتھی ویکس نے آسٹریلوی وزیراعظم سے بھی اپیل کی، اکتوبر 2017ء میں پروفیسر کیون کنگ کی ایک اور ویڈیو ریلیز کی گئی، پروفیسر اس ویڈیو میں بیمار اور خستہ حال دکھائی دے رہا تھا، امریکا اور آسٹریلیا یہ دونوں پروفیسرز رہا کرانا چاہتے ہیں لیکن طالبان ان لوگوں کے عوض اپنے سات لوگ مانگ رہے ہیں، طالبان کے مطلوب لوگوں میں ملا انس حقانی پہلے نمبر پر آتے ہیں، ملا انس" حقانی نیٹ ورک" کے بانی مولوی جلال الدین حقانی کے صاحبزادے اور امیر مولوی سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں، ملا انس کو اکتوبر 2014ء میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب یہ بحرین سے قطر جا رہے تھے۔

یہ گرفتاری کے بعد افغانستان کے حوالے کر دیے گئے تھے، طالبان کی فہرست میں باقی چھ لوگ کون ہیں؟ یہ نام تاحال خفیہ ہیں، ہم یہاں یہ سوال اٹھا سکتے ہیں امریکا سات طالبان دے کر اپنے دو یا تین مغوی واپس کیوں نہیں لے لیتا؟ امریکا نے یہ سات مغوی طالبان اہم اور فیصلہ کن مذاکرات کے لیے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، میں یہ نقطہ سمجھانے کے لیے آپ کو ایک بار پھر ماضی میں لے جاؤں گا، طالبان نے 2009ء میں ایک امریکی سارجنٹ بو بر گ ڈاہل کو اغواء کر لیا تھا، یہ اپنے بیس سے باہر نکلا، بھٹک گیا، اغواء ہوا اور مختلف لوگوں سے ہوتا ہوا طالبان تک پہنچ گیا، طالبان نے اس کے بدلے امریکا سے اپنے دس لیڈرز مانگے، پانچ سال مذاکرات ہوتے رہے یہاں تک کہ یکم جون 2014ء کو امریکابر گ ڈاہل کے بدلے پانچ طالبان لیڈرزرہا کرنے پر تیار ہو گیا۔

یہ پانچ لیڈرز طالبان کے ڈپٹی انٹیلی جینس چیف عبدالحق واسق، بلخ اور لغمان کے گورنر نور اللہ نوری، طالبان آرمی کے چیف آف اسٹاف محمد فضل، طالبان کے وزیر داخلہ خیر اللہ خیر خواہ اور طالبان کے کمیونی کیشن چیف محمد نبی عمری شامل تھے، یہ لیڈرز گوانتانا موبے میں بند تھے اور یہ کتنے اہم ہیں آپ اس کا اندازہ مارچ 2019ء میں دوحہ میں افغان، طالبان اور امریکا مذاکرات سے لگا لیجیے، یہ پانچوں لیڈرز ان مذاکرات میں شامل ہوئے، امریکا نے یہ پانچ لیڈرز رہا کرنے کے بعد "بیلنس" قائم رکھنے کے لیے اکتوبر 2014ء میں ملا انس حقانی کو گرفتار کر لیا اور طالبان نے امریکا کو بلیک میل کرنے کے لیے اگست 2016ء میں پروفیسر کیون کنگ اور پروفیسر ٹموتھی کو اٹھا لیا اور یوں سودے بازی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ہم اب 16 اگست 2019ء کی طرف واپس آتے ہیں، صدر ٹرمپ نے ٹیلی فون پر عمران خان سے پوچھا، آپ نے ہمارے دو مغوی رہا کرانے تھے، وزیراعظم نے جواب دیا، طالبان ہماری بات نہیں مان رہے، یہ اپنے سات لوگ چھڑوائے بغیر آپ کے لوگ واپس کرنے کے لیے تیار نہیں، ٹرمپ نے اس پر کہا، وزیراعظم تین کے بدلے سات کا سودا ٹھیک نہیں، آپ ان سے کہیں یہ ریزن ایبل بات کریں، عمران خان نے اس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی بات چھیڑ دی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا ہم افغانستان میں آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کے دوست مودی نے مشرقی سرحد گرم کر دی، ہمارے پاس اب افغان بارڈر سے اپنی فوجیں واپس بلا کر انڈین بارڈر پر تعینات کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، ہم زیادہ انتظار نہیں کر سکتے، ٹرمپ نے کہا، آپ مودی سے بات کیوں نہیں کرتے، عمران خان کا کہنا تھا، ہم ٹرائی کر چکے ہیں لیکن وہ بات نہیں کرنا چاہتا، صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا آپ مجھے تھوڑا سا وقت دیں۔

میں اس سے بات کرتا ہوں اور وہ اس کے بعد آپ کو فون کرے گا، ہم آپ کو یہاں ایک اور نقطہ بھی بتاتے چلیں، نریندر مودی تین سال سے اپنے اتحادیوں کو یہ تاثر دے رہا ہے افغانستان میں امن کے بعد تمام مجاہدین مقبوضہ کشمیر اور بھارت کا رخ کر لیں گے اور یہ انڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، وہ یہ بات بار بار صدر ٹرمپ کے کانوں میں ڈال رہا ہے، مودی نے عمران خان کے 20 جولائی کے امریکا کے وزٹ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا اور آرٹیکل 370 ختم کر دیا۔

امریکا کی طرف سے جب اعتراض اٹھایا گیا توحکومت نے دہلی میں موجود امریکی سفیرکینتھ جسٹر کو یہ بتایا "آپ لوگ افغانستان سے نکل رہے ہیں، آپ کے جانے کے بعد وہ لوگ جنھوں نے آپ کی ناک میں دم کر دیا تھا وہ ہماری طرف آ جائیں گے، ہم آپ کے جانے سے پہلے اپنی سرحدیں محفوظ بنانا چاہتے ہیں"میرا ذاتی خیال ہے نریندر مودی صرف یہاں تک محدود نہیں رہنا چاہتا، یہ موقع کا فائدہ اٹھا کر لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد بھی بنوانا چاہتا ہے اور اس پر لوہے کے تار بھی لگوانا چاہتا ہے اور یہ وہ ثالثی ہے جس کا عندیہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جولائی کو عمران خان کے ساتھ میٹنگ میں دیا تھا یعنی آزاد کشمیر پاکستان کا اور مقبوضہ کشمیر انڈیا کا۔

ہم ایک بار پھر ٹیلی فون کال کی طرف آتے ہیں، ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان 20 منٹ بات ہوئی، ٹرمپ نے اس کے بعد سوموار 19اگست کو نریندر مودی سے 30 منٹ بات کی اور پھر عمران خان کو دوسری کال کی، مودی نے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعے صورت حال کو 5 اگست کی پوزیشن پرواپس لانے کا وعدہ کر لیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان ہفتہ 24 اگست کو ملاقات ہو گی، بھارت اس ملاقات کے بعد سفارتی تعلقات اور پاکستان سے تجارت بھی بحال کر دے گا اور مذاکرات بھی شروع ہو جائیں گے لیکن پاکستان کو مذاکرات سے پہلے ایف اے ٹی ایف کی ساری شرائط پوری کرنا ہوں گی اور شرائط میں شامل کسی ایک نقطے کی خلاف ورزی سے یہ سارا عمل ضایع ہو جائے گا، یہ مذاکرات اب ڈونلڈ ٹرمپ کرائیں گے اور یہ گارنٹر بھی بنیں گے۔

ہم اب یہ سوال کر سکتے ہیں کیا یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے، میرا خیال ہے ہاں، مسئلہ کشمیر کے حل کا وقت آ چکا ہے، پاکستان میں کشمیر کے پانچ اسٹیک ہولڈر ہیں، پاک آرمی، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی جیسے چھوٹے سیاسی گروپس، جنرل پرویز مشرف 2007ء میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے حل تک پہنچ گئے تھے، صدر کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز اور بھارت کے پاکستان میں ہائی کمشنر شیوشنکرمینن نے ڈرافٹ بھی تیار کر لیا تھا بس اعلان باقی تھا لیکن عدلیہ بحالی کی تحریک چلی اور یہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ "کشمیر اکارڈ" کو بھی بہا لے گئی، جنرل مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی، یہ بھی اس معاملے میں جنرل مشرف کی حامی تھی، صدر آصف علی زرداری اور من موہن سنگھ کے درمیان بھی معاملات بہت آگے بڑھ گئے تھے۔

میاں نواز شریف بھی 1999ء میں واجپائی اور 2017ء میں مودی کو اس فارمولے تک لے آئے تھے، عمران خان بھی تیزی سے اس حل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جنرل باجوہ بھی افغانستان اور کشمیر کا مسئلہ حل کر کے معیشت پر توجہ کے حامی ہیں بس جماعت اسلامی اور چھوٹے گروپس بچے ہیں، یہ بھی بہت جلد صورت حال کو سمجھ جائیں گے چناں چہ مسئلہ کشمیر بڑی تیزی سے "سیٹل منٹ" کی طرف بڑھ رہا ہے بس ایک رکاوٹ ہے اور وہ رکاوٹ ہے مقبوضہ کشمیر کے نوجوان، یہ کرفیو کے بعد کیا کرتے ہیں، یہ فیصلہ آنے والے تمام فیصلوں کا مقدر طے کرے گا۔

بہرحال آج نہیں تو کل سہی فیصلہ یہی ہو گا، آزاد کشمیر پاکستان کا، مقبوضہ کشمیر ہندوستان کااور یہ فیصلہ اگر نہ ہو سکا تو پھر ایٹمی جنگ فیصلہ کرے گی اور وہ فیصلہ کتنا خوف ناک ہو گا ہم اور آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے، ہماری حماقت حشر کو زمین پر لے آئے گی، زمین کے اندر سوراخ ہو جائے گا اور آدھی دنیا بخارات بن کر فضا میں تحلیل ہو جائے گی۔

جاوید چوہدری

جاوید چودھری پاکستان کے مایہ ناز اور معروف کالم نگار ہیں۔ ان کے کالم اپنی جدت اور معلوماتی ہونے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ وہ نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہیں۔ جاوید چودھری "زیرو پوائنٹ" کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور ٹی وی پروگرام ”کل تک“ کے میزبان بھی ہیں۔ جاوید چوہدری روزنامہ جنگ کے کالم نگار تھے لیکن آج کل وہ روزنامہ ایکسپریس اور ایکسپریس نیوز ٹیلیویژن سے وابستہ ہیں۔