1. ہوم
  2. کالمز
  3. خالد زاہد
  4. طاقت کا توازن اور پائیدار امن

طاقت کا توازن اور پائیدار امن

دنیا کو تصادم کی جانب دھکیلنے کی کوئی نا کوئی وجہ موجود رہتی ہے، گزشتہ دو دہائیوں سے مشرق اور مغرب کے مابین تصادم کرانے اور اسے بڑھانے کی ہر ممکن کو ششیں کی جاتی رہی ہیں۔ یہاں اولین ترجیح درپردہ اسلام اور دیگر مذاہب کے مابین تصادم کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے اور کچھ نہیں تو اسلامی ریاستوں کو آپس میں لڑانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ ان کوششوں کو تاریخ میں مختلف نامو ں سے یاد رکھا جائے گا، جن میں سب سے اول نمبر پر اقتدار یا پھر سوچ کی تبدیلی کے حوالے سے کی جانے والی سازشیں۔

اس کی کیا ضرورت تھی، اس کی ضرورت اسے تھی جو طاقت کومتوازن نہیں رکھنا چاہتے اور اپنی طرف رکھنا چاہتے ہیں اور ایک ملک کی بجائے ساری دنیا پر حکومت کے خواہ ہیں۔ لیبیا میں کرنل قذافی، عراق میں صدام حسین اور اردن میں شاہ حسین اسی طرح سے دیگر مسلم ممالک میں اقتدار کو منتقل کرنے کی کوششوں میں ملکوں کوہر ممکن طور پر تباہ و برباد کردیا اور اب وہ ممالک اپنی ناتواں معیشت کو بچانے کیلئے پھر سے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کیلئے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں جو بظاہر اب ممکن ہوتا نہیں دیکھائی دیتااس سارے عمل میں یہاں طاقتور اور طاقتور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

بڑی ہی عجیب منطق ہے کہ جنگیں امن کیلئے لڑی جاتی ہیں گویا امن کسی خاص کو مقصود ہو اور وہ اپنا امن قائم رکھنے کیلئے دوسرے پر جنگ مسلط کردے۔ غزہ کے معصوم بچوں کو کس بے رحمی سے شہید کیا گیا کیونکہ وہ اسرائیل کے مستقبل کیلئے خطرہ بن سکتے تھے اور اسرائیل کے بچوں کو امن فراہم کرنے کیلئے فلسطین کو یکطرفہ جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ ایران میں جنگ جہاں سے شروع ہوئی وہ بھی بچیوں کے ایک اسکول پر کیا جانے والا حملہ تھا، جہاں معصوموں کو شہید کر دیا گیا۔

دنیا نے طاقت کے اس توازن کو ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ سے پہلے تک تسلیم کرلیا تھا لیکن جب ایران نے بھرپور مذاہمت کا مظاہرہ کیا اور بڑھ چڑھ کر دشمن پر حملے کئے تو دنیا کو محسوس ہوا کے ایران کو تر نوالا سمجھنا بہت بڑی بھول تھی۔ یہاں بین الاقوامی طاقتوں نے بھی اس مسلط کی گئی جنگ کی مخالفت کی اور شائد یہ پہلی دفعہ ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اکیلے ہی اس محاظ پر لڑنا پڑا۔ آج جہاں ہم ذرائع ابلاغ کے دور میں زندہ ہیں، حقائق کو پھر بھی منظر عام پر نہیں لانے دیا جاتا اور نئی نسل کو سطحی معلومات میں الجھا کر خوب گھسیٹا جاتا ہے یعنی حالات کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔

نویں صدی عیسوی میں اسلحہ کی ایجاد کا آغاز ہوا اور باقاعدہ موجودہ طرز کی بندوقیں سولویں صدی عیسوی میں معرض وجود میں آئیں۔ اسلحہ ہمیشہ اپنے حفاظت یا دفاع کیلئے بنایا جاتا ہے۔ جب اسلحہ ایجاد کیا گیا ہوگا تو ایجاد کرنے والے نے طاقت کے توازن کا سمجھیں ایک پیمانہ ترتیب دے دیا۔ پھر ایٹم بم کی تخلیق نے اس پیمانے کی حد کردی، اس سے آگے اس صلاحیت کی مقدار ہے یعنی کس ملک کے پا س کتنا طاقتور اور موثر ایٹم بم ہے۔ اول تو یہ معاملہ تھا کہ کس کے پاس کون سا اسلحہ ہے پھر یہ مشکل آگئی کہ کس کے پاس کتنا اسلحہ ہے۔ پھر ایک باضابطہ اقوام عالم نے ایک بین الاقوامی ادارہ بنایا جو اسلحہ کی روک تھام کیلئے سرگرم کیا گیا کہ اب اسلحے کی اس بڑھتی ہوئی دوڑ کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اقوام عالم کو مزید اسلحہ بنانے یا جمع کرنے سے روکے۔ لیکن جو طاقتور تھے وہ مزید طاقتور ہوتے چلے گئے۔

پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جو مسلسل امن و امان کی بقاء کیلئے داخلی اور بیرونی دشمنوں سے عرصہ دراز سے لڑ رہا ہے۔ پاکستان اور پاکستانی امن و آشفتی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی اس انتہائی گھمبیر جنگ کو اپنی سفارتی بصیرت، تدبر اور بردباری سے بغیر حلیف یا حریف بنے امن میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ جسکے لئے 10 اپریل بروز جمعہ کا متبرک دن چنا گیا ہے۔ یہ تاریخ سنہری حروف میں رقم ہونے جارہی ہے اور اللہ کی مدد سے پاکستان کی ان نتھک کوششوں کی بدولت ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے، جہاں دنیا کی تاریخ ایک اور بہت بڑا معاہدہ ہونے والا ہے۔ اس دن پاکستان نے اپنی سفارتی اوردفاعی قوت کی بدولت ساری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔

یہ تاریخی معاہدہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے جس میں ایران اور امریکہ کے وفود باقاعدہ جنگ نا کرنے اور مل بیٹھ کر مسائل کا حل کرنے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کریں گے۔ یہاں چین، ترکی اور مصر کی کوششوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ہر ممکن سفارتی تعاون فراہم کیا۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ دنیا جو عرصہ دراز سے یک قطبی طاقت کا مظہر تھی اب سے طاقت کا توازن برابر ہوجائے گا۔ ابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔ کیا دشمن واقعی دنیا میں امن کا خواہاں ہے یا پھر کچھ اور۔

پاکستان اللہ رب العزت کی طرف سے عطاء کردہ اس کرہ عرض پر کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہے اور نعمت کو اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اس نعمت کا خالق نا چاہے، اس نعمت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے قدرت نے کس کے ذمے کیا کام لگایا ہے یہ ہم اسی وقت جان پاتے ہیں جب وہ کام سرانجام پا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی، دفاعی قیادت اور وہ تمام افراد جن کی ہمہ جہت جدوجہد کی بدولت امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کو جو تیزی سے تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہونے جا رہی تھی، رکوادیا۔

پاکستان کا نام آج دنیا کہ ہر ذرائع ابلاغ پر نمایاں طور پر پڑھا جاسکتا ہے، تقریباً دنیا نے اس جنگ کے رکنے کو نا امریکہ اور نا ہی ایران کی فتح قرار دیا بلکہ سب پاکستان کی جیت کی بات کر رہے ہیں۔ دشمنوں کے سینے میں آگ کا آتش فشاں پھٹا پڑا ہوگا، ہم ہمیشہ سے دشمن کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن ہمیں اور بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی اس قائم کی گئی بالادستی کو کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے۔ اللہ ہمیشہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔