1. ہوم
  2. کالمز
  3. میاں منظور حسین
  4. ریاست کی تباہی
Manzoor Hussain

ریاست کی تباہی

ملک تباہ کیسے ہوتے ہیں
جہاں بولنے
تنقید کرنے
آزادی رائے کا اظہار
کی آزادی نہ ہو وہاں تعمیری سوچ نہیں پنپتی جہاں تعمیری سوچ نہ وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے مسلسل تبدیل ہوتے رہنا زندگی کی علامت ہے ٹھہرائو جمود موت کی نشانی ہے
ملک معاشرے اس لئے تباہ نہیں ہوتے کہ وہاں مضبوط فوج نہیں تھی بلکہ اس لئے تباہ ہوتے ہیں کہ وہاں تعمیری سوچ نہیں پنپنے دی جاتی
مثال کے طور
قیصر قصری 4 لاکھ فوج والے تباہ ہوگئے
عراق کے پاس مضبوط فوج تھی پھر بھی تباہ ہوگیا
مصر کے پاس فوج تھی پھر بھی تباہ ہوگیا
اگر نہیں تھی تو آزادی رائے کا اظہار تنقید اور کھل کر بولنے کی آزادی نہیں تھی۔
مصر عراق میں جو میڈیا کو آرڈر تھا دکھا دیتا تھا جتنی اجازت تھی بول دیتا تھا جتنا بولنے دکھانے کی آزادی تھی اس سے آگے قوم کو اندھیرے میں رکھاجاتا آج دونوں تباہ ہیں۔
آج یہی حال ہمارا ہے بولنے تنقید کرنے اپنے نظریات کی پرچار کی آزادی نہیں جو آزادی کا حق استعمال کرکے بولتا ہے اسے اٹھا لیا جاتا ہے چاہے وہ سیاسی لیڈر ہو یا سیاسی کارکن یا سوشل وکر میڈیا ورکر یا عام پاکستانی۔
اگر ملک کو مضبوط کرنا ہے تو بولنے کی آزادی ہونی چاہئے تنقید کرنے کی کھل کر سننے کی برداشت بھی ہونی چاہئے۔
جب قوم کا مورال بلند نہ ہو اور معاشرے کو لگے کہ ہمیں دبایا جارہا ہے تو وہاں اندر ہی اندر ایک آتش فشاں سلگ رہا ہوتا ہے اور کسی وقت کا منتظر ہوتا ہے جب پھٹ سکے پھر فوج حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔
معاشرے ملک کو مضبوط کرنا ہے تو بولنےدو تنقید کرنے دو اس سے آپ کی اصلاح ہوگی وہ کامیاب ہوجاتا ہے جو اپنے اوپر ہوانے والی تنقید برداشت کرلیتا ہے
لحاظہ سب کو بولنے دو آزادی کے ساتھ۔
پاکستان کو کامیاب ہونے دو خدارا رحم کرو پاکستان پر۔