عید پر نئے نوٹوں کی خوشبو عید کے پکوان سے زیادہ مسحور کن ہوتی تھی۔ کیا زمانہ تھا وہ بھی جب ہم عید پر نئے نوٹوں کی عیدی لیتے بعدازاں دیتے تھے۔ شکر ہے کینیڈا میں اس رسم سے جان چھوٹی۔
نئے نوٹوں کی خوشبو بھی خوب ہوتی ہے جیسے غریب کی جھولی میں خوش فہمیوں کا پرفیوم۔ حکومت جب بھی عید پر نئے نوٹ چھاپتی ہے، لگتا ہے عیدی نہیں، "نوٹ فٹنس پروگرام" چل رہا ہے۔ کرارے کرارے، بالغ، ان چھوئے نوٹ۔
اب اے ٹی ایم نے وہ خوشی بھی چھین لی جو ہر بینکار کو ہر سال عید پر اپنے رشتےداروں سے نصیب ہوتی تھی۔ وہ منت کرتے تھے چار گڈی ہمارے لئے بھی رکھ دو۔ روزے کے آخری عشرے کسی بینک منیجر سے ملنے چلے جاؤ تو بغیر پوچھے بتا دیتا تھا کہ دس روپے والی صرف ایک گڈی بچی ہے۔ اب دس روپے کے نوٹ کو بھکاری بھی نہیں پوچھتا۔
عیدی کے نئے نوٹ دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کاغذ واقعی سب کچھ سہہ لیتا ہے، یہاں تک کہ معیشت بھی۔ نوٹوں پر قائداعظم مسکرا نہیں رہے، شاید وہ سوچ رہے ہوں: "یہ قوم اب بھی عیدی کے نوٹوں پر خوش ہے؟"
نئے نوٹ کا ملنا ایسے سمجھا جاتا تھا جیسے شادی کی بریانی میں گوشت کا مل جانا۔ بچےصرف نئے نوٹ نہیں چاہتے، سیریل نمبر پر بھی جھگڑا کر بیٹھتے تھے۔ اب ایسے جھگڑے صرف عورتیں ٹی وی سیریل پر کرتی ہیں۔
چاہے بچے جتنے نئے نوٹ جمع کرلیں، عیدی ایک ہفتے کے بعد والد کے جیب سے ہی نکلتی تھی، ماہانہ سودا سلف کی خریداری کے بعد۔ دکاندار بھی جملہ چست کردیا کرتا تھا "ماشاءاللہ ایک ماہ کا راشن بچوں کی عیدی سے آگیا"۔