Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / نصرت جاوید / میرا دل ہے کہ مانتا نہیں

میرا دل ہے کہ مانتا نہیں

افتخار عارف صاحب نے ہجرت کے حوالے سے ایک شاندار شعر کہہ رکھا ہے۔ اس کی بلند آہنگی چونکادیتی ہے۔ وہ شعر پورا پڑھ لینے کے بعد مگر دل میں اداسی کی وہ کیفیت اُمڈ آتی ہے جسے ترکی کے ناول نگار اورحان پامک نے ’’حُزن‘‘ کہا ہے۔ اس لفظ کا انگریزی متبادل اورحان کی تحریروں کا ترجمہ نگار ڈھونڈ نہ پایا۔ اُردو کی خوش قسمتی کہ ’’حُزن‘‘ اس کے ہاں بھی اسی کیفیت کو بیان کرتا ہے جو ترکی زبان فراہم کرتی ہے۔ استنبول شہر کو جب اورحان ’’حُزن‘‘ کی علامت یامجسم اظہار کہتا ہے تو مجھ ایسوں کو سمجھ آجاتی ہے۔ 

افتخار عارف کا شعر مگر یاد نہیں آرہا۔ شاید ’’ہماری ہجرت کیا‘‘ کے سوال پر ختم اور رزق کی تلاش سے شروع ہوتا ہے۔ رزق کی مجبوری ہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں بھی اکثر اپنے بارے میں ’’ہماری صحافت کیا‘‘ والا سوال اٹھانے کو مجبور ہوجاتا ہوں۔ میرے چند مستقل پڑھنے والے اگرچہ اس گماں میں مبتلا ہیں کہ میں کوئی ’’نظریاتی‘‘ یا ’’اصولی‘‘ نوعیت کا کالم نگار ہوں۔ جمہوری نظام کا حامی ہوں۔ ریاستی اداروں پر عوام کے منتخب نمائندوں کی بالادستی کا قائل اور غالباََ اپنی سوچ کے اعتبار سے کشادہ دل اور ترقی پسند وغیرہ۔ اپنے چاہنے والوں کے دل میں موجود اس غلط فہمی کو جھٹلانے کی لیکن مجھے ہمت نہیں۔ 

’’کمپنی کی مشہوری‘‘ کے لئے بھی شاید اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کالم لکھتے ہوئے مصیبت مگر یہ آن کھڑی ہوئی ہے کہ ذکر مولانا فضل الرحمن خلیل کا ہونا ہے۔ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی ایک نشست سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے اسد عمر صاحب کے مصدقہ مانے فیس بک اکائونٹ سے منگل کی شام اعلان ہوا کہ خلیل صاحب ان کی جماعت میں ’’شامل ہوگئے‘‘ ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ ایک تصویر بھی چسپاں تھی جس میں اسد عمر صاحب اور مولانا خلیل تحریک انصاف کے انتخابی دفتر میں مسکراتے ہوئے موجود تھے۔ 

فضل الرحمن خلیل صاحب کی تحریک انصاف میں شمولیت کے اعلان نے میرے کئی ’’لبرل‘‘ دوستوں کو جنہیں عمران خان صاحب مستقلاََ ’’خونی‘‘ پکارتے ہیں حیران کردیا۔ سوشل میڈیا پر رولا مچ گیا۔ فضل الرحمن خلیل صاحب کی ’’تاریخ‘‘ بیان ہونا شروع ہوگئی۔ حضرت کا ماضی میں ہوئے مبینہ طورپر چند ’’دہشت گردی‘‘ کے واقعات سے تعلق کا ذکر بھی۔ امریکہ کی جانب سے جاری ہوئی وہ فہرست بھی گردش میں آگئی جس میں مولانا کا نام بین الاقوامی طورپر ’’متحرک‘‘ گردانے دہشت گردوں کیساتھ ڈالا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر چھائے اس رولے کی وجہ سے اسد عمر صاحب کی میڈیا ٹیم نے اپنے اولین اعلان میں تھوڑی ترمیم کرکے وضاحتی انداز میں سمجھا دیا کہ مولانا فضل الرحمن خلیل تحریک انصاف میں باقاعدہ شامل نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے فقط علمائے کرام کے ایک وفد کے ساتھ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار اسد عمر کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف کے ’’لبرل‘‘ مخالفین کی مگر تسلی نہ ہوئی۔ رولا مچاتے رہے۔ عجب اتفاق یہ بھی ہوا کہ منگل ہی کی صبح جب میں اپنے فون کو Vibrate موڈ پر رکھے اپنا کالم لکھ رہا تھا تو میز پر گھوں گھوں کی جنبش طاری ہونا شروع ہوگئی۔ کالر کا نمبر میرے Contacts میں شامل نہیں تھا۔ فون اٹھانے کو مگر مجبور ہوگیا۔ ہیلو کیا تو دوسری جانب سے ایک مہذب خاتون نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ وہ اسد عمر صاحب کی انتخابی ٹیم کی نمائندہ ہیں۔ یہ کہنے کے بعد انہوں نے بغیر لگی لپٹی کے پوچھا کہ میں 25 جولائی کو کس امیدوار کو ووٹ دوں گا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اپنے پیشے کی مجبوریوں کی وجہ سے میں ووٹ کاسٹ نہیں کرپاتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ 25 جولائی کے دن میں اسلام آباد میں موجود ہی نہ ہوں۔ میرا جواب حاصل کرنے کے بعد مگر انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ میرے گھر والے کسے ووٹ دیں گے۔ میں نے نہایت ایمان داری سے انہیں بتایا کہ مجھے تو یہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ میری بیوی دوپہر یا شام کے کھانے کے لئے کیا پکوارہی ہے۔ اکثر یوں بھی ہوا کہ میں سوکر اٹھتا ہوں تو وہ فون کرکے بتاتی ہے کہ اپنے کام کے لئے مردان یا کسی اور قریبی شہر میں ہے اور شام تک گھر لوٹ آئے گی۔ مجھے کیا خبر وہ کسے ووٹ دے گی۔ 

یہ جاننے کے بعد بھی وہ خاتون مجھ سے یہ جاننے پر مصر رہیں کہ میرا اسدعمر صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے۔ میرا صبر اب جواب دے رہا تھا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ شاید وہ جنرل عمر صاحب کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے 1970 کے انتخابات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ خاتون میرا جواب سمجھ نہ پائیں۔ ایک اور سوال داغ دیا کہ میرے گھر کا ایڈریس کیا ہے۔ ’’کیا غنڈے بھیج کر مروانا ہے؟‘‘ کہتے ہوئے میں نے فون بند کرکے میز پر پٹخ ڈالا۔ یہ واقعہ بتانے کا مقصد صرف اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ اسدعمر صاحب کی انتخابی مہم بہت منظم انداز میں چلائی جارہی ہے۔ ان کی انتخابی ٹیم کے پاس ان کے حلقے کے ووٹروں کے موبائل نمبرز بھی ہیں اور وہ ان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اسد عمر صاحب کو یہ تفصیلات کیسے ملیں؟ اپنی جگہ ایک سوال ہے۔ اس کی انتظامی صلاحیتوں کا مگر ایک ٹھوس ثبوت بھی ہے۔ 

اسدعمر صاحب کی ان صلاحیتوں کو جنہیں Corporate Wisdom بھی کہا جاسکتا ہے ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ انہیں خوب علم تھا کہ تحریک انصاف کے وہ دشمن جنہیں عمران خان صاحب ’’جنونی لبرلز‘‘ پکارتے ہیں، مولانافضل الرحمن خلیل کی تحریک انصاف میں ’’شمولیت‘‘ یا دیگر علمائے کرام کے ساتھ اس جماعت کی حمایت کے اعلان کے بعد کیا محسوس کریں گے۔ اسدعمر صاحب نے یہ ’’شمولیت‘‘ یا حمایت‘‘ بہت سوچ سمجھ کر قبول کی ہوگی۔ ’’تحریک انصاف کے کئی دوستوں کا خیال ہے کہ 25 جولائی کے بعد ان کی جماعت نے وفاقی حکومت بنائی تو اسدعمر صاحب اس میں وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھال لیں گے۔ یہ منصب سنبھالنے کے بعد انہیں FATF سے بھی پاکستان کو ’’گرے‘‘لسٹ سے نکلوانے کے لئے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ میرے ’’لبرل‘‘ دوستوں کو گماں ہے کہ فضل الرحمن خلیل کی جانب سے تحریک انصاف میں ’’شمولیت‘‘ یا دیگر علمائے کرام سمیت اسدعمر صاحب کی حمایت کا اعلانFATF کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مزید مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے۔ میرادل ہے کہ مانتا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اسدعمر صاحب نے اس ضمن میں ٹھوس پیش بندی کے بعد ہی فضل الرحمن خلیل صاحب کی ’’شمولیت‘‘ یا ’’حمایت‘‘ کو مسکراتے ہوئے قبول کیا ہے۔ مجھے اسد عمر صاحب کی انتظامی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ سے Deal کرنے کا مناسب طریقہ ہی شاید یہ ہے کہ شمالی کوریا کے صدر کی طرح میز پر ایٹم بم کا ماڈل رکھ کر چند ٹویٹ لکھے جائیں۔