Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / نصرت جاوید / کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا

کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا

یہ بات بالکل درست ہے کہ امریکہ میں ان دنوں ریاستی فیصلہ سازی کے حوالے سے جو ماحول چل رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے روایتی سفارت کاری پاکستان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ 

ڈونلڈٹرمپ ایک شخص نہیں رویے کا نام ہے۔ اس رویے کی تشکیل امریکی سفید فام اکثریت کے دلوں میں کئی دہائیوں سے اُبلتے غصے نے کی ہے۔ نام نہاد گلوبلائزیشن اس غصے کی اصل بنیاد ہے۔ امریکی سفید فام اکثریت بہت شدت سے یہ محسوس کرتی ہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد مارکیٹ کو خدا مان کر ان کے حکمران طبقات نے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے بجائے چین ایسے ممالک میں سرمایہ کاری کی۔ وہاں کی سستی لیبر کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اشیائے صرف کے بے تحاشہ برانڈز تیار کرنے کے لئے استعمال کیا۔ ان برانڈز کی فروخت کے لئے دُنیا کو گلوبل ویلج میں سکیڑ کر عظیم تر بازار بنادیا گیا۔ ساتھ ہی یہ فرض بھی کرلیا گیا کہ فقط طلب ورسد کی بنیاد پر بنائے رشتے انسانوں کو مذہبی، لسانی اور قومی تفریق سے رہائی دلاکر Global Citizens میں تبدیل کردیں گے۔ یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ لوگوں کو اپنی قومی اور مذہبی شناخت گلوبل ویلج کے وسیع تر بازار کے انبوہ میں بلکہ بہت شدت سے یاد آنا شروع ہوگئی ہے۔ برطانیہ ایسا ملک جو صدیوں سے بہت محتاط اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ فیصلے کرنے کی شہرت رکھتا تھا Brexit کے نعرے کے ساتھ یورپی یونین سے تخت یا تختہ کے انداز سے لڑے ریفرنڈم کے ذریعے الگ ہوگیا۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا Brexit ورژن ہے۔ اس کا نعرہ ہے America First۔ اس کا مطلب میری ناقص رائے میں ”امریکہ صرف سفید فام امریکیوں کے لئے“ ہے۔ جن کی اکثریت مسیحی مذہب کے اس مسلک کے ساتھ دیوانگی سے وابستہ ہے جو حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ اس دنیا میں نمودار ہونے کی شدت سے منتظر ہے۔ امریکی سفید فام اکثریت کے دلوں میں کئی دہائیوں سے اُبلتے تعصبات کو بھڑ کاتا ہوا ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں بہت خطرناک نظر آیا تھا۔ کئی لوگوں کو یہ بھی محسوس ہوا کہ قوم پرستی کے جذبات ابھارتا یہ شخص دورِ حاضر کا ہٹلر ثابت ہوسکتا ہے جو عوامی تعصبات کو یکجا کرکے دنیا بھر میں تباہی پھیلادے گا۔ 

خوش فہم افراد نے اگرچہ بہت خلوص سے ہمیں یاد دلانے کی کوشش کی کہ ٹرمپ نے عراق پر جنگ مسلط کرنے کی پُرزور مخالفت کی تھی۔ وہ امریکہ کو باقی دنیا میں Nation Building اور وہاں جمہوری نظام پھیلانے کے لئے استعمال کرنا نہیں چاہتا۔ اس کی حقیقی خواہش بلکہ یہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور عراق کے بکھیڑوں سے جان چھڑا کر ملکی معیشت کو سنوارنے پر توجہ دے تاکہ وہاں کی سفید فام اکثریت کو نوکریاں ملیں۔ امریکہ میں خوش حالی پھیلے اور وہاں نئی سڑکوں اور ریلوے کے جال پھلیں۔ ٹرمپ کی بڑھک بازی کو نظرانداز کرتے ہوئے ہمیں یاد یہ بھی رکھنا چاہیے کہ بنیادی طورپر وہ ایک کاروباری آدمی ہے اور سیٹھ لوگ جنگوں سے گھبراتے ہیں۔ سودے بازی سے کام لیتے ہوئے جنگوں کو ٹالنے کے لئے ہر طرح کے سمجھوتوں کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ 

ایسے خوش فہم لوگ اس وقت بہت خوش ہوئے جب ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد میٹس اور میک ماسٹر جیسے پڑھاکو جرنیلوں کو اپنا وزیر دفاع اور مشیر برائے قومی سلامتی مقرر کیا۔ وزارتِ خارجہ کے لئے اس نے ایک ایسی آئل کمپنی کے سربراہ کو چنا جس کے مفادات دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس کمپنی نے روس پر یوکرین کی وجہ سے لگائی پابندیوں کے باوجود سائبریا میں تیل کی تلاش کے لئے خطیر سرمایہ کاری کی گنجائش نکالی تھی۔ ٹرمپ کو ان تعیناتیوں کے حوالے سے دورِ حاضر کے ممکنہ ہٹلر کے بجائے ایک ہوشیار Deal Maker کے طورپر دنیا کے سامنے Project کرنے کے بہانے مل گئے۔ 

اپنے وزیر دفاع جنرل میٹس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے لیکن اب باقی سب افراد کی تذلیل آمیز لہجے میں چھٹی کروادی ہے۔ ریکس ٹیلرسن کی جگہ سی آئی اے کے چیف کو لایا گیا ہے جو فقط گولی کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ میک ماسٹرکی جگہ اب جان بولٹن کو مشیر برائے قومی سلامتی تعینات کردیا گیا ہے۔ 

ٹرمپ کے برعکس بولٹن عراق پر جنگ مسلط کرنے کا شدید حامی رہا تھا۔ وہ اتنے برس گزرجانے کے بعد بھی اس ضمن میں اپنائے رویے پر نظرثانی کو تیار نہیں۔ شمالی کوریا اور ایران اس کی نظر میں امریکی فوجی قوت کے بھرپور استعمال کے بغیر ”بندے کے پتر“ بن ہی نہیں سکتے۔ خوش فہم لوگ لہذا اب گھبرائے ہوئے ہیں۔ ان میں سے دیانت دار افراد بلکہ کھل کر اعتراف کررہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو سمجھ نہ پائے۔ انہیں اعتبار آگیا ہے کہ ٹرمپ جو کہتا ہے اسے ہر صورت کردکھانے کو بے چین بھی رہتا ہے۔ 14 مہینوں کی نسبتاََ قلیل مدت میں امریکی صدر کا یکے بعد دیگرے تین افراد کو مشیر برائے قومی سلامتی کے منصب پر فائز کرنا اس کی بے چینی کا بین ثبوت ہے۔ اسے Results چاہیے Results۔ اپنی خواہش کا بھرپور اطلاق۔ 

ٹرمپ کی اپنی بات پر ڈٹے رہنے اور مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی ضد سے ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے میں بہت پریشان ہوں۔ گزشتہ سال اگست میں افغانستان کے بارے میں اپنی ”نئی پالیسی“ کا اعلان کرتے ہوئے اس نے ہمارے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا انہیں بھول نہیں پاتا ہوں۔ 2018 کا آغاز بھی اس نے دنیا کے کسی اور ملک کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں مخاصمانہ جذبات پر مبنی ٹویٹ کے ذریعے کیا تھا۔ 

ٹرمپ کے دل میں شدت سے پاکستان کے بارے میں کھولتی مخاصمت کا مگر ہمارے میڈیا میں مناسب انداز میں تذکرہ نہیں ہوتا۔ Do More کے جواب میں ہم No More کہتے چلے جارہے ہیں۔ مسلسل اس گمان میں مبتلا کہ ہمارا No More ٹرمپ کو اس کی اوقات میں رکھے گا۔ میری عاجزانہ درخواست ہے کہ بولٹن کی تعیناتی کے بعد ہمیں اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ 

سوال مگر یہ بھی اُٹھتا ہے کہ مذکورہ غور کہاں ہو؟۔ کسی جمہوری ملک میں یہ غور عوام کی منتخب کردہ پارلیمان میں ہوا کرتا ہے۔ ہماری پارلیمان مگر 2014 سے ”چوروں اور لٹیروں“ کی آماجگاہ بنی دکھائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وزارتِ خارجہ ہوتی ہے اور ہماری وزارتِ خارجہ کو یہ خبر تک نہیں ہوتی کہ اس کا وزیر اعظم امریکی نائب صدر سے ملا ہے اور مذکورہ ملاقات میں واشنگٹن کی پاکستان ایمبیسی میں تعینات ہمارے ڈیفنس اتاشی بھی موجود تھے۔ ان دو اداروں سے بالا قومی سلامتی کے ادارے ہیں۔ 80 کی دہائی سے اہم ترین فیصلے وہیں ہوتے ہیں۔ ہم نے اس حقیقت کو جس کا کام اسی کو ساجھے سمجھ کر دل وجان سے قبول کرلیا ہے۔ چند روز قبل 30 سے زیادہ بہت ہی سینئر اور عوام میں بے تحاشہ مقبول صحافی اور اینکر خواتین وحضرات ”ان“ سے ملتے ہیں تو دنیا جہاں کی باتیں تین سے زائد گھنٹوں تک جاری رہتی ہیں۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستان کے بارے میں نمودار ہوتی امریکی حکمت عملی اور اس سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنائی ہماری حکمت عملی پر لیکن کوئی Focused گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ خبر ضرور آتی ہے کہ علی جہانگیر صدیقی کی بطور سفیر برائے امریکہ نامزدگی کو پسند نہیں کیا گیا۔ اب احتساب بیورو اس نامزد سفیر کی خبر لے گا۔ یہ سوال میرے قنوطی ذہن میں تاہم اپنی جگہ موجود رہے گا کہ علی جہانگیر صدیقی کا ”کڑا احتساب“ ٹرمپ انتظامیہ سے معاملات طے کرنے میں کتنا مدد گار ثابت ہوگا۔ 

”ہورہے گا کچھ نہ کچھ“ شاعرانہ رویہ تو ہوسکتا ہے لیکن ریاستی پالیسی نہیں۔ امریکہ کے بارے میں ان دنوں ہماری ریاستی پالیسی کیا ہے میں اس کے بنیادی خدوخال کے بارے میں بھی قطعی لاعلم ہوں۔ کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔