1. ہوم
  2. غزل
  3. صائمہ عروج
  4. صائمہ عروج بٹ
Saima Arooj Butt

صائمہ عروج بٹ

دل نے دیکھے ہیں ارادے زیست کے
موت بھی اب زندوں میں کہاں آتی ہے

بےبسی ایسی کہ وحشت کا ہے جنگل
دشت میں پیاس کو آنسو کی زباں آتی ہے

شکست آرزو ہے اک درد بے خود
داستاں یہ از روے خواں آتی ہے

خرد نے پاے ہیں ویرانیوں کے اتھاہ بحر
یہ وہ عہد ہے جسے تشکیل بتاں آتی ہے

رنگ اور روپ جوانی سے ایستادہ ہیں
عشوہ و غمزہ سے تجدید فغاں آتی ہے

اے قلب ژولیدہ! تیرے اقرار وفا پر قرباں
اک تبسم کی ادا بہ سر اشک نہاں آتی ہے

بے ارادہ اداے ناز۔۔ منشاےعروج نہ تھی