1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. سید علی ضامن نقوی/
  4. شامِ غریباں، امت کا اجرِ رسالت

شامِ غریباں، امت کا اجرِ رسالت

رسول ص نے اپنی امت سے اجرِ رسالت مانگا تھا اور امت نے بدلے میں شامِ غریباں دی۔ 

تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں آپکو رسول ص کبھی کسی کے آگے دستِ سوال دراز کرتے نظر نہیں آتے یہاں تک کہ اپنی تمام تر کارِ رسالت ص کی انجام دہی کے بعد جب آپکی رخصت کا وقت قریب تھا آپ نے اپنے پروردگار کے حکم کے تحت اپنی امت کو کہا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا سوا یہ کہ میرے قرابتداروں سے مودت رکھنا۔ 

رسول ص نہ جانے اس مودت کا مطلب کیا رکھتے تھے، مگر امت نے اس کا مطلب کبھی مدینے میں بیٹی کے گھر کے دروازے کو جلانا سمجھا تو کبھی جمل جانا، کبھی صفین، کبھی کوفہ میں سرِاقدس پر تلوار کا وار  کیا جانا کبھی روزہِ رسول ص کے باہر جنازہ پر تیر چلانا جانا تو کبھی کربلا کی تپتی ریت پر لاشوں پر گھوڑے دوڑانا جانا۔ یہاں تک بھی امت نہ رکی اجرِ رسالت ص مکمل نہیں ہوا تھا اس لیے رسول ص کی گھر کی بیبیوں کے خیموں کو آگ لگا دی گئی اور جب وہ روتے چیختے چھوٹے بچوں کو سنبھالے باہر نکلیں تو ان مخدراتِ عصمت کے سروں پر سے ردائیں چھین لی گئیں۔ اور آلِ رسول ص کی لاشیں جو تپتی ریت پر پڑیں تھیں ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے، تو یہ تھا وہ اجرِ رسالت ص جو رسالت ماب آ کو آپ ص کی امت نے دیا۔ 

ِاک محمد ص دشمنی کیا کیا قیامت ڈھا گئی

بدر کی جنگ بڑھتے بڑھتے کربلا تک آ گئی

حسین ع سے بدلے لیے جا رہے تھے کن اعمال کے وہ جو آپ ع کے بڑوں کے تھے۔ 

رسول ص کا بدلہ حسین ع سے

ابو طالب ع کا بدلہ حسین ع سے

علی ع کا بدلہ حسین ع سے

بی بی پاک س کا بدلہ حسین ع سے

حسن ع کا بدلہ حسین ع سے

ایک طرف دشمن اپنی بھرپور دشمنی کے ساتھ تھا اور دوسری طرف حسین ع استقامت اور عزم و حوصلہ کے کوہِ گراں تھے۔ 

جنگ نہ کی لیکن سر بھی نہ جھکایا۔ کتنا مشکل ہے اختیار رکھتے ہوئے استعمال نہ کرنا۔ 

پانی کا نہ ملنا ایک حقیقت تھی مگر پورا مقتل پڑھ لیجیے بڑے سے بڑے سے لیکر سب سے چھوٹے تک کو دیکھ لیں کسی نے بھی مولا ع سے بیعت کر لینے کا مشورہ نہیں دیا۔ کربلا وہ مقام ہے جہاں موت چھوٹی اور مقصد عظیم نظر آتا ہے۔ کربلا وہ مقام ہے جہاں کردار کی عظمت نے موت کو موت دے دی اور مقصد کو ابدیت عطا کر دی۔ 

ظم کی انتہا شامِ غریباں ہے۔ جی وہی رات جب امت نے اپنے رسول ص کو اپنے انداز میں اجرِ رسالت ص عطا کیا۔ 

کہتے ہیں یہ رات قیامت کی رات تھی۔ جلے ہوئے خیمے۔ چہار سو بکھڑی لاشیں، ادھر بھائی کی لاش کے ٹکرے تو ادھر باپ کی لاش پڑی۔ درمیان میں روتے بلکتے بچے۔ کھلے آسمان تلے بے آسرا مائیں۔ دشمنِ دیں نے سوچا تھا جو ظلم اس نے شہروں آبادیوں سے دور روا رکھا اس کی داستان انہی ریت کے ٹیلوں میں دفن ہو جائے گی مگر اسے کیا معلوم تھا

جب چپ رہے گی زبانِ خنجر

لہو پکارے گا آستیں کا

آج پوری دنیا میں لبیک یا حسین ع کی صدائیں ہیں، لفظِ یزید لعین گالی بن چکا ہے۔ تم نے شامِ غریبان برپا کی آلِ رسول ص پر یہ تمہارے اجرِ رسالت ص دینے کا طریقہ تھا۔ ہم مجلسِ شامِ غریباں برپا کرتے ہیں ذکرِ حسین ع کرنے کے لیے۔ پوری رات ذکرِ حسین ع کرتے ہیں روتے ہیں آلِ رسول ص کی مظلومی کا تذکرہ کرتے ہیں ان کے دشمنوں پر لعنت کرتے ہیں یہ ہمارا طریقہ ہے شامِ غریباں کا۔ 

ذکرِ حسین علیہ السلام پر کسی ایک قوم قبیلے کی اجارہ داری نہیں ہے یہ کل انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ جنازوں کی دعوت نہیں دی جاتی لوگ خود شریک ہونے آتے ہیں۔ شامِ غریباں بھی آلِ رسول ص اپنے پیاروں کے جنازوں پر بیٹھے ہوتے ہیں دیکھتے ہیں کون کون ان کے غم میں شریک ہونے آتا ہے۔ آپ کو ہندو سکھ بھی تعزیے نکالتے نظر آئیں گے۔ آپ کو کربلا میں مسیحی بھی سلام کرنے حاضر ہوتے دکھیں گے۔ 

یہ طاقت ہے حق کی۔ خدا نے اپنے کلامِ پاک مین فرمایا تھا 

تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ 

اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ 

 ے شک آج زمانے میں کسی کا سر سربلند ہے تو حسین ع کا ہے اور ذلت کسی کا مقدر بنی تو وہ دشمنِ حسین کی مقدر بنی۔