1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. طاہر احمد فاروقی/
  4. بھارت کیلئے خطرہ جان آزادکشمیر اور گندہ پانی

بھارت کیلئے خطرہ جان آزادکشمیر اور گندہ پانی

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد ہر طرف حالات واپس معمول کی جانب تبدیلی کے خیالات کے ساتھ گامزن ہیں مگر سیاست اور اس سے منسلک عوامل کی دلچسپیاں قائم ہیں ‘ جس کا اظہار اور نظر آتے رہنا زندہ تعمیری تقاضے ہیں ‘ جس کا سب حقیقت پسندانہ ادراک کرتے ہوئے ملک و ملت کو بہتری کی جانب گامزن کرنے ‘ پرعزم سفر باندھ لیں تو سونے پر سہاگہ ہو جائے جس کے خو ش آئند اثرات نظر آ رہے ہیں ‘ پیپلز پارٹی جس کے شریک چیئرمین کی ن لیگ سے مفاہمت نے اسے سندھ تک دھکیل دیا اس کے چیئرمین بلاول بھٹو کی طرف سے اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی طرح حلف نہ اُٹھانے احتجاج کرنے کے ن لیگ ارو اس کے ہمنواؤں کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن فریضہ سرانجام دینے کی تجویز کو سب کو تسلیم کرنا پڑا ہے ‘ یہی قومی فکر و عمل ہے جس کا اظہار بانی صدر سردار ابراہیم مرحوم کی برسی کی تقریب سے وزیراعظم فاروق حیدر نے کرنا چاہا مگر اپنے اُستاد سردار سکندر حیات خان کی طرح ادھورے جملے غیر منسلکہ موضوعات کا رگڑہ دیتے ہوئے دھاگے کو اُلجھا کر گنجھل بنانے کی عادت جاتے نہیں جاتی ہے اپنے محسن مربی سے وفا شعاری اچھے کردار کا چہرہ ہوتی ہے قائد کے حق میں بات کریں جماعتی پالیسیوں ‘ سرگرمیوں کا حق ادا کریں مگر سپریم کورٹ پاکستان نیب سے آپ کا کیا لینا دینا ہے کوہالہ سے آزادکشمیر والی سمت ان کی حدود میں نہیں ہے مگر دوسری طرف جہاں یہاں والوں کا زیادہ وقت گزرتا ہے ان کے دائرہ کار میں ہے ‘ لاہور قائد نواز شریف کے استقبال کے لیے مظفر آباد سے زاہد القمر گاڑیاں بھر کر پہنچ گئے مگر شہباز شریف لاہور سے ایئر پورٹ نہ آ سکے ‘ ان کا فاروق ستار بننے کا کوئی تو پس منظر ہو گا دو سالہ کارکردگی 13 ویں آئینی ترمیم سے لے کر واٹر یوز چارجز صوبہ خیبر پختوان خواہ کے برابر کرانے ترقیاتی بجٹ دوگنا حکومت پاکستان کے محوصلات میں دوگناء اضافہ اور یہاں کے شہریوں کو پاکستان کے شہریوں جیسے حقوق دلانے سمیت بڑے اقدامات خطہ اور عوام کے درخشاں مستقبل کی طرف مضبوط بنیادوں کے حامل کارنامے ہیں جن کے سامنے ستر سالہ ماضی کی تاریخ بے معنی ہو جاتی ہے مگر اب ان کے اثرات سامنے لانے کے لیے توجہ فرمائیں ‘ گڈ گورننس جسٹس ‘ میرٹ ‘ مساوات کی بالادستی ‘ کرپشن ‘ تعصبات مٹانے کی طرف قدم اُٹھائیں جن کی موجودگی میں آئین ‘ اختیار ‘ وسائل سب کچھ وبال جان نہ بن جائیں‘ مقبوضہ کشمیر والوں کا سب کچھ اسلام آباد سے براہ راست وابستہ ہے وہ بھی درمیان میں فطرتی طور پر کسی کو برداشت نہیں کریں گے ‘ آپ اختیار ‘ وسائل کا درست استعمال کرتے ہوئے آزادکشمیر کے قابل فخر مثال بنائیں یہی ان کی خدمت ہے ‘ سردار عبدالقیوم خان مرحوم سے ایک صاحب نے کہا ہماری طرف توجہ فرمائیں تو ان کا کہنا تھا آپ میری نظروں میں ہیں اور یہ ضاحب بے ساختہ کہہ گئے اب مجھے نظروں سے باہر نکالیں پھر وہ ایم ایل اے اور وزیر بھی بن گئے اگر کوئی ایم ایل اے سے لے کر فرد تک شرم حیاء کی لاج رکھتا ہے تو اس کے صبر خاموشی کو استعفیٰ جیسے اقدام پر مجبور کرنا کیسی دیانتداری ہے اکثر پریس فاؤنڈیشن کے کرتا دھرتا کو کہتا ہوں مالیاتی کرپشن جرم ہے اور سیاسی بددیانتی تنظیم ادارے معاشرے نظام کو تباہ کرنے کا ظلم ہے ‘ وزیراعظم سیکرٹریٹ کا سب ہی اطراف کے ایک جاسوسی کردار کا رویہ سبب بن جائے تو پھر دوسروں کو اپنے قائد کی طرح الزام دینا کہاں کی بہادری ہے ‘ 24 کروڑ آبادی والے ملک کی سپریم کورٹ کے 22 لاکھ مقدمات آپ کی ریاست کے تناسب کے حساب سے آٹا میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں ‘ دو سال سے ملازمین احتساب بیورو کے ملازمین کی رٹ پر فیصلہ نہ ہونا اور باضابطہ چیئرمین نہ بنائے جانے کا مطلب کیا ہے، حکومت کی طرف سے پانچ ججز تعیناتی کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے متعلق مقدمات کا ختم نہ ہونا کیا معنی رکھتی ہے، سابق سیکرٹری اکرم سہیل کی دیانت اجلے کردار پر کوئی داغ نہیں ہے ‘ وہ بھی کوٹلی زنگ زدہ پائپوں کے واٹر سپلائی سکیم میں استعمال ڈپٹی کمشنر میرپور 2013 کا مکتوب ناقص استعمال سے پانی زہر بن کر شہریوں کے لیے اقدام قتل ہو گا ‘ سامنے لانے پر مجبور ہونا یا سابقہ حکومتوں کے دوران ایراء کے تحت یہاں کے محکمانہ مافیا کے ساتھ چار ارب کے فنڈز سے واٹر سپلائی سیوریج سسٹم کا ناکام برباد منصوبہ ہو شہر میں ہفتوں کھلے رہنے والے گٹر اور گندگی غلاظت کا پھیلے رہنا یا ماضی کی کرپشن زدہ کونسل کا دوسرا نام بلدیات کے پائپوں کا گورکھ دھندہ ہو ان سب کے کرداروں پر ہاتھ ڈالنے سے اسٹیبلشٹمنٹ یا عمران خان نے تو نہیں روکا ہے ‘ ایک سرکار کے سابق ولی صفت بیورو کریٹ نے کہا تھا بھارت کبھی آزادکشمیر پر قبضہ نہیں کرے گا کیوں کہ یہاں اخلاقی سیاسی ‘ سرکاری ‘ معاشرتی ‘ مزاجی عادتاً بغض ‘ تعصبات کا اژدھا اپنے پنجے گھاڑے ہوئے ہے یہ بھارت کے ساتھ چلا گیا تو پھر بھارت قائم نہیں رہے گا کیوں کہ سیاسی ‘ اخلاقی ‘ بددیانتی اورتعصبات کے وائرس اس کے وجود میں داخل ہو گئے تو اس کا وجود مٹا دیں گے جن کی رائے سے اختلاف کا کوئی رستہ نہیں ملتا ہے ‘ چاہے بہت پڑھے لکھے کے سر پرصدارت کی دستار بھی سجادی جائے۔ 

الٰہی آبرو رکھنا بڑا نازک زمانہ ہے 

دِلوں میں کوفہ رکھتے ہیں بظاہر مکی ترانہ ہے