1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. طاہر احمد فاروقی/
  4. ترقیاتی بجٹ کے استعمال کا امتحان

ترقیاتی بجٹ کے استعمال کا امتحان

آزادکشمیر کے وزیر اطلاعات تعلقات عامہ مشتاق منہاس نے ایک سال پہلے کابینہ اجلاس کی ایک یا دو بریفنگ کا اہتمام کیا تھا جس کے بعد ایسا لگا ان کا محکمانہ اُمور سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا ہے یا پھر ناراضی چلتی رہی ہے ‘ تاہم ایک سال بعد مدحت شہزاد جرال کے بطور سیکرٹری اطلاعات چارج سنبھالنے کے بعد ان کے ہمراہ کابینہ ترقیاتی کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے بریفنگ کیلئے جلوہ افروز ہوئے مشتاق منہاس بطور ایم ایل اے اپنے حلقہ انتخاب کے عوام سے وعدوں کی تکمیل میں اس طرح غرق ہو گئے جس طرح عاشق محبوبہ کے بغیر کچھ دیکھنا سننا نہیں چاہتا ‘ تاہم بطور وزیر اطلاعات ان کا پھر بریفنگ کیلئے نظر آنا محکمہ کیلئے نیک شگون ہے ‘ جن کا کہنا تھا کہ رولرز ایریا ز میں پانی کے سب سے بڑے مسئلہ کے حل کیلئے پلان تشکیل دیا جا رہا ہے تاہم ان کی طرف سے سالانہ ترقیاتی بجٹ 22 ارب ہو جانے کے بعد پہلے 6 ماہ کی دو اقساط کے فندز غالباً آٹھ ارب کے ستانوے فیصد اخراجات ہونے کا دعوہ کیا گیا ہے ‘ بطور وزیر اطلاعات ان کو جو سرکاری مشینری کی طرف سے اعداد و شمار کے مطابق بریفنگ دی گئی وہی ان کے لیے مسرت کا پہلو ہے مگر یہ سرکاری مشینری کے الفاظ کے گورکھ دھندے کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے ‘ حقیقت میں عملی اعتبار سے باون فیصد ترقیاتی فنڈز کا بروقت استعمال ہو سکا ہے ‘ اور باقی کو بھی محفوظ کرنے کا سلیقہ اختیار کیا گیا ہے ‘ اسلام آباد سے مظفر آباد کو بجٹ فراہم کرنے کا طریقہ چار سہہ ماہی اقساط پر مشتمل ہے ‘ پہلی تین تین ماہ کی دو سہہ ماہی میں 20 بیس فیصد جبکہ تیسری اور چوتھی میں0 3 تیس فیصد اقساط پر مشتمل فنڈز مہیا ہوتے ہیں اور اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کیا حکومت اور سرکاری مشینری 6 ماہ میں باقی چودہ 14 ارب کے عملی و درست بنیادوں پر استعمال ممکن کر سکے گی ‘ درحقیقت آزادکشمیر کا سارا نظام اور اس سے جڑے عوام کا معاشرتی کلچر اس قدر کھوکھلا ہو چکا ہے اب کسی کی باعمل سوچ یا حقیقی اقدامات پر اعتبار کرنا بھی محال ہے ‘ جس کی مثال اسلام آباد کشمیر چوک سے لیکر کوہالہ چکوٹھی تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر تحویل شاہراہ ہے جو ستر سال میں پہلی بار قابل اطمینان حالت میں ہے ‘ تاہم ملک کی باقی شاہرات کی طرح اس کا موسمی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر ٹوٹ پھوٹ وغیرہ کا خیال رکھنا این ایچ اے کیلئے مسئلہ بنا ہوا ہے جس کے پاس چالیس سے پچاس کروڑ کے فنڈز موجود ہیں مگر مقامی کلچر اور انتظامیہ ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے تحفظ تعاون نہ ہونے کے باعث یہ فنڈز ضائع ہونگے حالانکہ فالٹ لائن اورسرکتی زمین ہونے کے باوجود ہو شاہراہ شاندارو قابل اطمینان سفر کا ہونا بڑی کامیابی ہے ‘ جب اس کا یہ مسئلہ ہے تو پھر باقی شاہرات یا پھر مجموعی طور پر ہاؤسنگ سمیت تمام ہی منصوبہ جات جو ریاستی مشینری کے زیر اہتمام ہیں کا کیا حال ہو گا یہ بہت لمبی کہانی ہے ‘ تاہم اگر ساری دنیا بلکہ سارے ملک کی طرح آزادکشمیر میں بھی عالمی قومی معیار کے تعمیراتی فرموں کو لاء کر مقامی کمپنیوں کو ان کے مطابق اپنا معیار قائم کرتے ہوئے مقابلہ کا رحجان قائم کیا جائے ‘ اور بلدیاتی تعمیر کا عمل جو درحقیقت ریئس الاحرار جیسی ڈگریوں کا تماشہ ہے کے بجائے محکموں کو پہرہ داری معاونت کے مینڈیٹ سونپ کر عالمی ‘ قومی معیارکی آئینہ دار تعمیراتی کمپنیوں سے ترقیاتی اہداف کی تکمیل کرائی جائے ‘ سی پیک کے تحت ساڑھے چار سو ارب کے عظیم الشان شاہراتی منصوبے میں آزادکشمیرکا بھی شامل ہونا اور مظفر آباد تا میرپور شاہراہ کا پلان قابل عمل بنا دیا گیا تو پنجاب صوبہ کے پی کے ‘ گلگت بلتستان سے تجارت کا بہت بڑا رُخ یہاں سے ہو کر کم وقت اور کم وسائل میں رواں دواں ہو گا جسے پیش نظر رکھتے ہوئے تعمیراتی سسٹم کا گیئر بدلنا ضروری ہے جو سیاحت ‘ تجارت کے لحاظ سے معاشی انقلاب کا ضامن ثابت ہو سکے جس کے لیے معاشرتی مزاج ‘ رواج میں بھی تبدیلیوں کی تبلیغ لازمی ہے ‘ اگرچہ حکومت اور سرکاری مشینری باالخصوص تعمیراتی عمل سے جڑے محکموں نے پہلی بار رابطہ سڑکات کے نام پر بڑے بڑے فراڈ کا سلسلہ ختم کر تے ہوئے ضلع کو ضلع اور تحصیل کو تحصیل سے ملانے کے شاہرات کے منصوبہ جات پر عمل شروع کیا ہے اسی طرح کے جراتمندانہ اقدامات کے ساتھ بہت محنت اور بارہ کے بجائے چوبیس گھنٹے ڈبل شفٹوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ‘ تب ہی جا کر 22 ارب کے ترقیاتی بجٹ کا ہمیشہ کیلئے تسلسل اور جواز کے ساتھ عملی کردار قائم ہو سکے گا ‘ نیز کوہالہ ‘ جہلم نیلم سمیت آزادکشمیرکی بہترین شاہرات پر بلدیاتی ترقیاتی اداروں کے تحت چونگی ٹیکس وغیرہ کا فضول عمل بند کرکے ٹول ٹیکس عائد کیا جائے جو انہی شاہرات کی مستقل بہتری پر خرچ ہوتا رہے ‘ ورنہ اسلام آباد کے بدلتے سیاسی انتظامی موسموں کا اثر قابل اعتبار نہیں ہوتا ہے اگر بظاہر تھانہ داری مزاج کا برہم چل رہا ہے تو اسے کم از کم تعمیراتی عمل میں اپنا رنگ دکھانا چاہیے تاکہ تھانہ دارروپ کا شرم پردہ ہی رہ جائے۔