Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / طاہر احمد فاروقی / آزادی کشمیر مارچ کے شرکاء کو سلام

آزادی کشمیر مارچ کے شرکاء کو سلام

مقبوضہ کشمیر کے عوام تاریخ انسانیت کی تحاریک آزادی میں قابل فخر باب رقم کرتے ہوئے شہادتوں صبر و استقامت کے کوہ ہمالیہ بنے ہوئے ہیں کہ آج نو لاکھ بھارتی قابض افواج کی طرف سے 64 ایام کرفیو کے ہو گئے ہیں، تمام تر بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دینے کے باوجود یہ 80 لاکھ کشمیری قیدی ثابت کر چکے ہیں کہ بھارت ساری افواج بھی لے آئے تو کشمیریوں کے جذبہ شہادت اور منزل آزادی کے جذبے کو سرد نہیں کر سکتا، یہ ایسی صورتحال ہے جس میں کوئی درد اِنسانیت رکھنے والا انسان تڑپے بغیر نہیں رہ سکتا تو خود آزادکشمیر کے عوام کس طرح چین سے بیٹھ سکتے ہیں جن کے جذبات کے اظہار کا سلسلہ بھی 64 ایام سے مسلسل جاری ہے۔

اہل پاکستان کا مسلم کردار یکجہتی بھی سب سے بڑی نعمت و رحمت ہے۔ تحاریک میں بڑے بڑے حادثے اور پیچھے ہٹ کر آگے بڑھنا جہد مسلسل کی روح بن جاتے ہیں ایک بڑے دورانیے کے بعد 1988 میں لبریشن فرنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں عسکری جدوجہد کو جنم دیا، امان اللہ خان مرحوم کے زیر سایہ حاجی گروپ ح سے شیخ عبدالحمید شہید، الف سے اشفاق مجید وانی شہید، ج سے جاوید میر، ی سے یٰسین ملک کے ناموں کے پہلے حرف کو جوڑتے ہوئے حاجی گروپ بھارتی قابض افواج کے ظلم کیخلاف بغاوت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے آگے بڑھا، تحریک انقلابی رنگ اختیار کرتے ہوئے جہد مسلسل پر گامزن ہوئی جس کے حق میں آزادکشمیر سے لبریشن فرنٹ کی طرف سے 11 فروری 1992 کو سیز فائر لائن توڑ دو کال پر امان اللہ خان کی قیادت میں ہزاروں پرجوش انسانوں کا قافلہ حریت چکوٹھی کی جانب عزم سفر ہوا جس کے نتیجہ میں عالمی، قومی سطح پر اپنی اپنی زندگی کی مصروفیات میں گم ہو جانے والے کشمیری جاگے اور ایک نیا باب رقم ہوا۔

چار اکتوبر کو تمام آزادکشمیر سے چلنے والے جلوس پانچ اکتوبر کو مظفر آباد سے قافلہ بن کر چکوٹھی کی طرف اس تسلسل کو تازہ کرتے ہوئے پیدل چل پڑے ہیں اس بار ڈاکٹر توقیر گیلانی چیئرمین لبریشن فرنٹ آزادکشمیر قیادت کر رہے ہیں اور وہی جوش و جذبہ، حرارت دیدنی ہے جو 1992 میں امان اللہ خان کی قیادت میں تھا، فرق صرف بہت سارے ان عظیم ناموں کی عدم موجودگی کا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں مقصد پر قربان کر دیں یہ گزشتہ 64 دِن کے اظہار یکجہتی کے عالمی ملکی آزادکشمیر کی سطح پر بڑے جلسوں، جلوسوں، ریلیوں سے منفرد حیثیت کا حامل آزادی مارچ ہے جس کا ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بزرگوں، مرد، جوانوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے عقیدت محبت کے جذبات سے استقبال کیا ہے جس کے شرکاء ہر ہر فرد کا جذبہ لائق تحسین ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے عملی بنیادوں پر سیز فائر لائن توڑ کر یکجہتی کا عزم ثابت کرتا ہے۔ سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کے عوام ایک ہیں اور مقصد پر اپنی جان قربان کر دینے کے جذبے سے سرشار ہیں جس کے اظہار کا مظاہرہ کر کے عالمی سطح پر پیغام دینے کے مقصد میں قیادت کامیاب ہو گئی ہے کہ قابض بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کی دھمکیاں دیتا ہے مگر یہاں کے عوام نے مقبوضہ کشمیر کی طرف اپنا رُخ کر کے ثابت کیا ہے کہ آزادکشمیر پر حملہ کا خواب دیکھنے والے ہم خود مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرا کر تمہارے ناپاک قدموں سے وادی کشمیر کو پاک کر کے دم لیں گے۔

قیادتوں کا امتحان ہوتا ہے وہ بڑی سے بڑی قوت کے ساتھ ٹکرا کر اپنے قومی مقصد کیلئے قربان ہو جانے کے جذبے سے قوم کے ہر فرد کو فکری قلبی طور پر ایمان کی طاقت سے منور و تازہ دم رکھے اور اس عزم عہد جذبے کو حکمت کے فریضے پر مکمل اترتے ہوئے سنبھال کر بھی رکھے، اسے کسی بھی قیمت پر ضائع نہ ہونے دے بلکہ وقت کے آنے پر دشمن کو تہہ تیغ کر دینے کیلئے محیط کر دے ہر بیٹے کا یہ فرض اول ہے وہ مال کے تقدس حرمت پر قربان ہو جائے کہ افضل سعادت تصورکرتے ہوئے چاک و چوبند تیار رہے تو ماں، باپ، بڑے بھائی کا یہ فرض ہے وہ اپنے بیٹوں کو اسی حد تک آگے نہ جانے دے جس کے باعث ان کی جدوجہد مقصد کو حاصل تقویت کا تسلسل بڑے نقصان اور قابض ظالم کے لڑکھڑاتے قدموں کو سیڑھی فراہم کرنے کا نادانستہ سامان بن جائے بلکہ اسی جذبے، جوش ولولے کو ہر دم تیار، فوج کی طرح کامیاب نشانے کیلئے انتظار کا نایاب لمحہ آنے تک جاویداں رکھا جائے نہ کہ تاریخ کے صفحوں، مورچوں سے باہر نکل کر اپنی جیت کو ہارے ہوئے دشمن کی فتح میں بدلنے کا ارتکاب کا مرتکب ہوا جائے، جیسے عسکری جدوجہد شروع کر کے دشمن کی طرف سے اس کو غلط رنگ دینے پر بطور حکمت ختم کی گئی تھی۔

بھارت اخلاقی، سیاسی، سفارتی، نفسیاتی، اعصابی ہر طرح سے ہار چکا ہے اب صرف اس کواپنی فوج اور دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کاسہارا ہے ان چٹانوں سے وقت آنے سے پہلے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ سری نگر اور مظفرآباد سے ایک ساتھ قافلے سیز فائر لائن کی طرف بڑھنے کے لمحات کا انتظار کرنا ہے اوراپنے پشت بان ملت پاکستان کے جذبہ انصار کے ساتھ ملکر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے مسلسل جدوجہد کے تقاضوں کو ہر حال میں یقینی بنانا ہے، یہی امان اللہ خان کی ساری زندگی پر محیط تجربات، فہم و فراست پر مبنی کتاب جہد مسلسل کا راز ہے جسے دانشمندی سے آپ نے منزل سے سرفراز کرنا ہے۔