1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. عدنان ملک/
  4. دھرنے سے دھرنے تک مستقبل کا سیاسی منظر نامہ‎

دھرنے سے دھرنے تک مستقبل کا سیاسی منظر نامہ‎

پانامہ کیس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اک اور دھرنہ؟ JIT رپورٹ کیا ہوگی؟ مستقبل کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا؟ یہ وہ سوالات جو ان دنوں وطنِ عزیز میں گرم حماموں سے لیکر ٹیلیویژن چینلز کے گرما گرم پروگراموں تک زیر بحث ہیں۔ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی دنیا و سیاست میں، البتہ حماموں اور پروگراموں کے تجزئے کچھ ذیادہ کامیاب نہیں جا رہے۔

میڈیا کو معلومات کی صورت میں جو کاغذی کاروائیاں دستیاب ہوتیں ہیں وہ اس میں ادارے کی پالیسی کے مطابق ذائقہ پیدا کرنے کیلئے، مقرر کردہ مقدار میں مرچ مسالے شور شرابے کا تڑکا لگا کر عوام کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ میڈیا چونکہ آئینہ ہوتا ہے، اسلئے تمام ٹیلیویژن چینل و اخبارات بالکل شفاف "غیرجانبدار" حقائق کے مطابق رپورٹنگ، معلومات، تجزیوں و تبصروں کے ساتھ صحافت کے مقدس پیشے کی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے ہیں۔ مسلئہ مگر عوام کا ہے، جو ناپسندیدہ حقائق کا "بائیکاٹ" کرتے ہوئے، پھر اپنی اپنی پسند کی عینک اور چینل لگا کر کاغذی کارروائیوں کا بھی اپنا اپنا پسندیدہ ورژن ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

سیاست میں بھی تصوف کی مانند ہر بات کے دو معنی ہوتے ہیں، اک ظاہری جو زبان پر ہوتا ہے، دوسرا باطنی جو پیٹ میں ہوتا ہے۔ ظاہری مفہوم بیان کرتی کاغذی کارروائیوں کے پیچھے، طاقت کے ایوانوں میں چل رہی گیم آف تھرون کے اصل باطنی معاملات، مطالبات اور مذاکرات ہوتے ہیں۔ جس کا علم غیب کھیل میں شامل کھلاڑیوں کو ہوتا ہے، تھوڑا بہت کشف افسر شاہی کو اور ہلکی سی بھنک محلات کی غلام گردشوں کے واقفانِ حال کو۔

10 جولائی کو پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے مقرر کردہ JIT نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ مگر پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست کے مصداق یہ کہانی کا نقطہء اختتام نہیں نہیں بلکے اگلی سیریز کا نقطعہ آغاز ہے۔ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے، سو لوگوں کیلیئے یہ دلچسپ تماشہ جاری رہے۔ پانامہ سیزن کی JIT اقساط کے اختتام پر رائٹر کی طرف سے آگے آنے والی ممکنہ اقساط کی جھلکیوں میں ظفر حجازی کیخلاف کاروائی، حدیبیہ کیس میں قاضی فیملی کی سلطانی گواہی، شریف فیملی کے کچھ معاملات نیب کو بجھوانے اور احتساب و نااہلی کے ریفرنس کے ذریعے کام سے روکنے یا ازخود مستعفی ہونے کا دباؤ ڈالنے کے مناظر شامل ہونگے۔ جواب میں حکومت، جو ایڈووکیٹ اکرم شیخ کی قطری خط والی لوز بال پر سٹیڈیم سے باہر چھکا کھا کر محتاط ہوچکی ہے، اپنے باقی آپشنز ہوشیاری سے کھیلے گی۔ پاکستانی سیاست کے گرگِ باراں دید جانتے ہیں کہ عوامی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے، اسلئے لمبے کھیل میں چمک دمک، رنگ روغن اور آتشبازی سے بھرپور مناظر عوام کو عین اگلے الیکشن کے قریب ہی دکھائے جائیں۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کا بغور مشاہدہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ڈیلوپمنٹ پراجیکٹس کے فیتے کاٹنے سے لیکر شو آف پاور تک، مسلم لیگ ن ابتدا میں سست روی سے ٹُک ٹک اور آخری اوورز میں طوفانی چوکے چھکے لگاتی ہے۔ دھرنا کے پانامہ سیزن کی اگلی اقساط میں آپ کو انکی اب تک خاموش قیادت بھی فرنٹ فُٹ پر شاٹس کھیلتی نظر آئے گی۔ مخالف دھرنا ٹیم کے ساتھ ساتھ بتدریج ہوشیاری سے پرویزمشرف اور ارسلان افتخار کیسز کا سہارا لیکر ایمپائر کو بھی پہلے ہلکی پھلکی فائرنگ پھر توپوں سے داغا جائے گا۔ عوامی ہمدردی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات کو جگایا جائے گا۔ حکومتی پارٹی کے گولہ بارود میں ہائی پروفائل انٹرویوز، محلاتی سازشوں کے راز بے نقاب کرتی لیکس کے علاوہ ایمپائر کے کردار کو اجاگر کرتی کچھ آڈیو ٹیپ بھی شامل ہیں۔

خوشخبری مگر ناظرین کیلیئے یہ ہے کہ مشہورِ زمانہ سسپنس ایکشن تھرلر "دھرنا" کے تیسرے سیزن کا ٹریلر بھی آگے آنے کو ہے۔ عوام سپریم کورٹ، نیب اور الیکشن کمیشن میں سنسنی خیز اتار چڑھاؤ سے بھرپور مناظر سے ضرور لطف اندوز ہوں مگر یاد رہے کہ سیزن ختم وہیں ہوگا جہاں سے شروع ہوا، دھرنے سے دھرنے تک۔۔

پلان B بھی ہمیشہ بنایا ہی جاتا ہے کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور ہر ممکن صورتحال کیلیئے لائحہ عمل طرفین کے پاس موجود ہیں۔ مسلم لیگ کا پلان۔ B یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف گئے تو نارووال کی آپا نثار فاطمہ کے بیٹے جیسے کسی ایسے بردبار مزاج وزیر کو وزیراعظم بنایا جائے گا جو مسلم لیگ کے دونوں دھڑوں لاہور اور پنڈی گروپس سے وابستہ نہ ہو اور سب کیلئے قابل قبول ہو۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مسلم لیگ بطور جماعت ہر صورت اپنا آخری سال پورا کرنا، مختص 1000 ارب کے ڈیلوپمنٹ بجٹ کو اوپر سے نیچے تک استعمال کرنا اور پھر کونسلر سے وزیراعظم تک پراجیکٹس کے فیتے کاٹنے کے خوش کن منظرنامے میں آتشبازیوں کے ساتھ ہی رخصت ہونا چاہے گی۔

تحریک انصاف اور اسکے کرم فرماؤں کا پلان۔ B ہے دھرنا اور اسکے نتیجے میں پہلے احتساب پھر الیکشن کا انعقاد۔ اگرچہ بظاہر JIT نے شیخ جاسم بن حمد کے قطری خط کو مزید نہ گھسیٹ حکومت کو بالواسطہ فائدہ پہنچایا ہے۔ عین ممکن ہے ڈان لیکس کی طرح تمام تر داؤپیچ کے بعد پانامہ کیس بھی کچھ لو اور دو پر منتہج ہو۔ اس صورت میں سپریم کورٹ سے کوئی واضح فاتح نہیں ابھرے گا، وزیراعظم برقرار رہیں گے مگر سب کو فیس سیونگ ملے گی اور ہر فریق اسے اپنی فتح قرار دے گا۔ غالب امکان مگر یہ ہے کہ سیاسی شطرنج پر پانامہ کیس کا سنسی خیزی کھیلا اکتوبر تک جاری رہے گا۔ فریقین چالیں آگے پیچھے کرتے اور ایک دوسرے کے مہرے پیٹتے رہیں گے۔ شہ مات ممکن ہے نہ مطلوب۔ آخری مقصد کسی کو مائینس یا پلس کرنا بھی نہیں بلکہ ساری تگ و دو الیکشن 2018 کے نتائج اپنے حق میں یا ملتوی کروانا ہے۔ حکومتی جماعت کو اچھے سکور کیساتھ الیکشن میں جانے سے روکنا اکیلے عمران خان کے بس میں نہیں۔ ایسا ممکن بنانے کیلئے ایمپائر کو بھی کردار ادا کرنا ہوں گا۔ مشکل مگر یہ ہے کہ ایسے کردار کو ہرصورت پس پردہ اور عوام سے کی نظروں سے خفیہ رکھنا ہوتا ہے، ورنہ بات کھل جائے تو عوام سارا کھیل الٹ دیتی ہے۔

اگر الیکشن 2018 میں ہی ہوا، جس کے امکان تمام جمع تفریق ضرب تقسیم کے بعد زیادہ ہیں۔ مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف عوام کے پاس یہ مقدمہ لے کر جائیں گے کہ ہم نے الیکشن 2013 "امن، روزگار معیشت" کے ایجنٹڈے پر لڑا تھا اور ہمارے مخالفین نے محض ہماری مخالفت اور کردارکُشی کے ایجنٹڈے پر۔ عوام نے 2013 میں ہماری کردارکُشی کو مسترد کرکے ہمیں مینڈیٹ دیا۔ ہم نے جی جان سے کام کرنے کی کوشش کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کنٹرول کو روکا، لوڈشیڈنگ کنٹرول کرکے انڈسٹری و عوام کو ریلیف دیا، مہنگائی کو بڑھنے اور روپے کی قیمت کو گرنے سے بچایا۔ اداروں کو بہتر بنایا اور پاکستان کی آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل اور تقدیر بدلنے کیلئے CPEC جیسے منصوبے شروع کئے۔ لیکن۔۔ ہمارے مینڈیٹ کو شروع سے تسلیم نہیں کیا گیا، قدم قدم پر روڑے اٹکائے گئے۔ ارے بھائی وہ میندیٹ آپ نے ہی دیا تھا ناں؟ بولو بھائی آپ نے ہمیں تین دفعہ مینڈیٹ دیا ہے اور انشاء اللہ چوتھی دفعہ بھی آپ ہی دیں گے۔ لیکن۔۔ انہوں نے آپ کے دیئے ہوئے مینڈیٹ کو جعلی قرار دے دیا۔ ابھی ہمیں کام شروع کئے 2 سال بھی نہیں ہوئے کہ یہ الزام لگا کر وہ ہم پر حملہ آور ہو گئے۔ ارے بھائی بولو عوام! کیا آپ کا دیا ہوا مینڈیٹ جعلی تھا؟ پھر یہ الزام لگا کر عین چین کے صدر دورے سے پہلے کیوں ہماری حکومت گرانے کی کوشش کی گئی؟ ہم تو پاکستان کی ترقی کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے اور انشاءاللہ کرتے رہیں گے، مگر یہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے؟ ان سے پوچھیں ناں؟ ہماری اس پانچ سالہ حکومت کی شفافیت پر کسی سکینڈل کا یہ الزام تک نہیں لگا سکے تو پچھلی حکومتوں کے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بنائے گئے کیسز اٹھا کر آ گئے۔ دیکھیں ہم نے انہیں پختونخواہ میں کام کرنے سے نہیں روکا، سندھ میں کام کرنے سے نہیں روکا۔ اور اگر یہ بھی ہمیں قدم قدم پر روکنے اور گرانے کی کوشش نہ کرتے تو ہم نے انشاءاللہ پاکستان کو اس سے بھی ذیادہ آگے جانا تھا اور انشاءاللہ لے کر جائیں گے۔ ارے بھائی آپ چاہتے ہو نہ لیکر جائیں؟ چاہتے ہو ناں؟ تو ووٹ پھر کس کو دو گے؟ آگے لے جانے والوں کو یا روڑے اٹکانے والوں کو؟ اسلئے شیرر اک واری فیر

تحریکِ انصاف کی الیکشن مہم حکومتی کرپشن و نااہلی کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ پولیٹیکل سائنس کا ایک اصول incumbency factor ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی جماعت مدتِ اقتدار مکمل کرنے کے پر اگلے انتخابات میں عدم مقبولیت کا شکار ہوتی ہے۔ اس لئے اپوزیشن کی جانب سے حکومتی گارکردگی پر تنقید پاپولر بیانیہ ہوتا ہے اور حزبِ مخالف کو اگلی حکومت ہی تصور کیا جاتا ہے۔ 90 کی دہائی میں پاکستانی سیاست میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ کے درمیان یہ عمل واضع نظر آتا ہے، جسے عوامی زبان میں میں باریاں لینے سے تشبہ دی جاتی ہے۔ 2018 کی سیاست میں البتہ، اس فیکڑ کے موثر استعمال میں کچھ مسائل درپیش ہیں۔ ایک تو جنرل مشرف کی فوجی مداخلت کے بعد دوجماعتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ بیشتر ممالک کی طرح بالآخر پاکستانی سیاست کو بھی دوجماعتی نظام کی طرف ہی جانا ہے۔ میدان میں موجود تین جماعتوں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف میں سے ایک کو بہرحال قومی افق سے تحلیل ہونا ہے۔ لیکن اس عمل میں وقت لگے گا۔ فی الحال حکومت مخالف بیانیے کے ایک سے زائد علم برداروں کی موجودگی کا بالواسطہ فائدہ حکومتی جماعت کو ہی جانا ہے۔ دوسرا حکومتی کارکردگی اور کرپشن کے بیانیے کو آسانی سے بیچنے کیلئے معاشی ابتری درکار ہوتی ہے۔ ذیادہ تر معاشی اعشاریوں کے مثبت ہونے اور لوڈشیڈنگ، مہنگائی، پیٹرول اور ڈالر جیسے عوامی معاشی اعشاریہ پر کنٹرول کے ساتھ اپوزیشن کیلیئے ایمپائر کی مدد کے ساتھ بھی محض بڑھتے ہوئے قرضوں کی بنیاد پر کرپشن اور خراب کارکردگی کا بیانیہ استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا۔