ٹائم بمب

ہرشخص جس کے پاس کمائی کے وسائل اور ذرائع ہیں وہ زیادہ سے زیادہ دولت کم سے کم وقت میں کمانا چاہتا ہے۔ جب کہ اس کے بدلہ میں ریاست کوکچھ دینے کے لئے آمادہ نہیں۔ جبکہ عام آدمی پریشان اورشدیدذہنی دباؤ کاشکارہے۔ ایک تومہنگائی اوپر سے بے روزگاری۔ گزشتہ ادوارکی لوٹ مار، دولت کی غیرمنصافانہ تقسیم اورکرپشن نے معاشرے کی دھجیاں اُڑادی ہیں۔ ہماری حکومتوں اورسیاستدانوں نے شروع سے ہی عوام کوزندگی کے بنیادی مسائل میں اُلجھائے رکھا۔ ملک وقوم کے مستقبل اور ترقی کا خیال نہیں کیا۔ فوجی اورسیاسی دونوں ادوارمیں یہ چیزیں نہیں ہوسکیں۔ جس ملک میں چور، جاہل، عالم اورمسیحالٹیرے کاروپ دھار لیں تویہی ہوسکتاہے جوپچھلے ادوار میں ہوتاآیاہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ریاست کے تمام ستونوں نے ملک وقوم کواس حال تک پہنچانے میں اپنا کرداراداکیا۔ موجودہ حکومت کوبے شمارمسائل ورثے میں ملے، اس لئے اسے ایک ہی وقت میں بے شمارچیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے بڑاچیلنج بے روزگاری کا ہے۔

کسی بھی معاشرہ کے لئے بے روزگاری سب سے سنگین ترین مسئلہ ہوتاہے، جس سے دیگرخطرناک مسئلے منسلک ہوتے ہیں۔ اگرمعاشرے میں بے روزگاری اورمعاشی بحران بڑھ جائے تومعاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتاہے۔ اخلاقی برائیوں اورجرائم کاپھیلاؤعام ہونے لگتاہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم پرقابونہیں پایا جاسکتا۔ قانون کی بالادستی قائم رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عوام بدحال اورمختلف نفسیاتی امراض کا شکار اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ حلال وحرام، جھوٹ سچ کی تمیزنہیں رہتی۔ معاشرے میں احساس اورذمہ داری کاخیال نہیں رہتا۔ اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ غیرسماجی اورمجرمانہ شخصیت کے حامل افرادہرایسے کام سے خوشی حاصل کرتے ہیں جس سے دوسروں کودُکھ اورتکلیف پہنچے۔ بالآخرمعاشرہ ذلت ورسوائی کی علامت اورتباہی وبربادی کی نظرہو جاتا ہے۔ دراصل تمام سماجی واخلاقی برائیاں پیداہونے سے لے کر پھلنے پھولنے تک کا سبب بے روزگاری اور فقر و ناداری ہی بنتی ہے۔

بے روزگاری فطری طورپرانتہا پسندی کی وجہ، ام المسائل اورام الخبائث ہے۔ غربت وبے روزگاری معاشرے اورانسانیت کی تباہی کاسب سے بڑاذریعہ ہے۔ ان حالات میں انسان اپنے آپ کواوراپنے خاندان کوغیرمحفوظ سمجھتا ہے۔ جب کسی گھرکے کمانے والے کا روزگارنہ ہوتواس کے نتیجہ میں بچوں پرکیا اثرپڑے گا اوروہ بچے آگے چل کرکیا بنیں گے۔ جب ملک میں بھوک، افلاس، غربت، بے روزگاری ہوگی توپھرجرائم اوربے راہ روی میں اضافہ ہوگا۔ بے روزگارانسان کو اپنا اوراپنے گھروالوں کا پیٹ پالنے کے لئے ناجائزذرائع کاسہارا لینا پڑے گا۔ صاف ظاہر ہے وہ غلط ہاتھوں میں کھیلے گا۔ جرائم پیشہ اُسے اپنے غلیظ مقاصدکے لئے استعمال کریں گے۔

ہماری حالت یہ ہے کہ سیاسی استحکام اس ملک میں ہے نہیں۔ ٹیکس دینے کے لئے کوئی تیارنہیں۔ سرمایہ کاری ہونہیں رہی۔ مقامی سرمایہ دارپہلے ہی دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہوچکے ہیں۔ کہاں سے کارخانے لگیں گے۔ کہاں سے نئے روزگارکے مواقع پیداہوں گے۔ اقوام متحدہ کے اقتصادی اورسماجی کمیشن برائے ایشیاء اورپیسیفک(ای ایس سی اے پی) کے سالانہ اقتصادی اورسماجی سروے میں پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی2019میں خطے میں سب سے کم رہے گی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق (ای ایس سی اے پی)کی جانب سے 'ترقی سے آگے کے عزائم' کے عنوان سے ایشیاء اینڈدی پیسیفک2019 کے سالانہ اقتصادی اورسماجی سروے میں پیش گوئی کی گئی کہ بنگلہ دیش7.3فیصد، بھارت کی 7.5فیصد، مالدیپ اورنیپال6.5فیصدکے مقابلے میں 2019میں پاکستان کی جی ڈی پی(مجموعی ملکی پیدوار) 4.2فیصد رہے گی جبکہ 2020میں یہ 4فیصدہوسکتی ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالی سال 2019 کی تیسری سہ ماہی رپورٹ کے اعدادوشماربھی حوصلہ افزا نہیں۔ جس میں ذکرکیاگیا ہے کہ اشیاء سازی کی سرگرمیاں متاثرہوئیں جب کہ زراعت اورخدمات کے شعبوں نے منفی اثرلیا۔ وزیراعظم کے مشیراورمعاونین خود ہی خبردارکررہے ہیں کہ ابھی تومعاشی حالات مزیدخراب ہوں گے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے مہنگائی میں مزیداس قدراضافہ ہوگا کہ عوام کی دوتہائی اکثریت دووقت کی روٹی سے بھی محروم ہوجائے گی۔
گیس، بجلی، پڑول کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی آمدن سے دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ ہرچوتھا شخص غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہاہے۔ روزبروزناقابل برداشت بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو جہاں معاشی طورپربری طرح متاثرکیا ہے، وہیں مایوسی اورغیریقینی صورتحال سے معاشرے میں نفسیاتی امراض میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ لوگوں کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پرشدید ردِ عمل اور لڑائی جھگڑوں سے شدت پسندی اورانتقام کارجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ جھوٹ، فریب، دوسروں کی حق تلفی، شراب نوشی اورنشے جیسی بدترین برائیاں معاشرے کواپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔

ایک طرف مہنگائی تو دوسری طرف روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ اتنی بڑی بے روزگاری ہوتوبے روزگارنوجوانوں کوغلط راستے پرچلنے سے نہیں روکاجاسکتا۔ محتاط اندازے کے مطابق 40 فیصد نوجوان نسل جن میں 20 سے 30 سال کے لڑکے اورلڑکیاں نشہ جیسی لعنت کا شکارہوچکے ہیں، جوکسی قوم کے لئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔ اگرآپ واقعی تبدیلی اورملک کوترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تونوجوانوں کوبے یقینی اورمایوسی کی کیفیت سے نکالنا ہوگا۔
نوجوان ہی ملک وقوم کامستقبل ہوتے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کا تو اثاثہ ہی نوجوان طبقہ ہے۔ نوجوانوں نے صبرآزمااورطویل سیاسی جدوجہدمیں جس مستقل مزاجی سے موجودہ حکمران سیاسی قیادت کا ساتھ دیااور ہر محاذ پر ڈٹ کرمقابلہ کیا اس کی مثال ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آئی۔ نوجوانوں کوروزگارفراہم کرناحکومت کی سب سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس لئے حکمرانوں کو سنجیدگی سے سوچنا اوربے روزگاری کے خاتمہ کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملک میں روزگار کی بگڑتی ہوئی صورتحال نہایت خطرناک ہے۔ بے روزگارٹائم بمب کی طرح معاشرے میں نصب ہیں بغیر مثبت، تعمیری اور معاشی سرگرمی کے آگے بڑھیں گے تویہ مجرم بن کرپھٹنا شروع ہوجائیں گے اورمعاشرہ جرائم کا بوجھ برداشت نہیں کرسکے گا۔

محمد اکرم اعوان

محمد اکرم اعوان نوائے وقت، ڈیلی پاکستان، ڈیلی طاقت اور دیگر قومی اخبارات میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اخلاقی اور سماجی مضوعات کو اپنا عنوان بنانا پسند کرتے ہیں۔