/ کالمز / محمد اکرم اعوان / کہانی ہر گھر کی!

کہانی ہر گھر کی!

قدیم وقتوں میں غربت کے ڈرسے بچیوں کی پیدائش کے فوری بعد، قتل کئے جانے کو نہایت ہی برا عمل اورغیرانسانی فعل قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ جدیداور ترقی یافتہ دورمیں واردات کی نوعیت اورطریقہ کار بدل گیا، مگرسوچ نہیں بدلی۔ آج (بلا تفریق جنس) بچوں کی ذہنی استعداداورنفسیات سمجھے بغیر اسی قدیم خوف کے تحت، تعلیم میں کمزوربچوں کی شخصیت کوطعنہ، تشدد کے ذریعہ بری طرح مسخ کیا جاتاہے۔
افسوس!ہم اپنے اس رویہ کوبچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کی 'فکر' کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ ان معصوموں کو زندگی بھرکے لئے معاشرہ کا ناکارہ عضوبنانے میں ہمارا یہی رویہ کار فرما ہے۔ کیا مستقبل کے فکرکی آڑمیں ہمارا تشددپسندانہ رویہ، زمانہ جاہلیت کے عمل سے کسی طور کم ہے؟ کیا ہمارایہ رویہ انہیں زندہ درگورکئے جانے کے مترادف نہیں؟
8مارچ کا دن خواتین کے نام تھا۔
اتفاق سے اسی دن ایک تحریرموصول ہوئی۔ جس میں کہنے کوعام سی باتیں ہیں، مگرمیں جیسے جیسے پڑھتاگیا تحریردل میں اُترتی گئی۔ سوچاکیوں ناں، اسے کہانی ہرگھرکی عنوان دیاجائے اوراصل مضمون میں کوئی خاص تبدیلی کئے بغیرکالم کی شکل میں اپنے قارئین تک پہنچایا جائے۔
"بہنیں ہی بہنوں کی دوست اورسہلیاں ہوتی ہیں۔ میں یہ بات اپنی چھوٹی بہن سے دوستی اورمحبت کی وجہ سے کہہ سکتی ہوں، میری چھوٹی بہن کہنے میں مجھ سے تین سال چھوٹی ہے، مگروہ میری مددکرنے اورمیرا خیال رکھنے میں مجھ سے بڑی محسوس ہوتی ہے۔
وہ ہمیشہ میرازیادہ خیال رکھتی ہے اور عمرمیں بڑی ہونے کے باوجود، میں اُس کا اس قدرخیال نہیں رکھ پاتی جتنا مجھ پر لازم ہے، مگراُس نے پھربھی مجھے کبھی احساس نہیں دلایا، کہ میں اُس کا اتنا خیال کیوں نہیں کرتی جتنا وہ چھوٹی ہو کر میرا احساس اور خیال کرتی ہے۔
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ مجھے یہ لکھنے کا خیال کیوں آیا، اس کے پیچھے کیا احساس ہے، جس نے مجھے مجبورکیا کہ میں اپنا پیغام اپنے ذاتی تجرے کے طورپردوسروں تک اورخاص طورپر والدین اوراُساتذہ تک پہنچاوں، جن کا کرداراوررویہ کسی بھی بچے یا طالب علم کے لئے سب سے اہم ہوتاہے۔
میری چھوٹی بہن اورمجھ میں ہمیشہ سے ایک مثبت مقابلہ رہتا، جن میں سے پہلا مقابلہ اس بات پرہوتا کہ کچھ بھی ہوجائے، ہم نے سکول سے چھٹی نہیں کرنی، اس مقابلے میں ہمارے والدین نے ہمارا خوب ساتھ دیا، یہاں تک کہ کئی بار انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں کی تقریبات میں شرکت، ہماری چھٹی نہ کرنے کی ضد کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑی۔ ہم دونوں بہنوں نے ماسوائے شدید بیماری کے کبھی چھٹی نہیں کی، جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے رزلٹ کی رپورٹ بہت اچھی آنے لگی، جیسے جیسے ہم بڑی جماعت میں پروموٹ ہوتے گئے، پڑھائی میں ہماری دلچسپی بھی بڑھتی رہی اورسکول کاہوم ورک بھی ایک دوسرے کی مدد اورمقابلے کی وجہ سے ہمیشہ مکمل ہوتا۔
جس کی وجہ سے سکول میں ہمارے اساتذہ، یہاں تک کہ سکول کی پرنسپل، دوسرے بچوں کے والدین کوہماری مثال دیتی۔
اگرچہ کلاس ٹسٹ اورحتمی امتحان میں ہماری پہلی پوزیشن تونہ آتی مگردوچار نمبروں کے فرق سے چوتھی، پانچویں پوزیشن ضرورآجاتی، جس پر ہم خوش ہوتے اوراللہ کا شکرادا کرتے، اگرمیری جماعت میں پانچویں پوزیشن آتی، تومیری چھوٹی بہن کی اپنی جماعت میں چوتھی پوزیشن آتی، اسی طرح ایک دوبارہماری اپنی اپنی جماعت میں ایک جیسی پوزیشن بھی آئی، تب ہمیں بہت خوشی ہوئی اورہم نے خوب انجوائے کیا۔
ہمارے دل میں خواہش تھی توبس یہ کہ کاش ہماری بھی پہلی پوزیشن آئے۔
پھرحالات نے کروٹ بدلی، ہماری کلاس انچارج ایک نئی ٹیچرآئی۔ جس نے میری کایاپلٹ دی، وہ ہرپریڈکے آخرمیں چار پانچ منٹ ہمیں ترغیب دیتی، کہ خلوص نیت سے محنت کی جائے تودُنیا کی کوئی طاقت انسان کواُس کے ارادے میں کامیابی اوراس کے خواب کوحقیقت میں بدلنے سے نہیں روک سکتی۔
ٹیچرکی ان محبت بھری باتوں سے میرے اندرجوش، جذبہ اور ولولہ پیداہوتا، میں نے پڑھائی پرپہلے سے زیادہ توجہ دینی شروع کردی، میں ہرٹسٹ اورسالانہ امتحان میں اول پوزیشن لینے لگی اور پھربورڈکے امتحان میں اپنے سکول میں اول پوزیشن کے علاوہ حکومت کی جانب سے وظیفہ کی بھی حق دار قرارپائی۔ مگر یقین کریں میری خوشی ادھوری رہی۔ جس کی وجہ تھی، میری چھوٹی بہن کی پڑھائی میں عدم دلچسپی اورچوتھی پوزیشن کی بجائے بمشکل پاسنگ مارکس حاصل کرسکنا۔
میں سمجھتی ہوں میری بہن کی اس حالت کے پیچھے ہمارے والدین اورٹیچرزکااہم کردار ہے۔ ہوا یوں کہ میری چھوٹی بہن کوکسی بات کی سمجھ نہ آتی تووہ اپنی ٹیچرسے دوبارہ پوچھتی اوربعض مرتبہ تودوسے زیادہ مرتبہ پوچھنے کی نوبت آجاتی۔ ایک دن ایساہوا کہ میری چھوٹی بہن نے بظاہرکسی معمولی لفظ کامعنی /مطلب دوبارہ پوچھا، ٹیچرنے سمجھا کہ یہ صرف ستانے اورتنگ کرنے کے لئے ایسا کرتی ہے۔
جس پرٹیچرغصہ سے میری بہن کومسلسل ڈانٹتی رہی، پھرتھپڑمارنے شروع کردئیے۔ جبکہ میری بہن مسلسل روتی رہی اورکہتی رہی میڈیم میرا یقین کریں میں نے آپ کوتنگ کرنے کے لئے ہرگزنہیں پوچھا۔ اسی پربات ختم نہیں ہوئی، اس ٹیچرنے دوسری ٹیچرزکے سامنے بھی اس بات کاخوب پرچارکیا۔ پھرتمام ٹیچرزکا رویہ میری بہن کے ساتھ متعصبانہ ہوتاگیا۔ جس کے نتیجہ میں میری بہن دلبرداشتہ ہوتی گئی، سکول سے چھٹیاں اُس کا معمول بن گیا، پڑھائی سے دل اُچاٹ ہوگیا۔
ڈیڑھ دوسال تک ٹیچرز کا رویہ، ایسا ہی رہا، جس کافائدہ اُٹھاکراس کی کلاس فیلوزنے بھی اس کاہربات پرمذاق اور اُسے تنگ کرنا شروع کردیا، پھرایک وقت آیاکہ میری بہن نے سکول جانے اورپڑھائی سے صاف انکار کردیا۔
دوسری جانب ہمارے والدین اوردیگررشتہ داروں کارویہ بھی میری بہن کے ساتھ سخت ہوتا گیا۔ سب میری بہت زیاد ہ تعریف کرتے اور ساتھ ہی اُس کوطعنے دینا شروع کردیتے، میری بہن کوسمجھنے کی کوشش نہ سکول والوں نے کی نہ ہی گھروالوں نے۔
میری بہن ہرگزایسی نہیں تھی، میں جانتی ہوں وہ جھوٹ نہیں بولتی، وہ آج بھی کہتی ہے میرامقصدٹیچرکا مذاق ہرگزنہیں تھا۔ ہم دونوں ایک خاندان، ایک گھر، ایک سکول، ایک جیسی ذہنی صلاحیت واہلیت اورایک جیسے ماحول کے باوجود بلکہ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ میری چھوٹی بہن مجھ سے زیادہ ذہین، قابل، سمجھدار اوراحساس کرنے والی ہے۔ لیکن اس یکساں پس منظرکے باوجوددونوں کے ساتھ برتاو اور رویہ یکسرمختلف ہونے کی وجہ سے نتائج بھی بالکل مختلف سامنے آئے۔
بچے معصوم ہوتے ہیں، ان کی معصوم شرارتوں سے صرف نظرممکن نہ ہوتوبھی ایسا طریقہ تدریس اورایسا لب ولہجہ اختیارکیا جانا چاہیے کہ بچوں کی اصلاح بھی ہوجائے اورمنفی اثرات سے بھی محفوظ رہیں۔ اسی طرح والدین اپنے تمام بچوں کی یکساں حوصلہ افزائی کریں، اگر کوئی بچہ پڑھائی میں اپنے کسی بہن بھائی سے کم ہے تواس کی بھی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔
پوزیشن ہولڈراورلائق بچوں کی بھی تعریف وتحسین کریں مگر اس کی مثال دے کرکمزوربچے پرطنزاور تضحیک سے اجتناب کریں، آخروہ بھی آپ کی اولاد ہے، کہیں ایسا نہ ہووہ احساس کمتری کا شکار ہوکرمزیدپڑھنے اورجی لگا کرمحنت کی بجائے تھوڑابہت جو پڑھ رہا ہے اُس سے بھی جائے، پھرآخرمیں کامیاب بچے کے مقابلے میں ناکام اولاد کا دُکھ آپ کے لئے مستقل روگ ثابت ہو گا۔
یہ اللہ کانظام ہے ہربچے کا ذہن، سوچ، نصیب مختلف ہے، مگرنصیب بنانے، بگاڑنے میں والدین اوراساتذہ کے رویہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ "
شعبہ درس و تدریس سے وابستہ احباب دیگرتمام شعبہ جات سے افضل ہیں، کیونکہ اس شعبہ کی نسبت انبیائے کرام سے ہے۔ لہٰذا تعلیم سے وابستہ حضرات کاصبروبرداشت اورفراغ دلی جیسی خوبیوں کی افادیت سے آگاہ ہونابھی ضروری ہے اور دامن ونظر میں وسعت بھی درکارہے، کہ معصوم بچوں کامقدراورمستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان جوبہترین نظم ونسق کے باب میں سختی کوناگزیرسمجھتے ہیں، اپنے سٹاف کوتعلیمی نصاب کی تکمیل پرزوردیتے ہیں اورہرحال میں بہترنتائج کے خواہشمندرہتے ہیں، انہیں اپنے اساتذہ کے مسائل کے حل پربھی توجہ دینی چاہیے۔ وہ بھی انسان ہیں، وہ بھی ہمدردی کے مستحق ہیں۔ مادی دورکے مسائل اورپریشانیاں انہیں بھی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طورپرمتاثرکرتی ہیں۔
لہٰذابچوں کے ساتھ نرم برتاو اورتربیت کے باب میں حکمت، بصیرت اورنرمی سے اصلاح اورتربیت کے دیرپا اثرات کے متعلق وقتاََ فوقتاَ َ اپنے سٹاف کو بریف کرتے رہیں۔ اس ضمن میں اپنے ادارہ کے اساتذہ کرام کی مزید مدد وراہنمائی کے لئے، تعلیمی سال کے دوران کم ازکم دو سے تین مرتبہ اسلامی سکالرز، ماہر تعلیمی ٹرینرز اورماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کرنے سے آپ کے سٹاف کی پرفارمنس اورادارہ کے نتائج میں خاطرخواہ بہتری آئے گی۔
اسی طرح حکومت کوبھی سرکاری تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ کرام کی کارکردگی میں بہتری کے لئے ریفریشر کورسز، ماہرین تعلیم اورماہرین نفسیات کی خدمات سمیت دُنیاکے جدیدتعلیمی وتربیتی تقاضوں کومدنظررکھتے ہوئے دیگراہم اقدامات کرنے ہونگے۔

محمد اکرم اعوان

محمد اکرم اعوان نوائے وقت، ڈیلی پاکستان، ڈیلی طاقت اور دیگر قومی اخبارات میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اخلاقی اور سماجی مضوعات کو اپنا عنوان بنانا پسند کرتے ہیں۔