1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. علی محمود/
  4. دوراستے

دوراستے

انسانی زندگی مختلف احساسات کے مجموعے کا نام ہے۔ ہماری کیفیت کے مطابق ہمارے احساسات بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کبھی خوشیوں کے حسین احساس میں جھوم رہا ہوتا ہے تو کبھی شدت غم کے احساس کی بارش اس پر برس رہی ہوتی ہے، کبھی مایوسی کے بادل اس کی زندگی میں اندھیرا کر دیتے ہیں تو کبھی امید کی کرنیں زندگی میں قوس وقزح کے رنگ بکھیر دیتی ہیں۔ انہی احساسات میں سے ایک احساس مایوسی کا بھی ہوتا ہے۔ مایوسی کے احساس میں ڈوبا انسان اس وقت ذلتوں کی پاتال میں جا پہنچتا ہے جب وہ مایوسی کے احساس میں ڈوبا اپنے رب کی رحمت سے ناامید ہو کر شکوے کرنا شروع کر دیتا ہے۔ میں اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے بانو قدسیہ کے ناول "سامان وجود" سے ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں۔

"بھلا روز اول کیا ہوا تھا! لوگ سمجھتے ہیں کہ ابلیس کا گناہ فقط تکبر ہے۔ ۔ لیکن میرا خیال ہے تکبر کا حاصل مایوسی ہے۔ جب ابلیس اس بات پر مصر ہوا کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کر سکتاتو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا۔ لیکن جب تکبر ناکامی سے دوچار ہوا۔ ۔ ۔ تو ابلیس اللہ کی رحمت سے ناامید ہوا۔ حضرت آدمؑ بھی مایوس ہوئے وہ بھی جنت سے نکالے گئے لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے۔ یہی تو ساری بات ہے۔ شاہد!(ناول کے کردار کانام)ابلیس نے دعوہ کر رکھا ہے میں تیری مخلوق کو تیری رحمت سے مایوس کروں گا۔ ناامیدلوگ میرے گروہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کے چاہنے والوں کا اغواممکن نہیں۔ وہ کنویں میں لٹکائے جائیں، آگ پر جلائے جائیں، صلیب پر لٹکیں لیکن وہ مایوس نہیں ہوں گے۔

پریشانیاں، تکالیف اور دکھ یہ سب کچھ ہر طبقے کے انسان کی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔ پریشانیوں اور دکھوں کی تصاویر مختلف ہو سکتی ہیں لیکن ان سے مکمل چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ مال و دولت کی زیادتی والے طبقات میں پریشانیوں کی نوعیت مختلف طرح کی ہوتی ہے، افلاس کے مارے خاندانوں میں اس کی شکل اور ہوتی ہے، سیاست اور طاقت کے نشے میں ڈوبے انسان اس کے کئی اورچہرے دیکھتے رہتے ہیں جبکہ اللہ سے جڑے لوگوں میں اس کا رنگ روپ الگ ہوتاہے، غرض یہ کہ ہر انسان کی زندگی نشیب و فراز سے سینچی ہوئی ہوتی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں سب سے بڑی غلطی ان پریشانیوں میں اللہ کی رحمت سے ناامید ہو کر کرتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ مایوس اور ناامید لوگ ابلیس کے گروہ کے لوگ ہیں۔ جبکہ اللہ والوں کا اغواممکن نہیں ہے۔ اگر انسان اپنی پریشانیوں یا دکھوں میں نا امید ہوجاتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ اسکو اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگااور اسکے برعکس اگر انسان اپنی زندگی کی پریشانیوں اور دکھوں پریہ سوچ پر صبر کرتا ہے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے آزمائش ہے تو دل کی بے چینی تسکین میں بدل جاتی ہے۔

ایک بات کوہمیشہ مدنظر رکھیں کہ پریشانیاں، دکھ اور تکالیف زندگی میں لازمی آپ کے دروازے پر دستک دیں گی، ان سے دوری اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمارے پاس دو راستے ہر وقت موجود ہوتے ہیں ایک راستہ ابلیس کا راستہ ہے اور ایک راستہ حضرے آدم ؑکا راستہ ہے۔ ابلیس کے راستے میں ناامیدی اور مایوسی کی گہری کھائیاں ہیں جن میں گر کر انسان اللہ سے شکوے کرنا شروع کر دیتا ہے، اللہ کی رحمت سے بہت دور چلا جاتاہے اور اس کے برعکس دوسرا راستہ حضرت آدم ؑکا راستہ ہے۔ اس راستے پر دکھ اورپریشانی میں صبر اور اللہ کی رحمت کی امیدہے۔ جو انسان کو بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ اس راستے میں انسان اپنی زندگی کی ہرپریشانی کو اللہ کا دیا ہوا امتحان سمجھتا ہے اور یاد رکھیں ہر امتحا ن کے آخر میں آسانیاں تقسیم ہورہی ہوتی ہیں لیکن صرف ان کے لئے جو اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے جو ابلیس کے راستے پر نہیں چلتے، جو مایوسی کے پاتال میں ڈوب کر اللہ سے شکوے نہیں کرتے۔ آج سے ہی اپنے راستے کا انتخاب کریں اور اگر آپ کا راستہ ابلیس کا راستہ ہے تو نا امیدی کو امید میں بدل دیں اور اللہ کی رحمت والے راستے سے اپنے سفر کا آغاز کریں۔