Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / علی سلطان / لبرل اور مذہبی

لبرل اور مذہبی

پاکستان بنیادی طور پر جمہوریت پسند اور لبرل لوگوں کا ملک ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم مذہبی لوگ بھی ہیں۔ پورے ملک میں لاکھوں مدرسے ہیں اور سب مدرسے چیرٹی سے چلتے ہیں پاکستان سنٹر برائے انسان دوستی کے مطابق پاکستانی سالانہ 240 ارب روپے چیرٹی کرتے ہیں۔

ہم 12 ربیع الاول پورے جوش خروش سے مناتے ہیں اور رمضان کا اہتمام بھی بھرپور طریقے سے کرتے ہیں ملک میں سیاسی بڑی جماعت اتنے لوگ اکھٹے نہیں کرسکتی جیتنے ایک درمیانے درجے کی مذہبی جماعت کرسکتی ہے میں وسوخ سے کہہ سکتا ہوں ملک کے کسی سیاستدان کے پاس اتنے پیروکار نہیں ہوں گے جتنے صرف مولانا طاہرالقادری کے پاس ہوں گے اُن کے بیان کو سننے کے لئے لوگ میلوں سفر طے کر کے آتے ہیں اور ساری رات کھلے میدان میں بیٹھ کر سنتے ہیں لیکن جب ووٹ دینے کی باری آتی ہے تو عوام ہمیشہ لبرل لوگوں کو ہی ووٹ کرتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن اور باقی تمام مذہبی جما عتوں کے سربراہ جن کا تعلق سیاست کے ساتھ ہے جمہوریت کے حامی اور انقلاب لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں لیکن اگر پاکستان کی تاریخ میں دیکھیں تو یہ تمام مذہبی رہنما ہر فوجی امر کی گود میں بھی بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ہمیشہ سچی پاک صاف اور دیانت سے بھرپور سیاست کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کے حکومتوں کو ہٹانے کے لیے احتجاجی مارچ اور اجتماعات کے لیے سرمایہ کہاں سے آتا ہے۔ مذہبی سیاسی جما عتوں کو سیاست ضرور کرنی چاہیے لیکن اُن کی سیاست کا مقصد اسلام کو فائدہ پہنچانا ہونا چاہیے نہ کے سیاست کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ ہم ابھی کا مولانا فضل الرحمن کا دھرنہ دیکھ لیں یا 2013 اور 2014 کا مولانا طاہرالقادری کا لانگ مارچ یا آزادی مارچ دیکھ لیں سب کا مقصد ذاتی ہی تھا۔

سیاسی صورتحال بہت دلچسپ ہے مسلم لیگ ن نے مولانا کا ساتھ دے کر حکومت پر دباؤ بنایا اور نواز شریف اور مریم نواز کو آزاد کروا کر پیچھے ہٹ گئے پیپلز پارٹی کی صورتحال بھی ایسی ہی لگ رہی ہے یا تو ڈیل ہو گئی ہے یا ہونے کا عندیہ ہے۔

میرے خیال میں آزادی مارچ کی چابی کہیں اور سے گھمائی جا رہی ہے وہ جگہ نہ آزادی مارچ کا کنٹینر ہے اور نہ ہی وزیراعظم ہاؤس کی چاردیواری ہے۔ یہ وہی جگہ ہے وہی لوگ ہیں جو 2014 میں اُس وقت کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پی ٹی آئی کو روڈ پر لائے تھے اور 126 دن کا دھرنہ دلوایا تھا۔

مولانا فضل الرحمن کو نہ عمران خان کے استعفے کے لیے لایا گیا ہے اور نہ ہی حکومت گرانا اُن کا مقصد ہے اُن کو صرف حکومت پر دباؤ ڈالنے اور عمران خان کو یہ بتانے کے لیے لایا گیا ہے کہ یہ حکومت آپ کا کارنامہ نہیں ہے جیسے آپ کو لایا گیا تھا ویسے اور بھی کوئی آ سکتا ہے۔

ان سب سیاسی پارٹیوں کے لین دین کرسی بچاؤ، ابو بچاؤ مہم میں جن کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے وہ عام عوام ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو بیوقوف کون بنا رہا ہے سیاسی اور مذہبی جماعتیں یا اس کے پیچھے کوئی اور بھی طاقت کار فرما ہے؟

آپ پچھلے ایک ماہ کے ٹی وی چینلز کے پروگرام دیکھ لیں سب لوگ اپنے فائدے اور نقصان کی بات کر رہے ہیں چاھے وہ حکومتی جماعت ہو یا دھرنہ دینے والے سیاسی مذہبی جماعت کے لوگ ہوں عوامی مسائل ملکی ترقی کی بات کوئی نہیں کر رہا۔

علی سلطان

علی سلطان کا تعلق جہلم سے ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور مینجر سیلز کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے لاہور میں مقیم ہیں۔ سیاست کے بارے اظہار خیال کرنا پسند کرتے ہیں۔