Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / علی سلطان / سیاسی وعدے

سیاسی وعدے

ہٹلر 20 ویں صدی کا انتہائی طاقت ور اور بدنام زمانہ ڈکٹیٹر تھا۔ وہ جرمنی کی نازی پارٹی کا قائد تھا۔ ایک دن ہٹلر نے اپنی پارٹی کے تمام لوگوں کو ملاقات کے لیئے بلایا اور خود جب وہ اُس ہال میں داخل ہوا جس میں اُس نے تمام لوگوں کو دعوت دے رکھی تھی اُس کے ہاتھ میں ایک زندہ مرغی تھی اور دروازے سے داخل ہوتے ہی اُس نے اُس زندہ مرغی کے پنکھ ایک ایک کر کے کھینچنا شروع کر دیا مرغی درد سے پھڑپھڑا رہی تھی اور اُس کے چھیدوں سے خون آ رہا تھا لیکن ہٹلر بغیر کسی شرمندگی اور ندامت کے مرغی کے پنکھ اُس وقت تک کھینچتا رہا جب تک وہ مکمل طور پر برہنا نہیں ہو گئی۔ اُس کے بعد اُس نے مرغی کو زمین پر گرا دیا اور جیب سے کچھ کھانا نکال کر اُس کی طرف پھینکنا شروع کر دیا اُس مرغی نے نہ صرف کھانا شروع کر دیا بلکے ہٹلر کے پیچھے پیچھے چلنا بھی شروع کر دیا۔

اُس کے بعد ہٹلر نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا یہ مرغی بلکل عام عوام کی طرح ہے آپ اُن پر طاقت کا استعمال کریں اُن پر ظلم اور بربریت کریں اور جب وہ بہت زیادہ مایوس ہو جائیں تو اُن کو چند ٹکرے کھانے کے دے کر اُن پر مہربانی کر دیں تو وہ آنکھیں بند کر کے آپ کی پیروی کریں گے اور ہمیشہ آپ کو ہیرو مانیں گے اور یہ بھول جائیں گے کہ اُن کے بُرے حالات کے ذمہ دار آپ ہیں۔

میں جب بھی یہ کہانی پڑھتا ہوں مجھے پا کستان کی عوام اور اُس مرغی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ آپ چاہے پی پی کے جیالوں سے بات کر لیں یا مسلم لیگ کے پٹواریوں سے مل لیں، آپ پی ٹی آئی کے یوتھیوں سے بحث کر لیں یا اے این پی جماعت اسلامی، جمیت علماء اسلام، ایم کیو ایم کے ورکرز سے پوچھ لیں سب کی حالت ہٹلر کی برہنہ مرغی سے مختلف نہ ہو گی۔

پاکستان کا سیاسی نظام بہت ہی غلیظ اور ظالمانہ ہے ہم پاکستانیوں نے اُس بھٹو کو ہیرو بنا دیا جس کا پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے میں اہم کردار کیا بلکہ میں تو بھٹو کو ہی 1971 کے سانحہ کا ذمہ دار سمجھتا ہوں اپنی کُرسی کی خاطر "اُدھر تم اِدھر ہم" کا نعرہ لگا کر پاکستان کو دو ٹکروں میں تقسیم کر نے کا گھناؤنا کھیل بھٹو صاحب نے ہی کھیلا تھا۔ لیکن اس جرم کی سزا دینے کی بجائے اُن کو ہیرو بنا دیا۔ پاکستان کی عوام نہ صرف آج بھی بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگا رہی ہے بلکے مزار بھی بنا دیا جہاں ہر سال لاکھوں لوگ چڑھاوا چڑھانے آتے ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن ہے ہم نے ہمیشہ دیکھا کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولتے ہیں اور شہباز شریف رات کے اندھیرے میں اشفاق پرویز کیانی کو ملتے ہیں جنرل راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ کو بھی ملتے ہیں۔ ایک طرف عمران خان کو مسلط کرنے کا الزام بھی لگاتے ہیں اور دوسری طرف مقدمات ختم کرنے اور پنجاب کو واپس لینے کے لیے منتیں بھی کرتے ہیں۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کے جو بھی ڈیل مسلم لیگ ن کے ساتھ چل رہی ہے اُس کے بعد نواز شریف ایک پیسہ دیئے بغیر ملک سے چلے جائیں گے اور اگلے الیکشن میں مریم نواز بھرپور طریقے سے حصہ لے گی اور اس سارے ایک سال کے ڈرامے میں نقصان صرف پاکستان کا ہوا ہے۔

یہ پاکستان کی سیاست ہی ہے جہاں الطاف حسین پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگاتا ہے پھر بھی اُس کی جماعت قائم بھی رہتی ہے اور الیکشن میں حصہ بھی لیتی ہے۔ یہ پاکستان کی سیاست ہی ہے جہاں اسفند یار کہتا ہے بھاڑ میں جائے پاکستان ہم کالاباغ ڈیم نہیں بننے دیں گے لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اور صدقے جاؤں تبدیلی سرکار کے جو ابھی تک استخاروں پر چل رہی ہے پاکستان کے سب سے بڑے مجرم عمران خان ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو اس بیمار اور غلیظ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کو کہا لوگوں نے بہت امیدوں سے عمران خان کو وزیراعظم بنایا لیکن عمران خان الیکشن سے پہلے اپنے کیے ہوئے سارے وعدے بھول چکے ہیں۔ بلکہ وہ اور اُن کے دونوں وسیم اکرم پلس اپنی پوری کابینہ کے ساتھ پاکستان پر بوجھ بن گئے ہیں۔ ان تمام معاملات سے مجھے تو صرف ایک بات سمجھ آتی ہے کہ پاکستان میں سیاست ایک گندہ اور بدبودار کھیل ہے جو بھی اس میں شامل ہوتا ہے وہ اپنے اخلاقیات اور الیکشن کے وقت کیئے گئے وعدے بھول جاتا ہے۔ آپ الیکشن کے دوران کی گئی تمام پاکستان کے سیاستدانوں کی تقریریں اُٹھا لیں اور حکومت میں آنے کے بعد اُن کے کام دیکھ لیں آپ کو اپنے دیئے ہوئے ووٹ پر شرمندگی ہوگی۔

اگر میں خصوصی طور پر عمران خان صاحب کی بات کروں تو انھوں نے 126 دن کے دھرنے اور 27 سیاسی جدوجہد میں جتنے بھی وعدے اپنی عوام کے ساتھ کیے ہیں اُس میں سے ایک بھی وعدہ وفا نہیں ہوسکا۔

علی سلطان

علی سلطان کا تعلق جہلم سے ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور مینجر سیلز کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے لاہور میں مقیم ہیں۔ سیاست کے بارے اظہار خیال کرنا پسند کرتے ہیں۔