Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / علی سلطان / ٹرین حادثات

ٹرین حادثات

دنیا کی تاریخ میں ٹرین کا پہلا حادثہ 8 نومبر 1833میں ھایٹس ٹاؤن نیو جرسی میں پیش آیا تھا ٹرین میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک بوگی کا ایکسل ٹوٹ گیا اور وہ ٹرین سے الگ ہو کر پٹری سے اتر گئی ٹرین اس وقت 56 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ بوگی کے مسافروں کی کل تعداد چوبیس تھی ان میں سے دو کی موت ہو گئی اور باقی بائیس مسافر زخمی ہوئے۔ حادثہ کے وقت ٹرین میں امریکہ کے چھٹے صدر کوئسنی ایڈمز بھی سوار تھے۔

تاریخ میں ٹرین کا سب سے بڑا حادثہ 2004 میں سری لنکا میں پیش آیا۔ یہ حادثہ ساحلی علاقے میں چلنے والی ایک مسافر ٹرین کے ساتھ سونامی کےٹکرانے کے نتیجے میں پیش آیا۔ حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے زیادہ تھی جو دنیا میں ٹرین کی وجہ سے مرنے والے لوگوں کی سب سے زیادہ ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ ٹرین حادثات انڈیا میں ہوتے ہیں 2015 سے2017 دو سال میں انڈیا میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت کا سبب ٹرین کے حادثات تھے۔

پاکستان کی وزارت ریلوے کے اعدادوشمار کے مطابق اگست 2018 سے جون 2019 گیارہ مہینوں میں ٹرین کے چھوٹے بڑے 74 حادثات ہوئے۔

31 اکتوبر کو تیز گام کراچی سے راولپنڈی جا رہی تھی صبح 6 بج کر 30 منٹ پر لیاقت پور تحصیل رحیم یار خان کے مقام پر ٹرین کی ایک بوگی آتشزدگی کی لپیٹ میں آ گی۔ آتشزدگی سلنڈر کے پھٹنے کی وجہ سے اس وقت لگی جب کچھ مسافر صبح ناشتے کی تیاری کر رہے تھے حادثے میں 73 قیمتی جانیں ضایع ہو گئی۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نےٹویٹ کیا اور اس افسوس ناک واقع پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا، ہاں جی یہ وہی عمران خان ہیں جو اپنی حکومت سے پہلے ہر چھوٹے بڑے حادثے پر وزیر سے استعفی مانگتے تھے میں بھی ہر اس شخص کی طرح جس نے آخری الیکشن میں عمران خان کو ووٹ دیا ہے امید کر رہا تھا کے خان صاحب وزیر ریلوے کو ہٹا کر انکوائری کا حکم دیں گے کیوں کے وزیر موصوف کے اپنے عہدے پر ہوتے ہوے شفاف انکوائری کیسے ہو سکتی ہے اور ساتھ میں چند ممالک کی مثال دیں گے کہ جب وہاں پر ٹرین ایکسیڈنٹ ہوا وزیر استعفی دے کر گھر چلا گیا لیکن افسوس اس بات کا ہے عمران خان اپنی باقی تمام باتوں وعدوں "مثال کی طور پر سائکل پر آفس جاؤں گا، بیرونی ممالک یا ائی ایم ایف سے قرضہ لیا تو خود کشی کر لوں گا، چند ہزار لوگ بھی سڑک پر آ کر استعفی مانگیں تو میں چپ چاپ گھر چلا جاؤں گا کیوں کہ اخلاقی جواز ہی نہیں رہے گا" کی طرح اس بات کو بھی بھول چکے ہیں۔

وزیر ریلوے جن کو باقی تمام وزارتوں کے حال کا تو پتہ ہوتا ہے اگلے تین مہینوں کے سیاسی حالات کی پیشنگوئی بھی وہ کر دیتے ہیں لیکن اپنی وزارت سے بالکل بے خبر نظر آتے ہیں اور ان کو صرف ریلوے کی تباہی کا بالکل اندازہ نہیں ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کا آخری مالی سال کا خسارہ 97 ارب روپے ہے۔ دوسری طرف حادثے کی جگہ پر جب وہ ٹھٹھے لگاتے اور سابقہ حکومتوں کی طرح غیر سنجیدہ بیان دیتے ہوئے نظر آئے تو ایک کروڑ ستر لاکھ لوگوں پر ترس آیا جنھوں نے ان الیکشن میں ان جوکروں کو تبدیلی اور نیا پاکستان کے لئے ووٹ دیا تھا۔

عمران خان صاحب اس سب کے آپ جوابدہ ہیں آپ نے لوگوں کو تبدیلی کی امید دلائی تھی عوام نے آپ کی ہر بات کو سچ سمجھا تھا عوام نے آپ کو ووٹ دیا تھا اور اب آپ ہی عوام کے مجرم ہیں۔

تو اِدھر اُدھر کی نا بات کر یہ بتا کےقافلہ کیوں لٹا

مجھے راہزنوں سے گلا نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

علی سلطان

علی سلطان کا تعلق جہلم سے ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور مینجر سیلز کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے لاہور میں مقیم ہیں۔ سیاست کے بارے اظہار خیال کرنا پسند کرتے ہیں۔