Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / اسماء طارق / ہیپاٹائٹس کیا ہے

ہیپاٹائٹس کیا ہے

پاکستان سوسائٹی فار دی لیور ڈیزیز سے وابستہ ماہرین امراض پیٹ و جگر نے کہا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 111 سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، پاکستان میں دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے جن میں سے اکثریت کو اپنی بیماری سے متعلق علم ہی نہیں، پاکستان ہیپاٹائٹس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں ٹی بی، ڈینگی، ملیریا اور ایڈز کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ ہیپاٹائٹس 100 فیصد قابل علاج مرض ہے۔ جس سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

ہیپاٹائٹس کیا ہے؟

جگر انسانی بدن میں پائے جانے والے اعضاء میں سے سب سے بڑا عضو ہے یہ  نہ صرف جسامت کے لحاظ سے بڑا ہے بلکہ اپنے افعال و کارکردگی کے حوالے سے بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جگر جسم کا سب سے اہم حصہ ہے جو خوراک ہضم کرنے کے ساتھ جسم میں طاقت پیدا کرتا ہے اور مزید دوسرے اہم کام بھی انجام دیتا ہے اس لیے اگر جگر کے افعال وکارکردگی میں نقص واقع ہوجائے تو پورا بدن ِ انسانی بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے، جگر کی سوجن انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے جسے ہیپاٹائٹس کہتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش، کارکردگی متاثر ہونے یا اس میں نقص واقع ہونے کو کہا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، ہیپاٹائٹس ایک موذی مرض ہے اگر  وقت پر اس کی تشخیص ہو جائے تو اس سے نبٹنا بہ آسان ہوتا ہے لیکن اگر اس کے علاج پر بر وقت توجہ نہ دی جائے تو یہ جگر کو بری طرح متاثر کر کے انسانی  بدن کے لیے کئی دوسرے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ 

ہیپاٹائٹس کی اقسام

دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام ہیں، بدقسمتی سے پاکستان ميں جگر کی سوزش کی تمام اقسام موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو اس مرض کی بڑھنے کی شرح ایک طرف اب تو بڑے شہروں میں بھی بڑوں بڑوں کو یہ بیماری لاحق ہوگئی ہے۔ جیسا کہ ہیپاٹائٹس اے، بی، سی اور ڈی ہیپاٹائٹس- اے اور  بی اس مرض کی عام قسم ہیں جبکہ سی اور ڈی کا شمار انتہائی خطرناک امراض میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں لوگ اس مرض کے بگڑ جانے کی وجہ سے جگر کی پیوند کاری کے لئے بیرون ممالک کروڑوں روپے خرچ کر نے پر مجبور ہیں لیکن حکومتی ادارے حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بھی عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ 

ہیپاٹائٹس کی وجوہات

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں پندرہ کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس جیسے سنگین اور خطرناک مرض کا شکار ہیں۔ ہیپاٹائٹس جگر کو نقصان پہنچاتا ہے یہ وائرس خون کے زریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتاہے۔ ہیپاٹائٹس کی اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں جیسا کہ غیر معیاری اور غیر متوازن غذا کا متواتر استعمال، چکنائیوں کا زیادہ استعمال، غیر محفوظ جنسی تعلقات، ہیپا ٹائٹس میں مبتلا افراد کے خون کی تندرست افراد میں منتقلی، ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی استعمال شدہ سرنج کا استعمال۔ دندان سازی کے غیر صاف شدہ آلا ت کا استعمال۔ حجام کے غیر صاف شدہ اوزاروں کا استعمال۔ دوران آپریشن آلات کی مناسب صفائی نہ ہو نا۔ ہیپاٹائٹس میں مبتلا ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔ دورانِ حمل خواتین کو ہیپا ٹائٹس وائرس کے حملے کا عام دنوں کی نسبت زیادہ خطرہ ہو تا ہے۔ قوتِ مْدافعت میں کمی واقع ہونا۔ منشیات الکحل کا زیادہ استعمال اور ایسا کھانا یا پانی جس میں فضلاتی مادہ شامل ہو تو اس سے ہیپاٹائٹس کا خطرہ بڑھتا ہے۔ 

ہیپاٹائٹس کی علامات

ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو اکثر بخار رہتا ہے وہ تھکن محسوس کرتے ہیں ان کے جوڑوں میں بھی درد رہتا ہے انھیں کالے رنگ کا پیشاب آتا ہے۔ ہلکا ہلکا بخار رہنا اور سردی محسوس ہونا۔ مریض کی بھوک میں روز بروز کمی واقع ہونا۔ متلی اور قئے کا تواتر سے آنا۔ ڈائریا اور بد ہضمی کا اکثر رہنا۔ سر میں درد اور بھاری پن محسوس ہونا، پیٹ کا ہر وقت بھرا بھرا لگنا اور اس میں درد کا محسوس ہو نا۔ آنکھوں کی رنگت سفیدی مائل زرد ہو جانا۔ بعض مریضوں کے جسم پر ہلکی ہلکی اور بعد ازاں شدید خارش ہو نا۔ جگر کے بیرونی مقام پر جلد کا سرخ اور اْبھرا اْبھرا ہو جا نا۔ جلد کو چھو نے سے زخم کا احساس ہونا۔ تا ہم ان علامات سے نوٹس کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے  ان علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ 

ہیپاٹائٹس سے بچاؤ

الکوحل اور دیگر ہر طرح کی منشیات کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء سے مکمل پرہیز کریں اور باہر کے کھانوں سے بھی اجتناب کریں۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنے ہاتھ وغیرہ ہمیشہ صاف ستھرے رکھیں۔ ہیپاٹائٹس اے اور بی کی ویکسین ضرور لگوائیں تا کہ اس خطرناک مرض سے محفوظ رہا جا سکے۔ 

دانتوں کا معائنہ، طبی معائنہ کے وقت استعمال ہونے والے آلات کی تسلی کر لیں کہ ان کو اچھی طرح سے سٹیریلائز کیا گیا ہے۔ 

طبی ماہرين کا کہنا تھا کہ ہیپا ٹائٹس بی اور سی کا وائرس خراب خون کی جسم میں منتقلی اور جراثیم سے آلودہ آلات کے استعمال سے ہوتا ہے۔ بر وقت علاج نہ ہونے پر جگر کے کینسر میں تبدیل ہوکر موت کا سبب بنتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کا علاج ادویات سے زیادہ احتیاط سے ممکن ہے۔ تاہم مرض کی شدید علامات کی صورت میں خود معالجاتی طرزِ عمل سے بچتے ہوئے کسی ماہر معالج سے رجوع آپکی تن درستی اور صحت مند زندگی کی ضمانت فرا ہم کرتا ہے۔ 

اسماء طارق

اسماء طارق گجرات کی رہائشی عمر بیس  سال ہے اور ماسڑز کی طالبعلم  ہیں  ۔شوشل اور ڈولپمنٹ اشوز پر  کئی ویب سائٹ اور نیوز پیپر کے لیے  لکھتی   ہیں اور مزید بہتری کےلئے کوشاں   ہیں۔