Thursday, 17 October 2019

خواب (1)

دونوں بہنیں مسکرا رہی تھیں۔ ایک بستر پر بیٹھی تھی، دوسری سوفے پر۔ آج وہ بہت دنوں بعد اپنی پسندیدہ فلم دیکھ رہی تھیں۔ بڑی بہن، مریم، نے چپس کا پیکٹ اٹھایا اور چھوٹی بہن کو دیا تاکہ وہ اسے کھولے، پھر تھوڑے چپس کھائے اور باقی اسے لوٹا دے۔ چھوٹی بہن، سارہ، نے چپس کا پیکٹ تو کھولا، لیکن سارے چپس کھا لیے۔ بڑی بہن فلم دیکھنے میں اتنی مصروف تھی کہ اسے معلوم بھی نہیں ہوا کہ کب سارہ نے پیکٹ کھولا اور کب سارے پیکٹ کو کھالی بھی کردیا۔ خیر، جب مریم کی نظر خالی پیکٹ پر پڑی تو زور دار آواز میں چلائی:
"سارہ!!!"
مریم کی چیخ سن کر سارہ ڈر گئی۔ وہ فلم دیکھ رہی تھی، اسے لگا شایدمریم کی طبعیت خراب ہوگئی ہے۔
"آپا کیا ہوا؟ سب خیر تو ہے؟ آپ ایسے چلائیں، مجھے تو ڈرا دیا آپ نے۔"
"تم پھر سے میراپورا پیکٹ کھاگئی؟!!!"مریم نے اس بار مزید اپنی آواز کو طول دے دیا۔
سارہ نے اپنے کانوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈھکنا شروع کیا۔ اتنی تیز آواز سن کر دونوں کی والدہ، جمیلہ صاحبہ، کمرے میں داخل ہوگئیں۔ کمرے میں آکر وہ دیکھتی ہیں کہ ہر چیز بکھری ہوئی ہے۔ جمیلہ صاحبہ نے آتے ہی دونوں کو ڈانٹ دیا:
"یہ کمرے کی کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم دونوں نے؟ شاباش! اٹھو مریم یہ کپڑے الماری میں ڈالو۔ ۔ ۔ "
"امی!"مریم سارہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ "آپ اس کو بھی کوئی کام دیں نا۔ ۔ ۔ دیکھیں، اس نے میری چپس کھالیں۔ "
"تم کپڑے الماری میں ڈالو۔ سارہ کو میں دیکھتی ہوں۔ "جمیلہ صاحبہ یہ کہہ سارہ کی طرف متوجہ ہوئیں اور پھر اس کے کان پکڑ کر کہنے لگیں۔ "اور تم ادھر آؤ، موٹی کہیں کی۔ آج پھر سے تم نے اس بے چاری کی چپس ختم کردیں۔ تمہارے والد معلوم ہے نا کہ دنیا کے سب سے بڑے کنجوس انسان ہے۔ ۔ ۔ میں تو کہتی ہوں، بلکہ ڈرتی ہو کہیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ والے نہ جان جائیں، ورنہ تمہارے والد صاحب کو وہ اپنی فہرست میں داخل کرلیں گے۔ فی فرد ایک چپس وہ ہمیں لاکر دیتے ہیں، اس میں سے تم میری بھی کھا جاتی ہو، اور اس لڑکی کی بھی۔ ۔ ۔ آج تو تمہارے کان میں کاٹ ڈالوں گی۔ "
"امی چھوڑیےنا!" سارہ کہنے لگی۔ "آپا نے پہلے ہی میرے کانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے اتنا زور سے بول کر، اب آپ بھی۔ ۔ ۔ "
اتنےمیں مریم پھر سے چیخی۔ "امی!سارہ!"
اس بار جمیلہ صاحبہ نے، سارہ کی طرح، اپنے کانوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈھکنا شروع کیا تو سارہ بولی۔ "دیکھا امی!"
"اےلڑکی!کیا تم دھیمی آواز میں بات نہیں کرسکتی؟" جمیلہ صاحبہ نے مریم کو ڈانٹا۔
"امی!ابو آرہے ہیں۔ "مریم نے کھڑکی سے اپنی والد کی آمد کو بھانپ لیا۔
"ارے جلدی کرو۔ جلدی کمرے کو صاف کرو، اور پھر باہر آؤ، تم دونوں۔ میں پہلے باہر جاتی ہوں۔ تم دونوں میرے بعد میں آنا۔ "
اشرف صاحب، جمیلہ صاحبہ کے شوہر، گھر میں داخل ہوئے۔ گھر کے ماحول کا جائزہ لینے لگے۔ جمیلہ صاحبہ بچیوں کے کمرے سے باہر نکلیں اور پھر انہوں نے اپنے شوہر کوسلام کیا۔ کہنے لگیں:
"آپ اتنی جلدی آگئے؟"
اتنے میں دونوں لڑکیاں بھی کمرے سے باہر نکل آئیں۔ دونوں نے اپنے والد صاحب کو سلام کیا۔ اشرف صاحب دونوں کو غور سے دیکھتے رہے۔ پھر ایک تفتیشی افسر کی طرح مریم سے پوچھنے لگے:
"آج دن کیسے گزارا تم دونوں نے؟"
جس پر مریم نے جواب دیا۔ "ابو!آج ہم نے بہت ساری کتابیں پڑھیں۔ پھر ہم نے ورزش کی، اور ابھی ابھی، آپ کے آنے سے پہلے، ہم دونوں کو عبادت سے فراغت ملی۔ "
اشرف صاحب کو انگریز، انگریزی زبان اور انگریزی ثقافت سے سخت نفرت ہے۔ لیکن معلوم نہیں کیوں جب بھی اپنی بیٹیوں کی ایسی باتیں سنتے ہیں تو بولتے ہیں۔ "گُڈ، ویری گُڈ۔ "
اشرف صاحب کے آنے کے ساتھ ہی ٹی وی بھی بند ہوگئی اور لڑائی بھی۔ دونوں بہنوں نے کمرے کو جلد صاف کیا، اور پھر اپنی والدہ کے ساتھ آکر بیٹھ گئیں۔ اشرف صاحب کا یہ معمول ہے کہ جب بھی وہ شام کو گھر آتے ہیں، اپنی بیٹیوں کونصیحت کی باتیں سناتے ہیں۔ البتہ ایک بھی بات دونوں لڑکیوں کو سمجھ نہیں آتی۔ لیکن والد صاحب کی عزت رکھنے کے لیے کہتی رہتی ہیں۔ "سبحان اللہ! ابو۔ ۔ کیا خوبصورت بات کہی آپ نے۔ "جس پر اشرف صاحب حسب معمول فرماتے ہیں۔ "گُڈ، ویری گُڈ۔"
"میں چائے لاؤں؟" جمیلہ صاحبہ نے پوچھا۔
"نہیں۔ نہیں۔ "اشرف صاحب نے جواب دیا۔ "آج مولوی صاحب سے میں نے سنا کہ یہ چائے بنانے ولی کمپنیاں بھی یہودیوں کی سازش میں ملوث ہیں۔ ایسی چائے کی پتی بناتے ہیں جس سے مسلم مرد اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ اور دوسری بات وہ کوئی کیمیکل بھی شامل کر رہے ہیں جس سے ہماری آبادی کم ہواور لڑکیاں زیادہ پیدا ہوں۔ مسلمان مردوں کے خلاف یہ سازش ہے۔"
جمیلہ صاحبہ مسکرائیں، لیکن دل ہی دل میں بولنے لگیں۔ "مر گئے۔ ۔ ۔ اب چائے بھی بند۔ "
پچھلے دو سالوں سے اشرف صاحب اپنے استاد، مولوی جمال الدین صاحب، کے پاس روزانہ جاتے ہیں۔ مولوی صاحب دین کے حوالے سے جو جو بتائیں وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ البتہ خود کبھی بھی قرآن پاک کا —ترجمے یا تفسیر کے ذریعے—مطالعہ نہیں کرتے، نہ ہی سیرت نبوی ﷺکو پڑھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
"جب مولوی صاحب میرے لیے یہ کام کر رہے ہیں تو میں کون ہوتا ہوں مطالعہ کرنے والا؟"
"اچھا شربت تو لے آؤں آپ کے لیے؟" جمیلہ صاحبہ نے پوچھا۔
"ہاں!شربت لے آؤ۔ "
اس کے بعد اشرف صاحب اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف متوجہ ہوئے۔ دریافت کرنے لگے:
"ہاں بیٹی! سناؤ، پڑھائی کیسی جارہی ہے؟ وہ اُس دن میں نے جو تمہیں کتاب دی، تم نے پڑھی؟"
سارہ نے فوراً جواب دے دیا۔ "بالکل ابو۔ بہت اچھی کتاب ہے۔ ۔ ۔ "
پھرسارہ نے کتاب کے بارے میں تفصیل سے اپنے والد کو آگاہ کیا۔ سب کچھ بتانے لگی کہ کتاب میں کس کس پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے، کس کس موضوع پر بحث کی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ والد صاحب بڑے خوش ہوئے۔ رات کو سونے سے پہلے مریم نے سارہ کا بازو زور سےپکڑا، اور پھر پوچھنے لگی:
"تم نے تو اس کتاب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ پھر یہ ساری معلومات کیسے حاصل کیں تم نے؟"
سارہ نے ہنس کر جواب دیا۔ "ابو خود کونسا پڑھتے ہیں۔ انہیں مولوی صاحب یہ ساری کتابیں دیتے ہیں۔ ۔ ۔ میرے دل میں جو آیا بولتی گئی۔ ابو کو کیا معلوم۔ "
اشرف صاحب عشاء کے بعد جلد سونے کے پابند ہیں۔ عشاء کے بعد سمجھیں کہ ان کے گھر میں کرفیو لگ جاتا ہے۔ کوئی بھی مہمان آئے یا کوئی جاننے والا، وہ عشاء کے بعد انہیں واپس لوٹا دیتے ہیں۔ اشرف صاحب کی نیند بھی ایسی ہے کہ اگر کوئی گولی بھی چلائے تب بھی وہ سوتے رہتے ہیں۔ نیند ان کی بڑی پختہ ہے۔ لیکن ایک رات ایسا ہوا کہ وہ اچانک جاگ گئے۔ انہیں ایک ایسا خواب آیا جس سے اُن کی نیند تباہ ہوگئی۔ (جاری)

باشام باچانی

باشم باچانی  ٹیچر ہیں اور 2012ء سےشعبہ تعلیم سے وابسطہ ہیں ۔ مطالعے کا بے حد شوق ہے اور لکھنے کا اس سے بھی زیادہ۔تاریخ، اسلامیات، اور مطالعہ پاکستان پسندیدہ مضامین ہیں۔ ناول کے مصنف اور کالمز تحریر کرتے ہیں۔