1. ہوم
  2. قصیدہ
  3. ڈاکٹر ثروت رضوی
  4. جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے
Dr. Sarwat Rizvi

جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے

جی چاہتا ہے کاش مکرر دکھائی دے
دیوار کیسے ہوگئی تھی در دکھائی دے

بنت اسد تھیں گود میں قراں لئے ہوئے
تیرہ رجب کی رات کا منظر دکھائی دے

میرے علیؑ کا نام جو لکھا ہے اس لیے
روشن مجھے یہ ماہِ منور دکھائی دے

ماں سے سنے شجاعتِ حیدرؑ کے تذکرے
مجھ کو تخیلات میں خیبر دکھائی دے

کیسے کیا تھا مولا علیؑ ولی نے وار
کیسے گرے تھے مرحب و عنتر دکھائی دے

گر ہے یقیں نہیں تو نجف کربلا کو دیکھ
جنت اسی زمین کے اوپر دکھائی دے

ہجرت کی شب رسول ﷺ کے بستر پہ کون ہے
جانِ رسول نفس پیمبر دکھائی دے

یہ ہم کلام کون ہے ثروت شبِ وصال
یہ کس کا ہاتھ پردے کے باہر دکھائی دے