1. ہوم
  2. قصیدہ
  3. ڈاکٹر ثروت رضوی
  4. تونے گلزار بنایا مری تنہائی کو
Dr. Sarwat Rizvi

تونے گلزار بنایا مری تنہائی کو

تونے گلزار بنایا مری تنہائی کو
مرشدی دل ہے فقط تیری پذیرائی کو

بخش دے دل کو شفا یا مرا دل ہی نہ رہے
تو نہیں ہے تو بھلا کون مسیحائی کو

معاملہ تیرے حوالے تو ہی ضامن مولاؑ
میں سزا دے نہیں سکتی ترے مولائی کو

اک ترے نام کے صدقے میں رہی حرمتِ جاں
کبھی خاطر میں نہیں لائی ھوں رسوائی کو

اے شہنشاہ نجف مالک کن بہرِ خدا
بخشئے رنگِ بصیرت مری بینائی کو

بھیج دیں اور کمک اور کمک اور کمک
حوصلہ چاہیے اب درد کی پیمائی کو

حاملِ مرضی رب صاحب لولاک و قلم
آپ ہی دیں گے سند اب مری سچائی کو

تھک گئے نطق و بیاں حرف و قلم المددے
جانے کیا روگ لگا ہے مری گویائی کو