1. ہوم
  2. نظم
  3. حماد حسن
  4. عفریت
Hammad Hassan

عفریت

وھاں میں دیکھ آیا تھا
گلابی موسموں کی دھوپ کا آنچل

جو پائن کے درختوں میں الجھتا تھا
تو ہر سو شام کی پریاں

سر دھلیز شب
ان کا نظارہ دیکھنے رکتیں

کہ
اس منظرکو آگے

منتقل کرنا تھا خوابوں کو
وھیں پر کوھساروں میں

معلق باغ
نادیدہ بہشتوں کی طرح ہوتے

جھاں سب طائران خوش گلو
کے چھچھانے اور

تتلیوں کا رقص پیہم
قامت اشجار بادل کی چٹانیں

بے پیئے سر شار جھرنیں
اورھر لمحہ بدلتے موسموں کے زاوئے

فطرت کے کینوس پر
کچھ اس انداز سے ترتیب پاتے تھے

کہ خود کو خالق بھی شاید محو حیرت ہو
مگر اب کہ وہ قریہ یوں نھیں تھا

جسطرح میں چھوڑ آیا تھا
وھاں پر روشنی کے آخری مینار

سےاٹھتا دھواں
اور تتلیوں کی صف بہ صف ھجرت

وھاں کے بھربھرے
بد رنگ موسم میں

فقط کچھ کے سا ئے تھے لرزاں 1ور کچھ
بوجھل کے مسلک

کے پیروکار زندہ تھے
غنیم بے بصر

تتلی، کرن، مہتاب، پھولوں اور
گلابی دھوپ کا دشمن

سمجھتا ہے
کہ اب گر روشنی اس سمت آئے تو

اسی سے پوچھ کر آئے
کہ اس کی آنکھ میں

جلتے دئے سارے بجھا کر
اس کو کوئی ماتمی ملبوس پہنادے

کہ اس کو تیرگی کا خبط ہے
اور روشنی اچھی نہیں لگتی