/ نظم / حماد حسن / حکم نامہ

حکم نامہ

سو اب یہ حکم آیا ھے
کہ اس بے فیض موسم
بے اماں صحرا میں رھنا ھے
سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو
شبستاں کی طرح
جنت کی مانند ھی سمجھناھے
کمیں گاھوں میں بیٹھے قاتلوں
کو بھی مسیحا ماننا ھے
اور روشن خواب و تازہ فکر
کو رستہ نہیں دےنا
بدلتے وقت کی ھر اک ضرورت
ھر تقاضا بھول جانا ھے
یہ سارے اجرتی قاتل
یہ مخبر اور ان دیکھے
ستمگر فاتحوں کا جب اشارہ ھو
تو کٹھ پتلی کی مانند رقص کرنا ھے
اگر یہ عدل کی میزاں کسی جانب جھکے
تو تم زبانیں بانجھ رکھوگے
فقط اس سمت کوسجدے میں گرنا ھے
فقط اک مرحبا کا لفظ کہنا ھے
کوئی سچ کوئی حق تمھارے حصے کا
کسی دستور جابر میں نہیں
سو چپ ھی رھنا ھے
قصیدے پڑھ تو سکتے ھو
مگر جو نام اور جو منطقے ازبر کئے جائیں
زباں سے لفظِ واحد بھی
اگر غلطی پھسلا تو
زباں پھر ھاتھ میں ھوگی
ہماری سرکشی بھی گھات میں ھوگی
سو یہ فرمانِ تازہ مل گیا میرے قبیلے کو
مگر یہ شوقِ شاھی رکھنے والوں
اوران کے ھر مجاور کو خبر کر دو
کہ اس فرمانِ تازہ کو
غلاموں کا قبیلہ
اپنے سنگینوں سے پرزے پرزے کرکے
چل پڑے ہیں ایسے رستے پر
جھاں پر موت و آزادی
کا اک یکساں تناسب اور امکاں ھے