1. ہوم
  2. نظم
  3. حماد حسن
  4. حکم نامہ
Hammad Hassan

حکم نامہ

سو اب یہ حکم آیا ہے
کہ اس بے فیض موسم

بے اماں صحرا میں رھنا ہے
سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو

شبستاں کی طرح
جنت کی مانند ھی سمجھناھے

کمیں گاھوں میں بیٹھے قاتلوں
کو بھی مسیحا ماننا ہے

اور روشن خواب و تازہ فکر
کو رستہ نہیں دےنا

بدلتے وقت کی ھر اک ضرورت
ھر تقاضا بھول جانا ہے

یہ سارے اجرتی قاتل
یہ مخبر اور ان دیکھے

ستمگر فاتحوں کا جب اشارہ ھو
تو کٹھ پتلی کی مانند رقص کرنا ہے

اگر یہ عدل کی میزاں کسی جانب جھکے
تو تم زبانیں بانجھ رکھوگے

فقط اس سمت کوسجدے میں گرنا ہے
فقط اک مرحبا کا لفظ کہنا ہے

کوئی سچ کوئی حق تمھارے حصے کا
کسی دستور جابر میں نہیں

سو چپ ھی رھنا ہے
قصیدے پڑھ تو سکتے ھو

مگر جو نام اور جو منطقے ازبر کئے جائیں
زباں سے لفظِ واحد بھی

اگر غلطی پھسلا تو
زباں پھر ھاتھ میں ھوگی

ہماری سرکشی بھی گھات میں ھوگی
سو یہ فرمانِ تازہ مل گیا میرے قبیلے کو

مگر یہ شوقِ شاھی رکھنے والوں
اوران کے ھر مجاور کو خبر کر دو

کہ اس فرمانِ تازہ کو
غلاموں کا قبیلہ

اپنے سنگینوں سے پرزے پرزے کرکے
چل پڑے ہیں ایسے رستے پر

جھاں پر موت و آزادی
کا اک یکساں تناسب اور امکاں ہے