/ کالمز / محمد ارسلان / تجربات

تجربات

کامیابی کا دوسرا نام ترقی و خوشحالی ہے۔ انفرادی حیثیت سے لیکر اجتمائی، قومی و ملکی سطح یہاں تک کے پوری دنیا یہی چاہتی ہے کے وہ ترقی کرے۔ اس کیلئے سب سے پہلے ارادہ درکار ہوتا ہے پھر پلان اور اس کے بعد اس پلان پر عمل کیا جاتا ہے۔ لازمی نہیں ہوتا کہ آپ پہلی بار میں ہی کامیابی حاصل کریں۔ آپ بار ہا مرتبہ ناکام ہوتے ہیں، مختلف تجربات کرتے ہیں، دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آپ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، کامیاب لوگوں کو فالو کرتے ہیں ان سے سیکھتے بھی ہیں۔ اوربلآخر زندگی کے کسی موڑ پے کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔
میرا پیارا دیس آٹھویں دہائی میں داخل ہو گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج بھی اس پر صرف تجربات ہی ہو رہے ہیں۔ آپ کوئی بھی ادارہ کوئی بھی شعبہ اٹھا کے دیکھ لیں کھیل کے میدان سے لیکر صحت، تعلیم، زراعت، جوڈیشری، سیاست اور معیشت غرض یہ کہ آپ کو ہر شعبے میں آج بھی صرف اور صرف تجربات ہی ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کھیل کی بات کی جائے تو زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ابھی تازہ صورتحال پہ نظر دوڑائیں پوری دنیا اپنے سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ہم سینئر کھلاڑیوں کو نکال کر ایک ایک میچ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ، شعبہ صحت کو لے لیجئے آئے روز کوئی نا کوئی نیا ڈرامہ ہو رہا ہوتا ہے ڈاکٹرز لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، تعلیم میں آئے روز نصاب کی تبدیلی اور فضول قسم کی پابندیاں اور پالیسیاں بنانا، معیشت کو کبھی نیشنلزم کے ماتحت کرنا کبھی نجکاری تو پرائیوٹائز کرنا، پولیس کی آئےروز یونیفارم تبدیل کر کے سمجھتے ہیں کہ ادارہ ٹھیک کر لیا، اور سیاست پہ بھی ہر طرح کے تجربات کئے جا چکے ہیں۔ ہم صدارتی نظام، مارشل لاء بھی بھگت چکے ہیں اور پارلیمانی نظام بھی۔
آخر کب تک ہم ایسے الٹے سیدھے تجربات کرتے رہیں گے اس دھرتی کے ساتھ، جو بھی حکومت آتی ہے وہ سابقہ حکومت کے تمام منصوبے تمام پالیسیاں ختم کر کے خود کے تجربات آزمانا شروع کر دیتی ہے۔ قوم کا اربوں خربوں پیسہ ان کی نالائقی کی نظر ہو جاتا ہے۔
یہ ملک آج بھی اٹھارویں صدی  میں انگریزوں کے بنائے گئے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ مسائل اور جرائم کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے حل کیلئے نئے اور جدید قوانین اور پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔ کبھی سوچا کیوں؟
کیوں کے انہوں نے ایک مسقل سسٹم بنایا ایک نظام بنایا اور اس پے عمل خود بھی کیا اور کروایا۔ اس ملک میں تمام تر وسائل ہونے کے باوجود ہم پیچھے ہیں۔ قوانین تو ہیں اس ملک میں مگر عمل درآمد نہیں۔ آپ جتنے مرضی تجربات کرتے رہیں کبھی اس ملک کو اپنے پیروں پے نہیں کھڑا کر پائیں گے جب تک آپ ایک مضبوط اور مسقل نظام ایک سسٹم نہیں دیں گے جو سب پر یکساں لاگو ہو۔
کہا جاتا ہے کہ جب منزل کا تعین کر لیا جائے اور اس تک پہنچنے کیلئے ارادہ، نیت اور محنت کی جائے تو اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اور اس ملک کی منزل کا تعین تو اس کے بننے سے پہلے ہی ہو چکا تھا پھر کیوں نا اب تک ہم اسے اس کی منزل تک پہنچا سکے؟ کیوں کے ابھی تک صدق دل سے نا تو محنت کی گئی ہے اور نا ہی نیت۔ خدارا یہ تجربے کرنا بند کریں اور اس پیارے ملک کو اس کی منزل تک پہنچنے دیں۔