/ محمد ارسلان / تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

دست و گریباں سے لیکر ہم نوالہ و ہم پیالہ تک کا سفر۔ ۔ ۔ جی ہاں یہ سفر ہم ایک بار نہیں کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی حرف، حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ مگر ایسا بھی کیا۔ میں حیران ہوں کہ اکیسویں صدی میں بھی لوگوں کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ اگر میں اپنے ارد گرد نظر دوڑاؤں تو کوئی ایک ایسا نظر نہیں آتا جو اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کر سکا ہو کہ ہاں حرفِ آخر ہوتا ہے۔ اور جو میں نے کہا ہاں میں اس پے قائم ہوں۔
ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہنے، سڑکوں پے گھسیٹنے کی باتیں کرنے والے، پیٹ سے قوم کا پیسہ نکالنےوالے، لوٹی گئی رقم بیرونِ ملک سے واپس لانے کی باتیں کرنے والے اور پتہ نہیں ایک دوسرے پے کیسے کیسے گٹھیا الزامات لگانے والے اور آج---آج ٹاک شوز سے لیکر اسمبلی تک میں ایک دوسرے کی حمایت اور دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کی تعریفوں کے پُل باندھے جارہے ہیں-
کیسے کر لیتے ہیں یہ سب، ان کی یاداشت کھو جاتی ہے یا بھول جانے کی اداکاری کرتے ہیں۔ کہ انہوں نے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف کیسا کیسا زہر اگلا ہے۔ مگر یہ تو طے ہے کہ بھولتے تو نہیں ہاں البتہ عوام کو بھول بھلیاں میں الجھا کر خود نکل جاتے ہیں۔ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ وہ یہ سب اپنی عوام کیلئے کر رہے ہیں۔ انہیں لوگوں کی تکالیف کا احساس ہے، ان سے معصوم لوگوں کادُکھ نہیں دیکھا جاتا۔ مزید کہا جاتا ہے کہ وہ یہ سب جمہوریت کیلئے کر رہے ہیں اس سب میں ان کا ذاتی کوئی مفاد نہیں۔ کبھی عوام کو جمہوریت کے نام پے لوٹا جاتا ہے تو کبھی یہ کہ کر اُکسایا جاتا ہے کہ آپ کے حقوق پے ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ آج تک ہم نے جمہوریت کو سرے سے سمجھا ہی نہیں اور جو لوگ ہمیں سمجھا رہے ہیں اُس سے تو ایسا لگتا ہےجیسے جمہوریت صرف اِن بڑے بڑے سیاستدانوں کا نام ہےاگر ان کو کسی نے کچھ کہا یا ان کو کچھ ہوا تو جمہوریت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ بس پھر اِن سے کچھ پو چھا جائےنا کہا جائے۔
نہیں حضور۔ ۔ ۔ نا یہ کبھی عوام کے دُکھ میں اِکٹھے ہوئے اور نا ہی کبھی جمہوریت کی خاطر، یہ جب بھی اکٹھے ہوئے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کے کیلئے ہوئے، اپنی کرپشن اور نا جائز ذرائع سے جمع کی گئی دولت، نام نہاد عزت اور عہدے بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے۔ عوام کوان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر خود کے مُفادات کی جنگ لڑتے ہیں یہ لوگ۔ مگر اب ان کا یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چلنے والا۔ لوگ با شعور ہو گئے ہیں، سمجھنے لگے ہیں، محسوس کرنے لگے ہیں۔ اور اس سب میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ مگر ہم نے اس سے آگے جانا ہے۔ ہم نے صرف سمجھنے اور محسوس کرنے کی حد تک نہیں رہنا، ہمیں نکلنا ہوگا، ان کے خلاف آواز اُٹھانا ہوگی۔ تبھی ہم خود کو اور اپنے پیارے ملک کو بچا سکیں گے۔