/ کالمز / محمد اشتیاق / انڈیا کی ہار اور سپورٹس مین سپرٹ

انڈیا کی ہار اور سپورٹس مین سپرٹ

میں صرف پاکستانی ٹیم کو جیتتے دیکھنا چاہتا ہوں اس میں کوئی برائی ہے؟ آپ یہ فتوی لگا سکتے ہیں کہ آپ اچھی ٹیم کو کیوں نہیں جیتتے دیکھنا چاہتے، جو اچھا ہو وہ جیت جائے لیکن میں ایسا نہیں۔ میں اچھی ٹیم کو ہی جیتتے دیکھنا چاہتا ہوں پر وہ پاکستانی ٹیم ہو۔ یہ میرے جذبات ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے؟ کیا کھیل سے آپ جذبات کو الگ کر سکتے ہیں؟ کیا میں اپنی ٹیم کی سپورٹ سپورٹس مین سپرٹ کے نام پہ چھوڑ دوں۔ ۔ اور روبوٹ بن جاوں۔ اپنی وال پہ "کھیل کی جیت ہوئی " کی پوسٹ لگا کے اپنا کھیل کا ایکسپرٹ ہونے کا دعوی مضبوط کروں۔ میں ایسا بالکل نہیں کروں گا جب میری ٹیم جیتے گی تو خوش ہوں گا جب ہارے گی تو دکھی ہوں گا۔ سارا سال ڈومیسٹک کرکٹ پہ نظر رکھنے کے بعد، یہاں ہونے والی زیادتیاں، بڑے ٹورنامنٹ کے لئے بچگانہ تیاریاں دیکھنے کے باوجود میری خواہش میچ والے دن یہی ہوتی ہے کے پاکستان جیت جائے۔ ان پریڈیکٹیببل کے ٹائٹل سے چڑ ہونے کے باوجود اندر سے آواز آتی ہے کہ پاکستان کو جیتنا چاہیے۔ اس وقت یہ نہیں سوچتا کہ انگلینڈ کی ٹیم اچھی ہے تو سپورٹس مین سپرٹ کا تقاضا ہے کہ انگلینڈ جیتے کیونکہ جیت اس کی ہو گی جو اس دن اچھا کھیلے گا اور دعا ہوتی ہے کہ آج پاکستان اچھا کھیلے۔ ۔ ۔ سپورٹس مین سپرٹ یہ نہیں کہ ٹیم کے جیتنے کی امید نہ لگائیں بلکہ یہ ہے کہ ہارنے کے بعد اعتراف کریں کے اچھی ٹیم سے ہارے اور اگر 105 پہ آوٹ ہو جائیں تو اپنی ٹیم پہ تنقید کریں۔
اگر میری ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے اور مجھے لگے کہ اس کو باہر کروانے میں کسی ٹیم کے جان بوجھ کے ہارنے کی پلاننگ شامل ہے تو کیا مجھے اس ٹیم کی سپورٹ کرنی چاہئے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔
اس لئے میں انڈیا کی سپورٹ نہیں کر رہا تھا بلکہ نیوزی لینڈ کی سپورٹ کر رہا تھا۔ اگر نیوزی لینڈ جیتتی ہے تو مجھے خوشی ہونا کیا برا ہے؟
عجب سوچ ہے کہ اگر پاکستان انڈیا سے ہار جائے تو سپورٹس مین سپرٹ کا تقاضا ہے کے انڈیا کی تعریف کی جائے۔ ۔ ۔ ٹھیک ہو گیا جی۔ ۔ ۔ ۔ لیکن جب نیوزی لینڈ انڈیا سے جیت جائے تو سپورٹس مین سپرٹ کا تقاضا ہے کہ پھر بھی انڈیا کی تعریف کی جائے اور اس کے ہارنے پہ خوش ہونا سپورٹس مین سپرٹ کے خلاف ہے۔ کیوں بھائی نیوزی لینڈ کیا کرکٹ کھیلنے نہیں آئی تھی اس کی سپورٹ نہیں کر سکتے؟ یا ہمیں ہرانے کے لئے انڈیا خود سے ہار جائے۔ ۔ ۔ کیا اس کا غصہ ہم نہیں کر سکتے۔ کیا ہم روبوٹ ہیں۔
جذبات کا کھیل سے تعلق ہے۔ اور اگر جذبات نکال دئیے جائیں تو کھیل کھیل نہیں رہے گا اس لئے برائے مہربانی انڈیا کی ہار پہ خوش ہونے والوں کو سپورٹس مین سپرٹ کے طعنے دینے کی بجائے اپنی پسندیدہ ٹیم انڈیا کے ہارنے کا دکھ منائیں۔ مجھے تو انڈیا کے ہارنے کی خوشی ہوئی ہے اور بہت ہوئی ہے۔

محمد اشتیاق

محمد اشتیاق ایک بہترین لکھاری جو کئی سالوں سے ادب سے وابستہ ہیں۔ محمد اشتیاق سخن کدہ اور دیگر کئی ویب سائٹس کے لئے مختلف موضوعات پہ بلاگز تحریر کرتے ہیں۔ اشتیاق کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرنے والے ہیں جن کا کرکٹ سے متعلق اپنی ویب سائٹ کلب انفو ہے جہاں کلب کرکٹ کے بارے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ بہ لحاظ پیشہ محمد اشتیاق سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں۔