1. ہوم
  2. کالمز
  3. مطربہ شیخ
  4. شکارپور کا تعزیہ اور ٹھیلے والے بسکٹ

شکارپور کا تعزیہ اور ٹھیلے والے بسکٹ

محرم الحرام میں زندگی کا پہلا تعزیہ شکار پور میں دیکھا تھا کیا ہی خوبصورت، گلاب کے پھولوں سے بنا ہوا، معطر، غمگین اور بارعب۔ اب ہم شکار پور میں کیوں تھے اسکے لئے آپکو ایک پرانی تحریر "میں پیاری بھی تو نہیں ہوں ناں" پڑھنی پڑے گی۔

کراچی سے ہمارے دادا نے کچھ ضروری کتب اور کاغذات شکار پور میں رہائش پذیر "مولانا یاسین" کے گھر بھیجنے تھے۔ مولانا یاسین شکار پور میں جماعت اسلامی کے ناظم تھے۔

جب وہ سامان سکھر ہمارے گھر پہنچا تو ابو نے وہ چاچا سومرو کو دے دیا کہ کوئی شکار پور جا رہا ہو تو بجھوا دینا، لیکن چاچا سومرو بضد ہو گئے کہ ہم خود ہی چلتے ہیں کیونکہ محرم کی چھٹیاں آ رہی ہیں گھر میں بیٹھ کر بور ہونگے۔

میری اماں ان دنوں پریگنیٹ تھیں، یعنی ہمارا تیسرا اور آخری بھائی دنیا میں آنے والا تھا اور اماں ہم سب سے بیزار ہوئی بیٹھی تھیں اسی لئے اماں نے ہم دونوں بچوں کو ابا کے ساتھ کر دیا اور بہت ساری ہدایات بھی ہمارے شریر کانوں میں انڈیلیں۔

ہم دونوں بہن بھائی خوشی خوشی سومرو چاچا کی گاڑی میں شکارپور پہنچ گئے، پہلے مولانا یاسین کے گھر پہنچے۔

جہاں ہم کو پروٹوکول دیا گیا لیکن پلیٹ میں جو بسکٹ تھے وہ والے تھے جو ایک بار میں نے سکھر کے مینار والے بازار میں ٹھیلے پر فروخت ہوتے دیکھے تھے اور ابو سے کہا تھا یہ ٹیسٹ کرکے دیکھیں، لیکن ہمارے ابا کا یہ خبط ہے کہ انہوں نے چاہے کراچی ہو، لاہور ہو، مری ہو، سکھر ہو، استنبول ہو، یا لندن۔

کبھی بھی کسی ٹھیلے یا ڈھابے نما جگہ سے کوئی بھی شے ہم کو لے کر نہیں کھلائی۔ بقول انکے کہ صاف نہیں ہیں اور مضر صحت ہیں، اسی وجہ سے میں نے آج تک کراچی کا انڈے والا برگر نہیں کھایا ہے۔ نہ ہی ہم لوگوں کو چاٹ کی لت ہے۔

خیر وہ پلیٹ میں رکھے بسکٹ دیکھ کر بے ساختہ میرے منہ سے یہی نکلا، کہ ہم یہ نہیں کھاتے یہ ٹھیلے والے بسکٹ ان پر تو مکھیاں بیٹھتی ہیں، ابو نے ایک دم شرمندہ ہو کر پلیٹ اٹھا کر مجھے دی کہ بیٹا یہ وہ نہیں ہیں یہ دوسرے ہیں اور واقعی وہ اچھے بسکٹ تھے، یہ انکشاف بھی بعد میں ہوا کہ سکھر کے گھروں میں بسکٹ بنانے کی فیکٹریاں تھیں جو چند کرسچن اور مہاجر خاندانوں کی تھیں اللہ جانے اب ہیں یا نہیں یا سیاست کی نذر ہوگئیں۔

مولانا یاسین کے گھر سے ہم ابو اور چاچا کے مشترکہ دوست چاچا مہر کےگھر پہنچے، جہاں اچھا استقبال ہوا، اوطاق میں جب سب بیٹھ گئے تو میں اندر بھاگی جہاں چاچا مہر کی بیگم ایک بڑے سے جھولے میں بیٹھی پاندان سے پان کھا رہی تھیں، میں بھی جھولے میں چڑھ گئی اور انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے پان کھلایا یہ پان کی لالچ تھی جو مجھے کشاں کشاں شکارپور لے گئی تھی، کیونکہ چاچا مہر کی بیگم جب ایک بار سکھر آئیں تھیں، تو پاندان لے کر آئیں تھیں، اپنی دادی کے علاوہ کسی اور کے پاس پاندان دیکھنا بہت خوشگوار تجربہ تھا۔

سارا دن اور رات وہیں گزریں، دوسرے دن صبح سے ہی گلابوں والے تعزیے کا ذکر تھا، چاچا سومرو بھی پرجوش تھے، جب کہ میرے بابا اور چاچا مہر منطقی اور غیر جذباتی افراد ہیں وہ روایات کو خاص اہمیت نہیں دیتے، لیکن گھر میں باقاعدہ تعزیہ دیکھنے کی تیاری تھی، گھر کی خواتین اجرک و سندھی کڑھائی والی چادریں استری کر رہی تھیں، گلابی شربت کے جگ اور مٹی کے پیالوں میں کھیر چھوٹے لڑکوں کے ہاتھ باہر بھیجے جا رہے تھے، میں نے چاچا مہر کی ٹین ایجر بھتیجی سے پوچھا ہم کب تعزیہ دیکھنے بازار جائیں گے۔

کہنے لگیں، عورتیں بازار نہیں جاتیں، ہم ایک گھر کی چھت پر جائیں گے، لیکن میں بضد تھی کہ بازار چلیں لیکن چاچا مہر گھر کے اندر آئے اور سب کو ڈانٹا، کہ کوئی گھر سے باہر نہیں جا سکتا، میں ڈر کر دبک گئی۔

شام کو سب عورتیں چادریں پہن کر تیار تھیں، مجھے بھی چاچی نے ایک چھوٹی سی اجرک پہنائی پھر ہم لوگ مکان کے پچھلے دروازے سے نکلے اور تنگ گلیوں سےگزرتے ہوئے، ایک بڑے سے مکان کے سامنے پہنچ گئے جہاں عورتیں مکان کی چھت پر پہنچنے کے لئے تگ و دو کر رہی تھیں اور ایک دوسرے کو دھکے دے رہی تھیں، فطرت میں غصہ ہے سو مجھے اسوقت بھی غصہ آیا کہ کیسی عورتیں ہیں دھکے دے رہی ہیں اب غصہ ختم ہو چکا ہے اور لوگوں پر ہنسی آتی ہے۔

مکہ مکرمہ میں ریاض الجنتہ کے مقام پر بھی خواتین کو ایک دوسرے کو جان لیوا دھکے دیتے ہوئے دیکھا، جب پہلی بار عمرہ کرنے گئی تھی تو شاید کچلی جاتی، کیونکہ دھپ سے گر گئی تھی ایک انڈین خاتون نے مجھے اٹھایا تھا اٹھو اٹھو ورنہ مر جاو گی۔ میں تو بچ گئی تھی لیکن اسی دن ایک حاملہ خاتون دم گھٹنے سے فوت ہوگیئں تھیں۔

خیر کسی نہ کسی طرح ہم لوگ چھت پر پہنچ گیئں اور دیواروں پر لٹک گیئں، چھت زیادہ اونچی نہیں تھی لیکن کشادہ بہت تھی، بازار کا راستہ صاف نظر آ رہا تھا، اردگرد کی چھتوں پر بھی ہجوم تھا، عورتیں اور لڑکیاں کھڑکیوں اور دیواروں سے لٹکی ہوئی تھیں، کچھ کے ہاتھوں میں چبھیاں یعنی چھوٹی چھوٹی ٹوکریاں تھیں، جن میں گلاب کی پتیاں تھیں، ایک شور و ہنگامہ تھا، سب کو تعزیئے کا انتظار تھا، جو شکارپور کے ڈھک بازار سے آنا تھا۔

تھوڑی دیر کے بعد شور وغل اٹھا، اچی ویو، اچی ویو

سب کی نظریں ڈھک بازار کے راستے پر جم گیئں، جلوس کے شرکاء آہستہ آہستہ بڑے بازار کے راستے پر آ رہے تھے، علاقے کی فضا جو راستے میں موجود کھلی ہوئی نالیوں کی وجہ سے متعفن رہتی تھی، اس وقت گلاب کی خوشبو سے معطر ہو گئ، تعزیہ نظر آنا، شروع ہوا، محراب نما سا تھا، گلاب کے پھولوں سے ڈھکا ہوا، جن کی خوشبو نے علاقے کو مہکا دیا تھا۔

چند سیاہ علم اور ہرے جھنڈے بھی تھے، جلوس کے شرکاء ماتم آہستہ کرتے لیکن سندھی میں با آواز بلند کلام پڑھتے تھے، جس کا ایک صرف ایک ہی لفظ ہمیں سمجھ آیا "منجھو حسین" جب وہ یہ کہتے تھے تو زور سے سینے پر ہاتھ مارتے تھے۔ فضا میں خاموشی و احترام تھا سب عورتیں و بچے چپ تھے اور جلوس کو یک ٹک دیکھتے تھے۔

بیچ سڑک پر آتے ہی عورتوں نے چھتوں پر سے اور راستے میں کھڑے لوگوں نے جلوس پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرنا شروع کر دیں، کچھ لوگ شرکاء کو شربت پلا رہے تھے۔

چاچا سومرو بھی اہل جلوس سے سلام دعا کر رہے تھے اور داد بھی دے رہے تھے، میرے بابا خاموشی سے کھڑے دیکھ رہے تھے، میرے بھائی کے ہاتھ میں گلاب کی چند پتیاں تھیں جو وہ جلوس پر نچھاور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، چاچا سومرو نے اسے گود میں اٹھایا تا کہ وہ اپنا شوق پورا کر لے۔

تعزیہ اور جلوس بازار سے گزرتا رہا، دیکھنے والوں میں سے کچھ لوگ گریہ کر رہے تھے، کچھ پڑھ رہے تھے، کچھ خاموشی سے سر جھکائے کھڑے تھے۔

ہم بھی جلوس گزرنے کے بعد چاچا مہر کے گھر واپس پہنچ گئے۔

اسکے بعد ہم دو تین بار شکارپور گئے، سکھر اور کراچی میں کئی تعزیئے دیکھے، لیکن گلابوں والا خوبصورت و غمگین تعزیہ کبھی نہ نظر آیا۔

نہ ہی وہ محبت اور رعب اور سادگی جو اس جلوس و تعزیئے میں تھی اور لوگوں کے قلوب میں بھی تھی۔

جب ایک بار کراچی میں تعزیہ دیکھنے کے بعد میں اور میرا بھائی "منجھو حسین یا حیسن" کہنے لگے تو بابا اور دادی دونوں نے ڈانٹا کہ چپ کرو، لوگ سمجھیں گے تم بھی شیعہ ہو، بھائی نے کہا، کیوں کیا "حسین" صرف شیعوں کے ہیں ہمارے بھی تو ہیں۔