1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ثناء ہاشمی/
  4. ساوتھ ایشیاء میڈیا کانفرنس

ساوتھ ایشیاء میڈیا کانفرنس

حالیہ مردم شماری کے مطابق اس وقت پاکستان کی کل آبادی 21 کروڑ سے زائد ہے پڑوسی ملک بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک کہلاتاجس کے باشندوں کی تعداد ایک ارب بتائی جاتی ہے، آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک بنگلہ دیش ہے جبکہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے اڑتالیسواں بڑا ملک نیپال ہے 2012 میں سری لنکا میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق اسکی آبادی 20,359,439 ہے دنیا کاسپاٹ ترین ملک مالدیپ کو قرار دیا جاتا ہے جس نے سیاحت کو فروغ دے کر دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے چین اور بھارت کے درمیان میں واقع جنوبی ایشیا کا اہم اور چھوٹا سا ملک بھوٹان بھی جنوبی ایشیائی خطے میں شامل ہے جبکہ سارک ممالک میں شامل ملک افغانستان جو بظاہر تو آزاد ہے لیکن سپر پاور کے قابض ہونے کے باوجود اپنی زمینی حثییت کے بل پر کھڑا ہے واضع رہے کہ افغانستان گزشتہ پینتیس سالوں سے خانہ جنگی کا شکارہے، آج ان ممالک کے بارے میں لکھنے کا مقصد یہ ہے دنیا کہ نقشے پر یہ ممالک صرف موجود نہیں بلکہ اپنے محل وقوع اور تاریخ سے اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں جس کی اہمیت سے انکار کرنا دنیا میں طاقت ور قوتوں کے بس میں بھی نہیں، ان ممالک نے اپنے وجود کے احساس کو مزیدتقویت دینے کے لئے ایک پلیٹ فارم کے زریعے یک زبان ہوکر8 دسمبر1985 کو سارک ممالک کی تنظیم کی بنیاد رکھی جسکا مقصد آپسی یکجہتی کوفروغ دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ابھرتی عالمی طاقتوں کے سامنے متحد رہ کر خطے کی بقا اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہ یہ سارک ممالک ہندوستان کے شاطرانہ رویہ کی بھینٹ چڑھ گیا جبکہ پاکستان نے کئی بار سارک کانفرس کے انعقاد کے لئے رکن ممالک سے رابطے کر کے آپس کے تعلقات کی مضبوطی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کانفرس کے انعقاد کی کوشش کی لیکن بھارت کی نا نا نا نے اس معاملے کو لٹکائے رکھا ہے اور مبصرین کی رائے میں سارک تنظیم کی اہمیت گزرتے وقت کے ساتھ بڑھ گئی ہے لیکن افسوس کے ساتھ یہ تنظیم دم توڑتی دیکھائی دے رہی ہے جبکہ بعض کی رائے میں او آئی سی جیسی تنظیموں کے وجودتو ہیں لیکن انکے فیصلے اور رائے دنیا میں اپنی اہمیت کھو رہے ہیں، لیکن پاکستان ان ساوتھ ایشیائی ممالک کی اہمیت سے پوری طرح واقف ہے اسلئے ملک میں ایسے دور اندیش صحافی اور تنظیمیں ہیں جو اس مقصد میں اپنے کردار سے غافل نہیں، گزشتہ دونوں اسلام آباد میں پاکستان میڈیا ڈوولپمنٹ فاوونڈیشن کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا میڈیا کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ کانفرس میں پاکستان کے صحافیوں، تجزیہ کاروں سفیروں سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی، جبکہ انڈیا سمیت سری لنکا، بنگلہ دیش بھوٹان، افغانستان، مالدیپ اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک نے کانفرس میں شرکت کر کے اسکی اہمیت اور بڑھا دی کانفرس کے ہر سیشن میں جنوبی ایشیائی ممالک کے میڈیا کی اہمیت اور اسکی افادیت پر بھرپور گفتگو کی گئی سری لنکن صحافی دلررخشی نے سارک ممالک پر زور دیا کہ انھیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہونا چاھئے اور انڈیا پاکستان اپنے مسائل کو ٹیبل ٹاک سے حل کرے اور اسکا اثر جنوبی ایشائی ممالک پر نہیں ہونا چاھئے، انکا کہنا تھا کہ صحافی کی کوئی سرحد نہیں دنیا میں ہونے والے کسی بھی واقع کو پیش کرنا ہر صحافی کی ذمہ داری ہے لیکن جنوبی ایشائی ممالک میں موجود صحافی آج بھی اس بات کے انتظار میں ہیں کی سارک کی چھتری تلے کب کوئی بیٹھک ہوگی جو کہ ایک کمزور خواب ہے اس سے بہتر ہے کہ تمام جنوبی ایشائی ممالک کے صحافی اپنے لئے اس جیسے پلیٹ فارم کو استعمال کریں اور اس خطے کی تعلیم، غربت اور صحت سمیت اہم معاشرتی مسائل کو اجاگر کریں کانفرس میں بنگلہ دیش سے آئی صحافی سیدہ نازنین فردوسی کا کہناتھا کہ جنوبی ایشیائی ممالک دو ہاتھیوں کی لڑائی کی بھینٹ نہ چڑھائیں جائیں ہندوستان اور پاکستان کشمیر سمیت تمام معمالات کو خطے کے امن کے خاطر ڈائیلاگ کے زریعے حل کرے جبکہ انڈیا سے آئے صحافی شوشانت سنگھ کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے نظریاتی مسائل خطے پر اثر انداز ہوتے ہیں جسکے لئے دونوں ممالک کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ نیپال سے آئے صحافی مہندرہ بستاکا موقف تھا کہ اگر جنوبی ایشائی ممالک کے صحافی اپنی اپنی حکومتوں کی جنوبی ایشائی ممالک کی جانب دلچسپی کی راہ کو ہمورا کریں تو بہت سارے مسائل کا حل ممکن ہے لیکن اسکے لئے بنیادی طور پر ہر صحافی کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری سمجھنا ہوگی، پاکستان کے مایہ ناز، دانشور، جرنلسٹ، اور سینٹ کے سابق رکن جاوید جبار نے اپنے خصوصی سیشن میں پاکستان میڈیا ڈولپمنٹ کی چئیرپرسن دردانہ شہاب، پرزیڈینٹ ظہیر خان اور سیکرٹری جرنل امین یوسف کی کاوش کو سراہتے ہوئے جنوبی ایشائی ممالک کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر سراہا، سیشن کے پہلے روز وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اوراظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں شریک جنوبی ایشائی صحافی دنیا کو بتائیں کے پاکستان پہلے سے کتنا محفوظ ملک بن گیا ہے اور ایسی کانفرنس کی میزبانی پاکستان کے لئے باعث فخر ہے جس پر پاکستان میڈیاڈولپمنٹ فاونڈیشن کی ٹیم کے ہم شکر گزار ہیں جس نے سارک ممالک کو پاکستان میں جمع کیا اور وہ بھی ان لوگوں کی نمائندگی ہوئی جو صحافی ہیں جو اپنے قلم اور کیمرے کی طاقت سے زہن سازی کرتے ہیں کانفرنس میں سنئیر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی، حامد میر، معید پیرزاہ، ارشد شریف، مبشر زیدی، مہتاب اکبر راشدی، اقبال جمیل، سابق سفیر عبدالباسط، ، نجم الدین شیخ اور دیگر نے شرکت کی دو روزہ کانفرس کے آخری روز شرکاءکے لئے خصوصی عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جسکی میزبانی افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ نے کی افواج پاکستان کے ترجمان میجر جرنل آصف غفور نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور صحافیوں کے درمیان گھل مل گئے اور اس شاندار کانفرنس پی ایم ڈی ایف کے پریذیڈینٹ، چئیر پرسن اور جرنل سیکرٹری کے ویژن کو سراہا، اور ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ، افغانستان اور نیپال کے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دئیے ساتھ ہی مہمان صحافیوں کو فاٹا دورے کی دعوت بھی دی جس پر صحافیوں نے ناصرف خوشی کااظہار کیا بلکہ اس دورے کی دعوت بھی قبول کی یوں مہمان صحافیوں کو پر امن پاکستان کی ایک اور منفردتصویر دیکھنے کا موقع ملا، اس دورے میں موجود پاکستانی صحافیوں کے لئے بھی یہ ایک منفرد تجربہ تھا، فاٹا میں موجود 7 ایجنسیز جس میں میران شاہ سب سے بڑاعلاقہ ہے جہاں دہشت گرد قابض رہے اور اس علاقے کو اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل کیا ہوا تھا افواج پاکستان کے میڈیا ونگ نے صحافیوں کو ان تمام جگہوں کا دورہ کروایا جہاں طالبان کی ٹریننگس ہوا کرتی تھیں جن میں خودکش جیکٹس بنانے کی تربیت، اسلحہ چلانے کی تربیت دی جاتی تھی، ان غاروں کے دورے کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والا اسلحہ، غیر ملکی کرنسی کے علاوہ، دھماکہ خیز مواد بنا نے کے آلات اور بم بنانے کا سامان بھی دیکھایا گیا، میران شاہ پاک افغان باڈر سے17 کلومیٹر کے مسافت پر ہے اس علاقہ کو دہشت گردوں سے پاک کروانے کے لئے افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے ساتھ اس علاقے میں امن بحال کیا اور اس امن کی بھاری قیمت پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی صورت میں ادا کی ہے جسکے نتیجے میں اب وہاں امن اور سکون کا راج ہے افواج پاکستان کی قربانیوں کا صلہ ہے کہ یہ علاقہ پرامن اور دہشت گردوں سے پاک ہوچکا ہے جبکہ ان علاقوں میں رہنے والے عوام کے لئے صحت، تعلیم اور روزگار سمیت تمام شعبوں میں افواج پاکستان اپنی بھر پور مدد فراہم کررہی ہے جس پر عوام ناصرف اعتماد کرتے ہیں بلکہ انکی موجودگی کو باعث تحفظ سمجھتے ہیں دورے پر موجود صحافیوں نے افواج پاکستان کی کاوشوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے خطے میں پاکستان کی اہمیت پر اعتماد کرتے ہوئے حکومتوں کے درمیان، روابط کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر ضرور دیا، بظاہر یہ ایک کانفرنس تھی جس میں جنوبی ایشائی صحافیوں نے شرکت کی لیکن درحقیقت یہ کانفرس خطے میں ایک خوشگوار ہوا کا جھونکاہے جس کی تازگی برقرار رکھنے کے لئے اس عمل کو جاری رکھناہوگا۔ 

ثناء ہاشمی

ثناء ہاشمی نے بطور اینکر اے آر وائی، بزنس پلس، نیوز ون اور ہیلتھ ٹی وی پہ کام کر چکی ہیں۔ ثناء آج کل جی نیوز میں کام کر رہی ہیں۔ ثناء کے کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔