1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ثناء ہاشمی/
  4. پشیمان نہ ہونا پڑے !

پشیمان نہ ہونا پڑے !

اے ایمان والوںاگر کوئی نافرمان تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کر و، کہیں، ایسا نہ ہو کہ نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، اور پھر تمھیں اپنے کئے پر پشیمان نا ہونا پڑے - سور ة الحجرات آیات نمبر ۵ تا۶۔ 

مجھے نہیں معلوم کے ڈاکڑ شاہد مسعود کی جانب سے کئے جانے والے پروگرام میں جو خبر اور جس کرائم ریکٹ کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا گیا ہے اس میں کتنی سچائی ہے، ، لیکن ہم سب نے یہ اچھا وتیرا نکال لیا ہے کہ تحقیق کرنا ہمارا کام نہیں، ، مطلب الزام آپ لگا دیں بغیر سوچے سمجھے اور جب کوئی اس بارے میں آپ سے جواب طلبی کریں تو آپ یہ کہہ دیں کے یہ کام میرا نہیں آپ ریاست ہیں، آپکے پاس وسائل زیادہ ہیں آپ تحقیق کریں، ، مانا کہ یہ سچ ہے ریاست اپنے وسائل سے یہ تمام عمل کرسکتی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب آپ کسی کے بارے کوئی خبر دیں تو کم از کم، تحقیق ضرور کرلیں کیونکہ یہ اصول تو قرآن نے طے کردیا ہے، ہاں اب اس میں ایک اور معاملہ پر بات کی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے جو خبر ٹیلی ویژن پر دی اسکے زرائع کتنے سچے یا جھوٹے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں ایسے شخص کی شناخت نافرمان بتائی گئی ہے، ، اب نافرمان کی تشریح مجھ جیسے ناقص العقل کی سمجھ میں یہ آئی ہے کہ، نافرمان وہی ہوگا جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں سے روگردانی کرے، مثلا وہ، جھوٹا ہوگا، بدیانت ہوگا، فتنہ پرور ہوگا اور جو شخص ایسا ہو وہ یقینا نافرمان ہوگا، تو پھرڈاکٹر صاحب یہ بھی تحقیق کرلیں کہ جس زرائع سے وہ خبر پہنچی ہے اس شخص کی خود کیا حیثیت ہے؟ صحافی اپنے زرائع نہیں بتاتے، مان لیا لیکن صحافی یوں دست و گریبان بھی نہیں ہوتے، پچھلے چار سالوں میں پاکستانی میڈیامیں ایک مکمل تفریق دیکھائی دے رہی ہے، ایسا لگتا ہے میڈیا ہاوسز بانٹ لئے گئے ہیں، یا بانٹ دیئے گئے ہیں ( ایسا مجھے محسوس ہوتا ہے) اب اس میں سچ کیا ہے میں اس سے لاعلم ہوں اور اس تفریق میں سب سے بڑا نقصان ناظر کا ہے، ، کیونکہ نیوز کے ضمن میں آگاہی اور جاننے کا عمل جانبداری کی نظر ہوگیا ہے، ، پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جس پر کیچٹر نہ اچھالی جائے، ، سپریم کورٹ آف پاکستان جو پاکستان کا سب سے معزز ادارہ ہے وہاں بھی تنقید کے وہ نشتر برسائے جاتے ہیں لگتا ہے باپ تو مانتے ہیں لیکن باپ کی نہیں مان رہے، ، یہی حال افواج پاکستان کے ساتھ کیا گیا، فوج ہماری ہے، ، لیکن الزام ایسے لگائے جاتے ہیں جیسے دشمن ملک پر تنقید کی جارہی ہے، اور پاکستان کے پارلیمان پر تو لعنت تک بھیج دی گئی ہے باقی میڈیا نے جو حشر نشر برپا کیا بس اب یہ قصہ بھی جلد لپٹنے والا ہے، ، مطلب کوئی کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ جن زہنوں کی آبیاری ہی نفرت، اور خودپسندی پر ہو وہاں، ایک غیر جانبدانہ رویہ کا پروان چڑھنا مشکل دیکھائی دیتا ہے ایک صحافی دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ جن اداروں سے میں نے تعلیم حاصل کی ہے وہاں آپکو کوئی بھنگی بھی نہ رکھے یہ لب ولہجہ یقینا موزوں نہیں، ، پھر ٹی وی پر جھوٹا جھوٹا کی گردان کرنا بھی غیر اخلاقی اندازہے، ، بلیک واٹر ایک تنظیم ہے جس کے لئے پاکستانی صحافی کام کرتے ہیں، ، یہ کس حد تک منگھڑت بات تھی اور اس پر کتنا وایلا ہو اور کس کس کے نام آئے سب کو سب کچھ یاد ہوگا، ، یہ ڈیپ ویب یا ڈراک ویب کوئی نہیں اصطلاح نہیں ہیں، ان ویب سائٹ میں یہ کام آج سے نہیں ہو رہا، لیکن اس میں پنجاب کے کوئی وزیر ملوث ہیں، ، یہ کتنا سچ اور جھوٹ ہے وقت اسے بھی ثابت کردے گا، ، دن بھر کئی چینل دیکھے کسی کے پاس اس خبر کی تحقیق سے متعلق کوئی مواد نہیں تھا، ، بس بات سے بات نکال کو ائیر ٹائم پورا ہوتا رہا، ، زینب اور اس معاشرے کا مجرم عمران کہتا ہے کہ اس نے وہی سب کیا جو اس نے اپنی زندگی میں سہا ہے، یعنی اسکے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی اور اس نے اسکا بدلہ ہماری زینب سے لیا، بجائے اس عمل کے معاشرتی عوامل پر بات ہو، یہ دیکھا جائے کہ قصور شہر میں ایسے جرائم کی جڑیں کیوں مضبوط ہورہی ہیں؟ یہاں ایک دوسرے کے کپڑے چوک پر دھلنا شروع ہوگئے، بڑے صحافی ہیں کوئی کسی کا حامی کوئی کسی کا، سوشل میڈیا سے لیکر اخبار اور ٹی وی پر جو ایک خبر ہے وہ ہے ڈاکٹر شاہد مسعود، ، دوستوں عوامی مسائل کو اجاگر کرنا میڈیا کی ذمہ داری تھی ہے اور رہے گی اب اس کو کون کس حدتک نبھا رہا ہے وہ بہتر جانتا ہے، پہلے سیاستدان، اب اینکر بے وقوف بنارہے ہیں لوگوں کے فیس بک کا اسٹیٹس ہے یہ !کوئی ڈاکٹر شاہد مسعود کے سچے ہونے پراصرار کر رہا ہے اور کسی کی تکرار ہے کہ وہ جھوٹ کہہ رہے ہیں، اس جھگڑے میں عمران کی سزا کا مطالبہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے، رات کی تاریکی بھی صبح کی روشنی میں تبدیل ہونے میں وقت لیتی ہے لیکن ہماری ترجیحات، سالوں مہینوں، اور ہفتوں سے نکل کرمنٹ سے بھی آگئے نکل گئیں ہیں اور ہم لمحوں میں انکو بدلنے لگے ہیں اور شاید اس ہی وجہ سے ہم معاملے کی جزیات سے لاعلم رہ جاتے ہیں، ، اس خبر کی پشیمانی کا سہرا اگر اٹھانا پڑا تو اس میں اکیلے ڈاکٹر شاہد مسعود نہیں بلکہ وہ تمام لوگ شامل ہوں گے جو اس خبر کی آڑ میں ذاتی عناد نکال رہے ہیں اورایک اور ادارے یعنی میڈیا پر سے عوام کا اعتبار زائل کر رہے ہیں۔ 

ثناء ہاشمی

ثناء ہاشمی نے بطور اینکر اے آر وائی، بزنس پلس، نیوز ون اور ہیلتھ ٹی وی پہ کام کر چکی ہیں۔ ثناء آج کل جی نیوز میں کام کر رہی ہیں۔ ثناء کے کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔