/ کالمز / عابد ہاشمی / 11 جولائی: عالمی یومِ آبادی!

11 جولائی: عالمی یومِ آبادی!

پاکستان سمیت دُنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دِن منایا جا رہا ہے۔ دُنیا کی آبادی تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ایسے ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کامسئلہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے دُنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس کی آبادی ایک محتاط اندازہ کے مطابق بائیس کروڑ ہے۔ پاکستان کی آبادی میں سالانہ چالیس لاکھ نفوس کا اضافہ ہوتاہے۔ اگر آبادی بڑھنے کی یہی رفتار رہی تو 2050ء تک پاکستان 35 کروڑ کی آبادی کے ساتھ دُنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔ پاکستان میں آبادی میں اضافہ کی شرح دو فیصد ہے جو بھارت، سری لنکا، ملائشیا اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہے۔ کثرت آبادی کی وجہ سے اِس وقت ملک میں 44 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ آبادی کا پانچواں حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ تعلیمی سہولیات کے فقدان کے باعث 46 فیصد سے زائد بالغ آبادی نا خواندہ ہے۔
آبادی کے لحاظ سے دُنیا کا سب سے بڑا ملک چین ہے جس کی آبادی ایک ارب 34 کروڑ 75 لاکھ 63 ہزار 498 ہے جو عالمی آبادی کا 19.62 فیصد یعنی پانچواں حصہ ہے۔ دوسرے نمبر بھارت کی آبادی ہے۔ آخری مردم شماری تک آبادی ایک ارب 18 کروڑ 40 لاکھ 90 ہزار 490 ہے جو عالمی آبادی کا 17.24 فیصد ہے تاہم بھارت کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے بھارت آئندہ دو تین سال میں چین کی جگہ لے کر آبادی کے حساب سے دُنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائیگا۔ امریکہ آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ جس کی آبادی دُنیا کی آبادی کا 4.5 فیصد ہے انڈونیشیا اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ برازیل آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش کی آبادی سقوط ڈھاکہ سے قبل مغربی پاکستانی سے زیادہ تھی۔ اب اس کی آبادی پاکستان کی نسبت 2 کروڑ کم ہے اور بنگلہ دیش اس فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔ نائیجریا آبادی کے لحاظ سے آٹھواں بڑا ملک ہے روس جو رقبے کے لحاظ سے دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا 9 واں بڑا ملک ہے جاپان ٹاپ ٹین فہرست میں دسویں نمبر پر کھڑا ہے.
ڈیمو گرافک، ہیلتھ سروے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.40فیصدتک پہنچ گئی، اضافے کی شرح یہی رہی تو2046میں آبادی دگنی ہوجائے گی۔ سروے کے مطابق 2030 تک پاکستان دُنیاکاچوتھا سب سے گنجان آباد ملک بن جائے گا جبکہ 2040ء تک پاکستان میں 12 کروڑ مزید نوکریاں درکار ہوں گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت پانی کی کمی کا شکار دُنیا کے تین ممالک میں سے ایک ہے۔ بمطابق ڈیمو گرافک رپورٹ رہائش کے لیے ایک کروڑ 90لاکھ گھروں کی ضرورت ہوگی جبکہ 2040ء تک پاکستان میں 85 ہزارمزیدپرائمری سکول بنانے پڑیں گے۔ 2010سے دُنیا میں دیہی آبادی کے مقابلے میں شہری آبادی کا تناسب بڑھنے لگا۔ 2010 میں دُنیا کی کل آبادی 6958169159 تھی جس میں سے شہری آبادی3571272167 تھی، یوں شہری آبادی کا تناسب 51.3% ہوگیا۔ شہری آبادی کے تناسب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
2018 میں دُنیا کی کل آبادی 7632819325 تھی جس میں کل شہری آبادی 4186975665 ہے۔ شہری آبادی کا تناسب اب 54.9% ہوگیا ہے۔ 2018 میں شہری آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دُنیا کے ٹاپ ٹن ملکوں کی صورتحال یہ ہے کہ چین میں شہری آبادی کا تناسب 58% ہے۔ بھارت میں شہری آبادی 32%، امریکہ میں 83%، انڈونیشیا میں 54%، برازیل میں شہری آبادی84%، پاکستان میں 38فیصد، نائجیریا میں 49%، بنگلہ دیش میں 35%، روس میں 73% اور میکسیکو شہری آبادی کا تناسب78 فیصد ہے۔ آبادی کے اعتبار سے پاکستان اس وقت چھٹے نمبر پر ہے اور ماہرین کے مطابق دس سال بعد پاکستان دُنیا میں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آجائے گا۔ نہ صرف ملک کی مجموعی آبادی میں اضافہ ہوگا بلکہ شہری آبادی میں اور اس کے تناسب میں بھی اضافہ ہو گا۔ مہاجرین کی آمد پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد 1951ء میں ملک کی پہلی مردم شماری ہوئی جس کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 7 کروڑ 50 لاکھ تھی جس میں سے مشرقی پاکستان 4 کروڑ 20 لاکھ اور ہمار ی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ تھی۔ 1961 میں پا کستان کی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ اور مشرقی پاکستا ن کی آبادی پانچ کروڑ اور مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ تھی۔ 1972 میں آج کے پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ، 1981 کی مردم شماری میں یہ آباد ی 8 کروڑ 37 لاکھ، 1998میں آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ اور 2017 ء میں 20 کروڑ 77 لاکھ تھی۔ 16 دسمبر1971 کوایک جانب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور تقریباً تیس لاکھ بہاری وہاں کیمپوں میں رہے تو لاکھوں بنگالی غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے یہاں آئے۔
1974ء میں ملک میں قومی شناختی کارڈ کا اجرا ہوا۔ آزادی سے پہلے پاکستان میں شہروں کا سائز اور آبادی بہت کم تھی لیکن جو آبادی ہجر ت کر کے آئی یا جو تارکین وطن آئے اس کی 90% اکثریت شہروں میں آباد ہو ئی۔ قیام پاکستا ن کے وقت مغربی پاکستان سے 14% آبادی بھارت گئی۔ بھارت سے آنے والے افراد
ہماری آبادی کا 20% بنے، یوں چھ فیصد کا اضافہ تھا۔ 1961 میں آبادی کا تناسب 13.73% اور ان کی کل تعداد 60 لاکھ سے زیادہ تھی۔ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک پیدا ہونے والی آبادی عمر کے بڑھنے یعنی بوڑھا ہونے پر اموات کی وجہ سے کم ہوتی گئی اور ان کی وہ اولادیں جو پاکستان میں پیدا ہوئیں وہ پاکستانی تھیں۔ یوں 1970 بیرون ملک پیدا ہو نے والی آبادی کا تناسب 8.57% ہو گا اور ان کی کل تعداد 50 لاکھ ہو گئی۔ 1980 میں یہ تناسب 6.32% اس کے بعد 1990ء میں 5.87% اور 2000 ء میں یہ تناسب 2.97% ہوا لیکن یہ ضرور ہوا کہ شہری آبادی میں سالانہ شرح پیدائش سے بھی اضافہ ہوتا رہا اور دیہی علاقوں سے بھی آبادی شہروں میں منتقل ہوتی رہی۔
پاکستان بننے کے بعد ایک جانب ہمارے پاس چونکہ ایک ہی بندر گاہ کراچی تھی اس وقت تمام تر صنعتی یونٹ کراچی ہی میں لگائے گئے۔ کراچی شہرکو انگریزوں نے تعمیر کیا یہاں فرئیرہال 1865ء میں تعمیر ہوا، مگر 1856ء میں کلاچی گوٹھ سے کراچی بننے والے شہر کی آبادی56 ہزار ہو چکی تھی۔ یہ آبادی آزادی کے وقت تقریبا ساڑھے چار لاکھ ہو چکی تھی۔ 1951 میں یہ آبادی 10 لاکھ 58 ہزار ہوگئی، 1961 میں کراچی کی آبادی 69لاکھ ہو گئی۔ 1972ء میں یہ ایک کروڑ ہوئی۔ 1981ء میں افغانستان میں سابق سوویت یونین کی فوجی جارحیت کی وجہ سے 35 لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی اور ایک بڑی تعداد کراچی میں بھی آباد ہو ئی۔ کراچی کی آبادی 1998 میں دو کروڑ بتائی گئی اور یہ آبادی محتاط اندازوں کے مطابق 2015 میں دو کروڑ 40 لاکھ بتائی گئی۔
1941 میں کراچی کی آبادی 387000 تھی، 1951 کی مردم شماری کے مطابق 1068000 تھی، 1961 کی مردم شماری کے لحاظ سے 1913000 افراد کراچی میں آباد تھے، 1972 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 3515000 تھی، 1981 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی 5208000 شمار کی گئی، 1998 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 9339000 ہو گئی،
آبادی کے لحاظ سے کراچی کے بعد دوسرے نمبر پر لاہور ہے جس کی آبادی 1941 ء میں کراچی سے زیادہ تھی۔ لاہور کی آبادی اُس وقت 672000 تھی جو1951ء میں آزادی کے چار سال بعد 848000 ہو گئی اور اب 2017 کی مردم شماری میں یہ آبادی 11126285 ہوچکی ہے۔ کراچی کی طرح فیصل آباد (لائل پور) بھی انگریزوں نے تعمیر اور آبادکیا تھا، 1941 میں اس شہر کی آبادی صرف ستر ہزار تھی، 1951 میں یہ آبادی 179000 ہوگئی جو 2017 کی مردم شماری میں 3203846 ہو چکی ہے۔ راولپنڈی جو انگریزوں کی آمد کے وقت ایک دیہات یا قصبے کی مانند تھا یہ بھی کوئٹہ کی طرح افغان سرحد کے قریب بڑی چھاونی بلکہ ہیڈکوا رٹر ہو نے کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتا تھا اور جلد یہ ایک بڑا اور اہم شہر بن گیا۔ 1941ء میں اس کی آبادی 185000تھی جو1951ء میں بڑھ کر 237000 ہوگئی اور 2017 یہ آبادی 2098231 ہو چکی ہے۔ ملتان کی آبادی 1941ء میں 143000تھی، 1951ء میں یہ آبادی 197000 ہوگئی اور 2017 میں ملتان کی آبادی 1871843 ہو چکی ہے، حیدر آباد کی مجموعی آبادی 1941 میں 135000 تھی جو 1951 میں 242000 ہوگئی اور2017 کی مردم شماری میں یہ آبادی1732693 ہوگئی۔ گوجرانوالہ کی آبادی 1941 میں 85000 تھی 1951 میں 121000 ہوگئی اور 2017 میں یہ آبادی2027001 ہو چکی ہے۔ پشاور کی آبادی1941 میں 152000 تھی جو1951 میں بڑھ کر 173000 ہوگئی اور2017 کی مردم شماری میں یہ آبادی 1970042 ہوگئی۔ کوئٹہ شہر کو بھی کراچی، فیصل آباد کی طرح انگریزوں نے آباد کیا، اس کی بنیاد 1878میں رکھی گئی، 1935 کے زلزلے میں شہر کی پچاس ہزار آبادی میں سے 30000 افراد جاں بحق ہوئے، شہر دوبارہ آباد ہوا تو 1941 میں اس کی آبادی 65000 تھی جو1951 میں 84000 ہوگئی اور 2017 کی مردم شماری میں شہر کی آبادی 1001205 شمار کی گئی ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جو آزادی کے15 سال بعد 1962 میں تعمیر ہوا، 1972 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 77000 تھی جو1981 میں 204000 ہوگئی، 1998 کی مردم شماری میں یہ آبادی 529000 ہوگئی اور اب2017 کی مردم شماری میں اسلام آباد کی آبادی 1014825 شمار کی گئی ہے۔
جہاں تک تعلق ملک کی مجموعی آبادی کا ہے تو اس آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن جہاں تک تعلق دیہی اور شہری آبادی کے تناسب کا ہے تو آزادی کے بعد 1951 میں شہری آبادی کا تناسب 20% تھا جو1961 میں تقریباً 23% ہو گیا۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر آزادی سے قبل اور بعد میں شروع کے برسوں میں جب تک صنعتی ترقی نہیں ہو ئی تھی، دیہی آبادی 77 فیصد رہی، آج شہری آبادی کا تناسب 38% تک بتایا جا رہا ہے اور شہری آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، شہری آبادی میں ایک اضافہ تو سالانہ شرح آبادی میں اضافے کے سبب ہے تو دوسرا اور بڑا اضافہ دیہی آبادی کا شہروں میں منتقل ہونا ہے اور ایک تیسری وجہ ملک میں دوسرے ملکوں کے تارکین وطن کی آمد بھی ہے۔ شہری آبادی کے رجحان کا مشاہدہ کریں تو پہلی بار شہری آبادی میں اضافہ آزادی کے بعد ہوا جب آج کے پاکستانی علاقے سے 40 سے45 لاکھ ہندووں، سکھوں کے بھارت منتقل ہونے کے مقابلے میں وہاں سے 65 لاکھ مسلمان یہاں آئے۔ 1951 کی مردم شماری کے اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ اس سے کراچی کی آبادی میں 200% اضافہ ہوا۔
لاہور کی آبادی میں 20% اضافہ ہوا، فیصل آباد کی آبادی میں تقریبا ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہوا، ٹاپ ٹن شہروں کی آبادیوں میں پہلا بڑا اضافہ1951ء میں ریکارڈ کیا گیا جو ظاہر تقسیم ہند اور آزاد ملک پاکستان کے قیام کی وجہ سے ہوا تھا، دوسرا بڑا اضافہ کراچی، فیصل آباد اور حیدرآباد میں 1961کی مردم شماری میں ہوا، ملک کی شہری آبادی میں خصوصاً کراچی کی آبادی میں پھر اضافہ 1972 کی مردم شماری میں دیکھنے میں آیا، اس کی وجہ بنگلہ دیش کے قیام سے ذرا پہلے وہاں سے بہاریوں کی منتقلی تھی۔ 1970 کے پہلے عام انتخابات کے بعد 1972ء میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں قائم ہوئیں۔ بلوچستان کو پہلی بار 1970 میں صوبے کا درجہ دیا گیا تھا اور پہلی منتخب صوبائی حکومت قائم ہوئی اور کوئٹہ صوبائی دارالحکومت بن گیا۔ کوئٹہ کی آباد ی1941 میں 65000 تھی جو1951 میں 84000 ہوگئی اور1961 میں 107000 پھر 1972 میں کوئٹہ کی آبادی 158000ہوئی۔ واضح رہے کہ صوبائی دارالحکومت بننے سے یہاں صوبائی ملازمین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تھا، 1981 کی مردم شماری میں افغان مہا جرین کوشمار نہیں کیا گیا تھا۔ کوئٹہ شہر کی آبادی 286000 ہوگئی۔ 1998 میں کوئٹہ شہرکی آبادی 565000 ہوگئی اس مردم شماری کے 19 سال بعد 2017 میں مردم شماری ہوئی تو کوئٹہ کی آبادی ریکارڈ کے مطابق 1014825 ہوگئی۔ مردم شماری میں آبادی کم دکھا ئی گئی ہے جبکہ کوئٹہ کی آبادی اِس وقت 2500000 سے زیادہ ہے۔
لاہور کی آبادی میں 1981 سے تیز رفتار اضافہ ہوا۔ 1981 میں لاہور کی آبادی 2953000 تھی جو تیزی سے بڑھی اور 1998 میں یہ آبادی 5443000 ہوگئی۔ یہ آبادی 19 برس میں یعنی 2017 کی مردم شماری میں تقریباً دگنی یعنی ایک کروڑ گیارہ لاکھ چھبیس ہزار سے زیادہ ہوچکی تھی، 1941 میں لاہور کی آبادی صرف تین لاکھ 87 ہزار تھی جواب سوا کروڑ ہو چکی ہے اور آئندہ 10 برسوں میں یہ اندیشہ ہے کہ یہ آبادی دو کروڑ ہو جائے۔
کوئٹہ شہر 1878 میں آبادکیا گیا تھا، اس سے چند برس قبل ہی انگریزوں نے کراچی شہر بنایا تھا کو ئٹہ شہر 31 مئی 1935 کے زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہو کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا جو دوبارہ 1937-38 میں تعمیر ہوا، 65 لاکھ آبادی کا یہ شہر 2017 کی مردم شماری کے مطابق 10 لاکھ سے زیادہ آبادی کا شہر ہے مگر حقیقتاً 25 سے 30 لاکھ آبادی کا شہر ہے، زلزلوں کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہاں پہلے 1937 کے بلڈنگ کوڈ پر ساٹھ کی دہائی تک عملدرآمد ہوتا رہا، اِس وقت ملک کی تقریباً 22 کروڑ آبادی میں گذشتہ اٹھارہ برس کے اعداد وشمار کے مطابق ہمارے ملک میں قومیتوں اور لسانی گروپوں کا تناسب یوں ہے کہ پنجابیوں کا تناسب 44.15%، پشتون 15.4%، سندھی 14.1%، سرائیکی10.5%، اردو 7.57%، بلوچی یا بلوچ3.7% تھی۔ پاکستان کا سب سے نیا شہر اسلام آباد ہے جو 1962 میں اُس وقت آباد ہوا جب ملک کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ 1972ء میں جب ملک میں پہلی منتخب پارلیمانی جمہوری حکومت قائم ہوئی توآج کے پاکستان کی مردم شماری ہوئی اور اس میں پہلی باراسلام آباد کی آبادی بھی شمارکی گئی تو1972 میں اسلام آباد کی کل آبادی
77 ہزار تھی یہ آبادی1981 میں دولاکھ چار ہزار ہوگئی یہ آبادی 1998 میں بڑھ کر پانچ لاکھ انتیس ہزار ہوگئی اور اب 2017 میں اسلام آباد کی آبادی 1014825 ہو چکی ہے۔ شہر تک آبادیوں کا تسلسل ٹوٹتا ہی نہیں اس لیے یہ کہنا کہ اب تک ہماری شہری آبادی کا تناسب کیا 34% سے38% تک ہے۔
ہمیں وقت کی نزاکت، اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے جامع حکمت ِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔