Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / عابد ہاشمی / عالمی یومِ امن

عالمی یومِ امن

پاکستان سمیت دُنیا بھر میں امن کا عالمی دِن 21 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد شورش کا خاتمہ اور قیام امن کے لیے سخت محنت کرنے والوں کی کاوشوں کا اعتراف کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے زیر ِ اہتمام امن کے عالمی دن کو 'یوم امن' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گو کہ پہلا عالمی یوم ِامن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2001 میں منانے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی فیصلے تحت پہلا عالمی امن 21 ستمبر 2002 ء کو منایا گیا۔
اس کے بعد ہر سال 21س تمبر کو دُنیا بھر میں امن کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس سلسلے میں دُنیا بھر میں امن کے افکار کے فروغ کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس سال عالمی یوم امن کا عنوان پائیدار ترقی کے سترہ اہداف اور امن کے لئے کاوشیں ہیں جس کی متفقہ منظوری اقوام متحدہ کے 193ممبر ممالک نے ستمبر 2015ء میں دی تھی 2030 تک یہی ایجنڈا چلے گا جو کہ اپنے ممبر ممالک پر زور دیتا ہے کہ ان اہداف کہ حصول کے لئے اگلے پندرہ سالوں میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں جن میں غربت، نا انصافیوں، عدم مساوات کا خاتمہ اور تمام ممبر ممالک میں بسنے والے افراد کے لئے خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔
پائیدار ترقی کے اہداف، انسانیت، مشترکہ بصیرت، دُنیا بھر کے لیڈراور عوام کے مابین ایک سماجی معاہدہ ہے۔ بڑھتے ہوئے عالمی مسائل میں غربت، افلاس، انسانی ذرائع کی کمی، جہالت صحت کی عدم سہولیات، پانی کی کمی، سماجی عدم مساوات، ماحولیاتی آلودگی، بیماریاں، کرپشن، نسل پرستی شامل ہیں جوکہ امن کو برقرار رکھنے کے لئے بہت بڑی رکاوٹیں ہیں۔
امن سماج کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں تمام معاملات معمول کے ساتھ بغیر کسی پر تشدد کے چل رہے ہوں۔ امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحتمند، مثبت بین الاقوامی یا بین انسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں معاشرے کے تمام افراد کو سماجی، معاشی مساوات اور حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ انسان ابتدائے آفرینش سے ہی امن، چین، خوشی، سکون اور اطمینان کا خواہاں رہا ہے۔ کیونکہ امن ہر انسان کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی انسان اس وقت تک چین و سکون اور خوشی سے نہیں رہ سکتا جب تک اسے ہر طرح کا امن حاصل نہ ہو۔ اسی طرح کوئی بھی سماج، معاشرہ اور ملک امن کے بغیر خوشحال نہیں بن سکتا۔
اسی لیے تو آج سائنس و ٹیکنالوجی کی اتنی ترقی کے باوجود بھی ہر زبان پر امن کا نعرہ ہے، ہر مذہب و قوم اور ملک امن کا علمبردار ہے۔ ہر باشعور قلب و ذہن امن کا متلاشی ہے، ہر صاحب عقل امن کی تلاش میں ہے۔ گویا کہ امن ایک کھویا ہوا خزانہ ہو جو ڈھونڈنے سے مل جائے گا۔ امن کی تلاش کے لیے اب تک دُنیا بھر میں بڑی بڑی لاتعداد تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں۔ امن کے بین الاقوامی ایوارڈز متعارف ہوچکے ہیں۔ لاتعداد نت نئے قوانین بن چکے ہیں۔ نئی نئی اور قسم قسم کی تعزیرات وجود میں آچکی ہیں۔
لیکن افسوس! کہ اتنی تلاش اور کوششوں کے باوجود بھی جہاں بھی دیکھیں گلوبل سطح پر حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیں، ہر طرف خوف و ہراس، انتشار و افتراق، بد امنی اور خونریزی کا بازار گرم ہے، خوف وغم کی گھٹائیں افق عالم پر چھائی ہوئی ہیں، چین و سکون عنقاء اور لڑائیاں، جھگڑے، فسادات عام ہیں، ہر طرف مسائل کا انبار لگا ہوا ہے، کسی کو سکون میسر نہیں، اولادِ آدم طرح طرح کی نفسیاتی، ذہنی، فکری اور روحانی مشکلات کا شکار ہے۔ بالخصوص امت ِمسلمہ مسائل کی دلدل میں پھنسی ہے۔ وادی کشمیر میں تاریخ کا بدترین کرفیو نافذ ہے۔ برما، فلسطین، سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ تو جب تنظیموں، قوانین، ایوارڈز اور تعزیرات وغیرہ سے امن ممکن نہیں تو پھر آخر کرنا کیا چاہیے؟ کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیے؟کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے؟ تاکہ اس بدمنی کا خاتمہ ہو اور ہر طرف امن وامان اور چین و سکون کا دور دوراں ہو۔ جی ہاں! ہمارے پاس بدامنی کے خاتمے اور امن کی فضا قائم کرنے کا ایک زبردست فارمولا ہے۔ وہ ہے "اسلام"۔ اسلام سراپا دینِ امن ہے۔ اسلام سراپا رحمت ہے۔ اسلام سراپا سلامتی ہے۔ جن غیر مسلم محققین نے تعصبات سے بالاتر ہوکر غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور خلوص دل سے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی ہے وہ اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے کہ دُنیا میں صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو امن و سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، جو ہر سطح پر دہشت گردی اور تخریب کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جو موجودہ فسادات، جھگڑوں اور بدامنی کا واحد علاج ہے۔ اسلام پر مکمل عمل پیرا ہوکر ہم نہ صرف اس بدامنی کا خاتمہ کرسکتے ہیں، بلکہ قلبی چین و سکون اور اطمینان بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ جس سے اکثریت فی زماننا محروم ہوچکی ہیں۔
امن کی علمبرداراقوام متحدہ سے قیامِ امن کی توقع اور امید رائیگاں ہے، کیونکہ وہ اگرچہ قیام امن کے لیے قوانین تو بناتی چلی آئی ہے، لیکن عملی طور پر اس قائم نہیں رہی ہے۔ امن کے نام پر پوری دُنیا، خاص کر مسلم ممالک میں امن و تشدد کے نام پر بھیانک جنگ کی حوصلہ افزائی اور مسلم ممالک کے احتجاج پر مسلسل خاموشی اختیار کرتی چلی آئی ہے۔ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کو دیکھے۔ کشمیر میں مودی نے کیا گل کھلائے۔ وہاں انسانیت سسک رہی ہے، لیکن مجال ہے کہ کوئی کچھ کرے۔
لیکن اسلام ہی ایک ایسا فارمولا ہے جو اس دھرتی کو گہوار? امن بناسکتا ہے۔ اسلام نے اس وقت امن کا پیغام دیا جب امن اور آپس میں محبت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ عدل و انصاف کا فقدان تھا۔ ہر طرف نفرتوں اور باہمی عداوتوں کے گھٹا توپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ معمولی باتوں پر نسل در نسل دشمنیاں کرنا معمول بن گیا تھا۔ ایک دوسرے کی کھوپڑیوں میں شراب پینا باعث فخر سمجھا جاتا تھا، لیکن جب اسلام آیا تو امن و آشتی، محبت و اخوت، خیر سگالی، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی ایسی روشنی لے کر آیا جس سے پوری دُنیا روشن ہوگئی۔ دُنیا سن لے کہ سائنس وٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقیوں اور ایجادات سے وہ آسمان کی طرف چڑھ سکتے ہیں، سیاروں پر جاسکتے ہیں، سمندر کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن امن امان اور سکون و اطمینان جو ان سارے سامانوں اور کارخانوں کا اصل مقصد ہے وہ نہ ان کو کسی سیارے میں ہاتھ آئے گا، نہ کسی نئی ایجاد میں، وہ ملے گا تو صرف اور صرف اسلام اور اس کی تعلیمات میں آج کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہمیں امن کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ امن کے دشمن بھارت کو خطہ کے امن کو تباہ کرنے سے روکنا ہو گا۔ ورنہ دواٹیمی قوتوں کی جنگ کی صورت میں دُنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے۔

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔