/ کالمز / عابد ہاشمی / جہیز نہیں، حقِ وراثت دو!

جہیز نہیں، حقِ وراثت دو!

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب و خلیفہ بنایا۔ اور پھر اشرفِ المخلوقات کا درجہ دینے کے ساتھ عقلِ سلیم دی۔ انسان یہ جانتا ہے کہ اس کے قول و فعل سے کسی کا فائدہ یا نقصان ہے۔ اسلام ایک مقصدِ حیات دیتا ہے جس میں مساوات اہم عنصر ہے۔ جہاں عدل و انصاف مٹا جاتا ہے وہ قوم بھی لفظ غلط کی طرح صفحہِ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مثالی حقوق دئیے ہیں۔ لیکن ہماری فرسودہ رسومات نے انہیں کے حقوق سلب کیے۔ معاشرے میں ہماری بہن بیٹی وراثتی حقوق سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان:مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جوماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑاہو، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ و رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، چاہے چھوڑا ہوا مال تھوڑا ہو یا بہت۔ اور یہ حصہ اللہ کریم کی طرف سے مقرر ہے،،۔ اسی حوالہ سے ارشاد رحمت العالمین ﷺ: جس شخص نے ظلم کرتے ہوئے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہڑپ کرلی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنے حصے کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے والا شخص جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے۔ اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے وطن میں بھی آج یہ رسم ہی ختم ہو چکی۔ جائیداد میں حق دینا تو درکنار بہن، بیٹی کو جائیداد کی تقسیم کے وقت پوچھنا بھی گوارہ نہیں کیا جاتا۔ جائیداد سے محروم کرنے کی روایت ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے۔ بہن بیٹی کا یہ حق مانگنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ معاشرہ کی تباہی کی ایک نشانی تقسیمِ وراثت میں انصاف کا نہ ہونا بھی ہے۔ وطنِ عزیز میں پانچ فیصد ہی ایسے لوگ ہوں گے جن کی ہاں بہن، بیٹی کو حقِ وراثت دیا جاتا ہو گا۔ جس معاشرہ میں سگے بھائی سے بہن کو انصاف نہ ملا تو پھر کہاں سے انصاف ملے گا؟ بھائیوں کے ہاتھوں بہنوں کے حالاتِ زیست تنگ سے تنگ تر ہوتے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرہ میں مجموعی طور پر تناؤ رہتا ہے۔ اور پھر سماجی رشتے تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں۔ وہ بہن جوبچپن سے ہی بھائیوں سے کم تر سمجھی جاتی ہیں۔ بھائی کے کپڑے دھونا، کھانا بنانا، برتن دھونا، صفائی ستھرائی حتیٰ کہ جوتیاں تک پالش کرنا سب بہن کے ذمہ ہوتا۔ لیکن کیا ستم ہے کہ بہن کے حقوق پر بھائی ہی ڈاکہ مار کہ بیٹھ جاتے ہیں اور تاحیات خود اور نسل کو حرام کا رزق کھانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پہلے ہی عورت اس متعصب خیال معاشرہ میں گھریلو حالات، غربت، افلاس، تنگ دستی، محرومی، تشدد جیسے مسائل کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ساتھ ہی جب مجبوراً روزگار کی متلاشی گھر سے باہر نکلتی ہیں تو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔ خواتین کو مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جن میں ریپ، قتل، مار پیٹ، جسمانی اور ذہنی، نفسیاتی ٹارچر کرنے جیسے درد ناک حربوں سے عورتوں کی شخصیت کو متاثر کیا جاتا ہے۔ رہی سہی کسر ہماری خود ساختہ جہیز جیسے ناسور نے نکال دی۔ کئی دولت کے نشہ میں برات پر سونے کی بارش تو کہیں مجبوری کے آنسو۔ یہ عدمِ مساوات ہے جو معاشرہ میں دیمک کی مانند ہے۔ اسلام نے بہن بیٹی کو حقِ وراثت دیا۔ ہم نے جہیز کی آڑ میں ان کے حقوق سلب کر لیے۔ اور ایسی رسم بن چکی کہ کئی بہن، بیٹیاں جہیز کی انتظار میں ان کے بالوں میں سفیدی اتر آئی یہ ان سر پرستوں سے پوچھا جا سکتا جن کی بہن بیٹیاں اس نہج تک پہنچ چکی۔ اور کئی گھرانے اس رسم کو پورا کرنے کی خاطر تاحیات مقروض ہو چکے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں غریبوں کی بہن، بیٹیاں کیوں نظر نہیں آتی؟ ان کی آہیں سسکیاں سنائی کیوں نہیں دیتی؟ کیا ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟ آج پاکستان میں کتنے بھائی ہیں جو بہن کو جائیداد میں خوش دلی سے حق دیتے ہیں۔ کیا بہن کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارے معاشرے میں اکثریت عورتیں ظلم و ستم سہتی ہیں یا پھر آخری حد تک چلی جاتی ہیں اور خود کشی کر لیتی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے ان کی کہیں بھی سنوائی نہیں ہوگی۔ یہ افراط و تفریط نزولِ قرآن سے پہلے بھی تھی۔ ہمارا معاشرہ اب بھی محفوظ نہیں۔ انسانیت کا نام و نشان تک مٹتا جا رہا ہے۔ ایک بہن اسلامی معاشرہ میں بھائی کے ہاتھوں مظلوم بنتی جا رہی۔ انصاف دلوانے والا کوئی مسیح نظر نہیں آتا تو وہی بہن، بیٹی ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ اور آخر کار تھک ہار کر چپ ہو کر بیٹھ جاتی ہیں۔ آئے روز بہن بیٹی پر جہیز کم لانے کی، کبھی بھائی، شوہر سے انصاف کا تقاضا کرنے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ کئی پر تیزاب پھینک کر انسانیت کی حدیں پار کی جاتی ہیں، کئی سنگ دل بھائیوں نے بہنوں کے جنازے تک خراب کر دئیے۔ آج ہم نے بہن، بیٹی کو اسلامی نظامِ زندگی دینے کے بجائے فیشن، جہیز کی بھینٹ چڑھا دیا سگے بیٹے ماں، اور حقیقی بھائی بہنوں کی زندگی کا چراغ زمین کی وجہ سے گل کر رہے ہیں۔ عورت چاہے ماں، بیٹی، بہن، بیوی ہو ہمیشہ مظلومیت کی تصویر بنتی ہے۔ جو والدین کی وفات کے بعد بھائی صاحبان میراث کی تقسیم میں اپنے آپ کو خود مختار سمجھنے لگتے ہیں جسے چاہیں میراث میں حصہ دار بنا دیں اور جسے چاہیں محروم کر دیں اور عموماً یہ محرومی بہن کے حصہ میں ہی آتی ہے، اسلام کا کتنا حسین و جمیل فیصلہ حقِ وراثت ہے۔ جو باہمی حسن و سلوک سے پروان چڑھتا ہے۔ مگر یہ خوبصورت طریقہ تقسیم اکثر و بیشتر ہماری رسومات کے ہاتھوں سزا بن جاتا ہے، بعض اوقات مرد کی ناجائز حاکمیت اور خود ساختہ کی انا گھریلو جبر اور ظلم تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ آج جو ہماری بہن، بیٹی ظلم و تشدد میں پس رہی، یا بازار کی رونق بنی، بے حیائی، فحاشی، عریانی کا بازار گرم ہے تو اس میں ہمارا اپنا بھی کردار شامل ہے۔ کیونکہ اگر ہم خود بہن، بیٹی کو شریعت کے مطابق حقوق نہیں دے سکتے تو اس کا انجام یہی ہونا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ اسلام نے سماج کے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی شاندار انداز میں سیلقے سے سلجھا دیا گیا۔ تاکہ میراث کی تقسیم میں کوئی اختلاف نہ ہو اور اسلام کے عدل و انصاف پر مبنی نظامِ وراثت کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر کے ان کی برکت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ انتہائی افسوس کی بات کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم کسی کو حق دینا گوارہ نہیں کرتے جس کی بدولت معاشرہ انتشار کا شکار ہے۔ اس لیے اپنی بہن، بیٹی کو جہیز نہیں، حق وراثت دو تاکہ وہ بہنیں، بیٹیاں جن کا جرم صرف غریب گھرانے میں پیدا ہونا ہے وہ بھی اس جہیز کے ناسور کی وجہ سے پریشانی سے نجات پا سکیں اور ہمارے معاشرے میں عدل وانصاف ہو۔ جو اسلام ہم سے چاہتا ہے۔ 

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔