/ کالمز / عابد ہاشمی / خوشیاں بانٹنے کا نام عید!

خوشیاں بانٹنے کا نام عید!

عید کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ ہے۔ تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں جو عید کے تصور سے آشنا نہ ہو، تمدن دُنیا کے آغاز کے ساتھ ہی عید کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔
دُنیا کی تقریباً سبھی قوموں میں تہوار منانے کا رواج ہے اور ہرمذہب کے لوگ اپنی روایت کے مطابق تہوار مناتے ہیں، حضور ﷺ نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی امت کے لئے دعا فرمائی اور دوعیدیں مسلمانوں کے لیے مقرر کر وا لیں، جب پہلی بار مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے تو تاریخ اسلام کے اس پہلے رمضان المبارک میں حضور ﷺ نے مدینہ کے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے تم بھی عیدیں مناتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے۔ اب تم ہر سال شان سے عیدالفطر اور عیدالا لضحیٰ منایا کرو۔ اسلام کا کوئی حکم بھی حکمت سے خالی نہیں اور پھر اسی مبارک مہینے میں زکٰو ۃ نکالی جاتی ہے یعنی امیر لوگ غریبوں کو دینے کے لئے ضرورت مندوں کی مددکرنے کے لیے اپنی جمع پونجی (آمدنی)میں سے اسلامی قوانین کے مطابق کچھ رقم نکالتے ہیں اور غریبوں میں اس طرح تقسیم کرتے ہیں کہ بہت سے غریب گھرانوں اور حاجت مندوں میں کھانے پینے کی چیزیں اور پہننے کے لئے کپڑے خرید لئے جاتے ہیں اور یوں سب عید کی خوشیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی ماہ صدقہ فطر دیا جاتا ہے جو ہر امیر، غریب، غلام پر واجب ہے۔
مسلمانوں نے اپنے پیارے رسول ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں یکم شوال دو ہجری کو پہلی بار عید منائی، عید الفطر حقیقت میں مسلمانوں کی خوشی اور مسرت کا وہ محبوب دن ہے، جو سال بھر میں صرف ایک مرتبہ انہیں نصیب ہوتا ہے۔ ایک ماہ مسلسل اللہ کی عبادت کا فریضہ ادا کر کے مسلمان اپنے دل میں مسرت اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے قلب میں ایمان کی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ اور ان کے دل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ روزے رکھ کر انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر لی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ہر سال مسلمان چھوٹا بڑا امیر غریب مرد عورت غرض ہر شخص رمضان المبارک کے اختتام پر بڑے تزک واحتشام سے عید الفطر مناتے ہیں۔ باقی نہ رہے کوئی بھی غم عید کے دن، ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اترے۔
عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ معاشرہ ایک سے زائد افراد کے باہم مربوط گروہ کا نام ہے جو ایک مخصوص خطہ ارض پر طے شدہ معیارات کے تحت آپس میں میل جول رکہتے ہیں اور معاملات کرتے ہیں۔ یہ معیارات صدیوں کے ارتقاء اور نسل در نسل اپنے آباؤ اجداد کے اتباع کی بدولت وجود میں آتے ہیں اور نہایت آہستگی کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہمارے اردگرد بہت سے افراد /خاندان ایسے ہیں جن کے پاس عید کرنے تو دور دو وقت کی روٹی کے وسائل دستیاب نہیں۔ یہ ظلم ہے کہ ہم خود تو عیش و عشرت کریں اور غریب بے بسی کی تصویر بنے رہیں۔ اسی لیے صدقہ ِ فطر مقرر کیا گیا۔ لیکن ہم حسب استطاعت نہیں دیتے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ آخری ایام میں کم از کم فطرانہ ادا کیا جائے۔ کیا اس مہنگائی کے طوفان میں ایک غریب ہزار پندرہ سو میں خاندان کو عید کروا سکتا ہے؟ہمیں دوسروں کا احساس کرنا چاہیے۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے دِیا ہے اس حساب سے فطرانہ دیا جانا چاہیے تاکہ غربا، مسکین، نادار بھی شریک ہو سکیں۔
خوشیاں منائیں نئے کپڑے نئے جوتے لیکن اس کے ساتھ ہی ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس خوشی کے موقع پر اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو بھی نہ بھولیں، حسب توفیق انہیں بھی اپنی عید کی خوشیوں میں ضرور شریک کریں۔ عید اصل میں ہے ہی دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کا نام ہے یا دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے کا نام ہے۔ یہ عید تیرے واسطے خوشیوں کا نگر ہو۔
اگر ہمارے پڑوس میں خاندان میں کوئی عید کی خوشیوں شامل نہیں ہو سکتا غربت کی وجہ سے تو اس کی مدد کرنے سے ہی عید کی دلی خوشیاں ملیں گئیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مہنگائی نے عوام میں سے اکثریت کی زندگی مشکل کر دی ہے ہم کو چاہیے خاص طور پر ان مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی تا کہ وہ غریب مسلمان بھی مسرتوں اور خوشیوں کا تھوڑا سا حصہ حاصل کر سکیں اور ویسے بھی ایک غریب مسلمان کی خوشی کے موقع پر بے لوث مدد اور خدمت کرنے سے جو روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے۔ اور ایسی مدد کرنے پر خدا اور رسول ﷺ بھی خوش ہوتے ہیں اور اگر ہو سکے تو ابھی سے ان کی مدد کر دیں تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے کپڑے خرید سکے، یہ ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہم پر فرض ہے۔ اللہ نے ہم کو دیا ہے تو ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے۔
خصوصاًآج کے دور میں پاکستان دہشت گردی اور بھارت کی معاندانہ کارروائیوں سے نبرد آزما ہے۔ محنت کش کم معاوضے پر کام کرنے پر مجبور ہیں، ان کی آمدنی اتنی ہے کہ وہ شاید وہ اس اس عید کی خوشی آنسو، سسکیوں مناتے ہوں۔ شاہد ان کی بچے آپ کی امداد کے منتظر ہوں، اگرچہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ساتھ سہولتوں کے حوالے سے مساویانہ سلوک کرے۔ یہاں ایک بڑا طبقہ محرومیت کا شکار ہے وہ کسی سے مانگ نہیں سکتا، کم تنخواہ میں گزارہ کرتا ہے۔ یہ واویلا بھی نہیں کرتے، اللہ کے لئے ان محروم طبقات کا احساس کیجئے گا، مانگنے والے تو جمع کر لیں گے ان نیم سفید پوش حضرات کو تو خود تلاش کرنے کی ضرورت ہے ان کو تلاش کر لیجئے، کہ یہ حق دار ہیں۔ خصوصاً استحصال کا شکار اور محروم طبقات کو کہ وہ آج بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔