Sunday, 15 September 2019
/ کالمز / عابد ہاشمی / پیغامِ کربلا!

پیغامِ کربلا!

آج امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین ؓ کا یوم شہادت پُورے عالم اِسلام میں روایتی مذہبی عقیدت ا ور احترام سے منایا جارہا ہے۔ نواسہ رسول ﷺ سیدنا حضرت امام حسینؓ کی المناک شہادت کا واقعہ تاریخ اسلام میں ہمیشہ لہو رنگ الفاظ میں لکھا گیا اور بادیدہ تر پڑھاگیا۔
10تاریخ ِانسانی میں روئے زمین پر ایسا کوئی دوسرا واقعہ رونما نہیں ہوا اور تا قیامت امام عالی مقام کے کرب و بلا کی باز گشت سنائی دیتی رہے گی۔ سانحہ کربلا در حقیقت حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکا تھا۔ وقت کا یزید ہر صورت امام حسین کو اپنی بیعت کرنے پر مجبور کر رہا تھا وہ طاقت کے نشے میں سرشار تھا اور مفاد پرستوں کا ٹولہ اس کا ہمنوا امام حسین جن کی تربیت ان کے نانا آنحضرتﷺ کے زیر سایہ ہوئی، یزید کی چالاکیوں، چالبازیوں اور مکر و فریب سے پوری طرح آگاہ تھے انھوں نے دین ِاسلام کی بقا، سر بلندی اور دوام کے لیے یزید کی مطلق العنانی کی بیعت کرنے کی بجائے حق و صداقت کا پرچم بلند کیا اور جرات و بہادری سے یزید کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خون سے دین اسلام کو نئی زندگی، قوت اور سر بلندی عطا کی۔
نواسہ رسول نے باطل، جابر اور ظالم کے سامنے سر جھکانے کی بجائے سر کٹانے کی جو لازوال مثال قائم کی وہ قیامت تک کے لیے تاریخ میں امر ہو گئی۔ فاطمۃ الزہرہ کے لعل نے اپنے لہو سے حق و باطل کے درمیان سچائی کی جو فیصلہ کن لکیر کھینچی اس نے یہ ثابت کر دیا کہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو ظالم، باطل، آمر اور جابر قوتوں کے سامنے سر جھکانے کی بجائے سر کٹانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 14 سو سال گزارنے کے بعد بھی سانحہ کربلا اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ لوگوں کے قلب و ذہن میں ترو تازہ ہے۔
ہم نے جب سے اسلاف کی پیروی چھوڑی تو مجبوریوں، محرومیوں، مایوسیوں اور ناکامیوں نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، غربت، جہالت، پس ماندگی، افلاس، مسلکی و فقہی اختلافات، مذہبی منافرت، انتہا پسندی و فرقہ واریت اور دہشت گردی مسلمان ملکوں کی پہچان بن چکی ہے۔ اسلام تو امن و آشتی کا دین ہے یہ صبر، تحمل، برداشت، میانہ روی، اعتدال پسندی، رواداری اور اقلیتوں کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔
عالم اسلام کو آج مشکل اور سنگین چیلنجوں اور کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے دین اسلام رسوائیوں کی دلدل میں اترتا جا رہا ہے۔ اس زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، سرکار مدینہؐکے اسوہ حسنہ سے بے اعتنائی اور نواسہ رسولﷺ امام عالی مقام حضرت امام حسین کے لہو سے رقم ہونے والے پیغام کربلا کو بھلا دینا ہے۔
دُنیا بھر کے مسلمان ہر سال امام عالی مقام اور ان کے رفقا کی شہادت کو جس درد مندی و دل سوزی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور ان کے غم میں آہ و فغاں کرتے ہیں کیا روز مرہ کی عملی زندگی میں بھی اسی چاہت، محبت، عقیدت اور اخلاص نیت کے ساتھ اسوہ شبیری پر عمل بھی کرتے ہیں؟ کیا وقت کے یزیدیوں کے خلاف آج ہم امام عالی مقام کی طرح صف آرا نظر آتے ہیں؟ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن میں اسلام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے اتنے گروہ وجود میں آ گئے ہیں کہ اصل اسلام کی پہچان مشکل ہو گئی ہے ہم "شہید" اور "شہادت" جیسے خالصتاً شرعی مسئلے کو سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر ہیں قوم مسلک اور فرقے کے نام پر تقسیم در تقسیم ہوتی جا رہی ہے بدقسمتی سے ایک فرقے کے خلاف دوسرا صف آرا ہے ہم اپنا تعارف مسلمان کی بجائے شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی وغیرہ کے نام سے کرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اپنی پہچان کرواتے ہیں۔
آج ہمارے کشمیری بھائیوں نے اسوہ حسینیؓ کی پیروی کا حق ادا کردیا ہے۔ وہ کربلا کی تاریخ زندہ کررہے ہیں، انہوں نے اس قول کو اپناماٹو بنا لیا ہے کہ "اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد" کشمیری بھائیوں نے بے سروسامانی کی حالت میں اپنے جذبوں سے بھارتی ٹینکوں اور توپوں کے رخ موڑ دئیے ہیں۔ موجودہ حالات میں مشرق وسطیٰ کے لئے بالعموم اور پاکستان و کشمیر کے لئے بالخصوص کربلا کا پیغام یہ ہے کہ کثرت و قلت کو بھلا کر باطل سے دبنے کی نہیں اس کے سامنے ڈٹ جانے کی ضرورت ہے۔
آپ امام عالی مقام کی میدان کربلا میں دی گئی قربانی کے فلسفے اور سانحہ کربلا کے پس منظر و پیش منظر کو سامنے رکھتے ہوئے دُنیائے اسلام یعنی کہ ہم اعمال اور قول و عمل کا جائزہ لیں تو تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے کسی بھی مکتب فکر کے اکابرین میں پیغام کربلا کو سمجھنے، اس سے روشنی، سبق حاصل کرنے کا جذبہ ہے اور نہ شوق شہادت، بقول علامہ اقبال:
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
وقت کی نزاکت اور حالات کی سنگینی کا تقاضہ یہ ہے کہ رہبران دین و ملت کربلا میں شہادت حسین کے پیغام کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ اور ایک ہو جائیں۔ ایک امت بن جائیں۔ جن کا کوئی راہبرہے نہ ہی دستور وہ ایک پیج پر ہیں تو ہم کیوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ آج کا دن اس امر کا متقاضی ہے کہ ہمیں اسلام کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیشہ حق کی فتح اور باطل کو شکست فاش ہونی ہے۔

عابد ہاشمی

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔