1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. عادل سیماب/
  4. انا بھنّور

انا بھنّور

ہاں یار کیا ہو رہا ہے؟

اچھا تم کوئی کاروبار کیوں نہ کر لیتے؟ پیسہ تو سارا کاروبار میں ہے۔

باہر نہیں گئے۔ اوہو؟ باہر چلے جاتے۔۔ اب بھی کوشش کرلو۔ اس ملک میں کیا رکھا ہے۔۔!

کیا تم نے کبھی نوکری کا سوچا ہی نہیں۔ یار کاروبار کا کیا بھروسہ کل مارکیٹ کریش کر جائے۔ نوکری میں مزے ہیں مہینے کے مہینے تنخواہ آپکے اکاؤنٹ میں۔ نو ٹینشن ایٹ آل۔

تم سی ایس ایس کر لو۔ ٹھاٹھ تو بیوروکریسی کے ہیں۔

تم سی ایس ایس کی تیاری کر رہے ہو۔ بہت مشکل کام ہے یار اور پھر پاس تو کوئی کوئی ہوتا ہے۔ اس میں اب وہ مزے بھی نہیں رہے۔ میرے کتنے جاننے والے کئی کئی سال اسکی تیاری میں لگا کر فیل ہو چکے یا ذہنی مریض بن چکے۔

تم کوئی آن لائن کام شروع کر دو۔ فلاں فلاں کو دیکھو کیسے راتوں رات پیسے میں کھیلنے لگ گیا۔

کیا تم آن لائن کام کر رہے ہو۔ دیکھ لینا اس میں بہت دھوکا ہے فلاں لاکھوں روپے ڈبو کر بیٹھا ہے۔

تم کتابیں پڑھتے ہو۔۔ تمہیں اسی میں مزا آتا ہے۔۔ اچھاااا۔۔! جس دن کھانے کو نہ ملا پوچھوں گا۔۔!

تم دن رات پیسہ کمانے میں لگے ہو۔ یہ تمہارے اندر کے خلا کو نہیں بھر سکتا۔ کچھ پڑھا کرو۔ ادب میں تو زندگی ہے۔

شاعری کرتے ہو۔ ہاہاہا۔ بھوکے مرو گے۔

شاعری کرتے ہو۔ اپنا کوئی چینل نہیں بنایا۔ وہ حافی وغیرہ کو دیکھو کتنے پیسے کما رہے ہیں۔ شاعروں کی تو ٹھاٹ الگ ہے۔ پیسہ بھی شہرت بھی۔

اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہو۔۔! ہیں۔۔ یہ کیا ہوا۔۔ ایسا کب ہوتا ہے۔

کیا کہا۔۔ سماج کو بدلنا چاہتے ہو؟ پاگل ہو گئے ہو؟

اپنی زندگی کو خود معنی دینا چاہتے ہو؟ تم تو بالکل ہی پاگل ہو گئے ہو۔۔!

دنیا میں برابری چاہتے ہو۔۔ تم ناقابلِ علاج ہو۔۔!

تم چاہتے ہو سب کا زندگی کی مسرتوں پر برابر حق ہو۔۔! اب تم مرو گے۔ ہم تو کامیابی کا جشن منا ہی نہیں سکتے جب تک کوئی دوسرا ناکامی کا ماتم نہ منائے۔ ہماری انا کو تسکین نہیں ملتی جب تک دوسرے کی انا زخم خوردہ نہ ہو۔ کسی کی غربت کو نہ دیکھا تو ہماری امارت کا کروفر کہاں جائے گا۔

پاگل انسان تمہیں سمجھ نہیں آ رہی یہ اتنی دیر سے جو ہم تمہیں نئے نئے مشورے دے رہے وہ اس لئے نہیں کہ ہم کوئی تمہاری محبت میں مرے جا رہے ہیں۔ ہم تمہیں احساس دلانا چاہ رہے ہیں کہ تم ہم سے کم تر ہو۔ تمہارا فیصلہ کیسے درست ہو سکتا ہے۔۔ اور اب تم کہہ رہے ہو میں اپنی زندگی کا فیصلہ خود کروں گا۔ تم مرو گے۔ بری طرح سے مرو گے۔

عادل سیماب

عادل سیماب ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں گزشتہ چودہ سال سے تدریسی فرئض سرانجام دے رہے ہیں۔ انکی نثری اور آذاد نظموں کا ایک مجموعہ داستان پبلشرز سے بعنوان صدائے دروں شائع ہو چکا ہے اورورل پول کے عنوان سے ایک انگریزی ناول امیزون پر چھپ چکا ہے۔