بیوی زدہ

سر آسکر وائلڈ نے لکھا ہے کہ دنیا کے آٹھ عجوبے مشہور ہیں مگر سب سے دل چسپ عجوبہ ’’عورت‘‘ ہونا ہے۔ عورت کو عجوبے کہنے کامطلب ہی یہ ہے کہ عورت نا قابل فہم ہے۔ ۔ شاید اسی لئے بھارت کے سابق وزیر اعظم واجپائی نے شادی نہیں کی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ جوانی میں انہوں نے بھگوان سے دعا کی تھی کہ کسی خوبصورت جوان لڑکی سے میری شادی کرادے مگرجب دور دور تک کوئی خوبصورت لڑکی نظر نہ آئی تو دعا میں ترمیم کی کہ اے بھگوان کسی کالی پیلی لڑکی ہی سے دو بول پڑھوادے۔ مگر یہ ترمیم شدہ دعا بھی شرف قبولیت حاصل نہ کرسکی، یوں انکی شادی کا مسئلہ کشمیر کے مسئلے کی طرح نا قابل حل ہی رہا۔ ایسے ہی ہمارے ایک مذہبی اور سیاسی لیڈر مولانا عبدالستار نیازی تھے جو مکمل بوڑھے اور مستقل کنوارے تھے۔ انہوں نے اپنی آدھی جوانی یہ سوچنے میں گزاردی کہ شادی کروں یا نہ کروں اور جب یہ فیصلہ کرلیا کہ شادی کرنی ہے تو باقی آدھی جوانی یہ سوچنے میں گنوادی کہ شادی کس سے کروں؟ آخر انکے بالوں کی چاندی جوانی کو خیر باد کہہ کر انکے سر میں چمکنے لگی۔ اس موقع پر ہم اپنے دو واقف کاروں جبار اور خالد کا ذکر کریں گے۔ 

جبار اداس تھا اس لئے شادی کرلی تھی۔ 

خالد نے شادی کرلی تھی اس لئے اداس تھا۔ 

اسی طرح ہمارا ایک دوست شادی والے دن انتہائی متفکر تھا۔ شاید آنے والے دنوں کو قید با مشقت سمجھ رہا تھا۔ ہم نے اس سے کہا تم اپنی شادی میں ایسے ناشاد ہو جیسے ماں باپ کی پسندسے کررہے ہو۔ کہنے لگا آج مجھے راحت بھی مل رہی ہے اور مصیبت بھی۔ بیوی کی صورت میں راحت اور ساس کی صورت میں مصیبت۔ 

شادی سے پہلے کا زمانہ جو فریقین ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے ہیں ’’عبوری شادی‘‘ کا دور کہلاتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور انکی شادی کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔ شوہروں کو چاہئیے کہ شادی کو کامیاب بنانے کے اصولوں پر عمل کریں مثلاً ہمیشہ وہ کھائیں جو انکی بیویوں نے بچادیا ہو چاہے وہ خالی پتیلیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ ایسا کرنے سے خواہ انکی صحت قائم ر رہے یا نہ رہے مگر ازدواجی تعلقات ضرور صحت مند رہیں گے۔ ایک ضروری اصول یہ کہ وہاں ہرگز نہ جائیں جہاں آپ کی بیوی پہلے سے موجود ہو۔ شاعر کی ازدواجی زندگی خوش و خرم گزرتی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں عورت کے حسن کی جتنی تعریف کرتا ہے بیوی یہی سمجھتی ہے کہ میری تعریف کررہا ہے۔ ہمارے ملک میں ازدواجی رشتے اجڑنے اور طلاق کی شرح بڑھنے کی ایک وجہ ضرورت رشتہ کے اشتہارات بھی ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ دوسری شادی کے خواہش مند بھی رجوع کرسکتے ہیں، بچوں والے بھی قابل قبول ہیں۔ اب بتائیے ایسے اشتہارات پڑھ کر تو اچھے سے اچھے شوہر کے منہ میں پانی آجائے گا۔ امریکی جوڑے جو آپس میں خوش ہیں اپنی قوت برداشت بڑہانے کیلئے ہفتے میں دو مرتبہ ضرور ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور نا خوش امریکی جوڑے کبھی نہیں لڑتے کیونکہ وہ آپس میں بات کرتے ہیں نہ ملاقات۔ بفرض محال کبھی ملتے بھی ہیں تو ایسے جیسے دو اجنبی مسافر۔ امریکی مرد ان پاکستانی مردوں کی طرح نہیں ہوتے جن کے اعصاب پر شادی سے پہلے عورت سوار ہوتی ہے اور شادی کے بعد مہنگائی۔ 

کہا جاتا ہے کہ عورت بولنے والی مخلوق ہے۔ پہلے ہمیں اپنے دوست کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ مجبور و لاچار عورت بھی بول سکتی ہے مگر جب ہم نے ایک گونگی عورت کو بہت زیادہ اشارے کرتے دیکھا تو مان گئے کہ بولنے سے مجبور عورت بھی اپنے ہاتھوں کو طاقت ور زبان بناسکتی ہے۔ تاہم ہم سو فی صدی اس بات سے متفق نہیں کہ عورت بولتی ہے سنتی نہیں۔ ’’ابھی تو تم جوان اور خوب صورت ہو‘‘ ذرا یہ کہہ کر دیکھئے۔ بولنا بند کردے گی اور پورے جسم کو کان بناکر آپ کے میٹھے بول سننے لگے گی۔ ایک خاتون کی تصاویر دیکھتے ہوئے ہم نے اس سے کہا تھا ’’یہ آپ کی نایاب تصویر ہے‘‘

’’ اچھا، وہ کس طرح ؟‘‘

’’ اس میں آپ خاموش لگ رہی ہیں‘‘

بعض عورتوں کو پیدا ہوئے کافی زمانہ بیت جاتا ہے مگر ان کی عمر نہیں بڑھتی۔ عورتوں کی عمر کا تعلق انکی تاریخ پیدائش سے نہیں بلکہ میک اپ یا پلاسٹک سرجری سے ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ تاریخ پیدائش کے کافی عرصے بعد ان کی عمر شروع ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسی عورت کو جانتے ہیں جس نے ساٹھ سال کی عمر میں اپنی چالیسویں سالگرہ منائی۔ کوریا کے وزیر خزانہ نے تجویز پیش کی تھی کہ عورت کے میک اپ پر پابندی لگادی جائے تو یہ قومی بچت کا باعث ہوگی۔ اس تجویز پر عمل ہوجاتا تو عورت کی عمر چھپائے نہ چھپتی۔ 

میرا ایک دوست شادیوں کے معاملے میں کافی معاملہ فہم واقع ہوا ہے۔ اس نے کبھی سیکنڈ ہینڈ کار اور بیوی نہیں رکھی۔ اسکو ہمیشہ سے خوب صورت عورتیں پسند ہیں جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ خوب صورت عورتیں بد صورت نہیں ہوتیں۔ اس کی بیوی کو دیکھ کر اس کے ذوق کی داد دی جاسکتی ہے جو باتیں ایسے کرتی ہے جیسے لیڈی ٹیچر ہو، چلتی ایسے ہے جیسے لیڈی ڈاکٹر ہو اور انگڑائی ایسے لیتی ہے جیسے لیڈی ڈائنا ہو۔ جب وہ ہلکا میک اپ کرلیتی ہے تو پھول اس کے چہرے کی طرح ہوجاتا ہے۔ کار چلاتے وقت یوں تو اسٹیرنگ اور بریک وغیرہ سے بھی مدد لیتی ہے مگر ڈرائیونگ کے وقت جو آٹو پارٹ سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے وہ کار کا آئینہ ہے۔ اس کو مردانہ کھیل اور مردانہ کام پسند ہیں اسی لئے برفی پسند نہیں کرتی کیونکہ یہ کھائی جاتی ہے، لڈو پسند کرتی ہے کیونکہ یہ کھایا جاتا ہے۔ کسی سال اگر بارش نہ ہو اور اس کا شوہر خشک سالی کا ذکر نے لگے تو ناراض ہوجاتی ہے سمجھتی ہے اس کی بہن کو خشک کہہ رہا ہے۔ وزن میں اپنے شوہر سے دگنی ہے مگر چونکہ عمر میں وہ اس سے دگنا ہے اس لئے شوہر کو صرف شریک حیات سمجھتی ہے شریک وفات نہیں۔ شوہر کی جس چیز پر سب سے زیادہ نظر رکھتی ہے وہ اس کا بنک اکاؤنٹ اور چیک بک ہے۔ اسے سب سے زیادہ یہ شعر پسند ہے

پھر دیر سے گھر آیا ہے مسکین کا بچہ 

لگتا ہے کہ پھر آر ہے یا پار ہے شوہر

اس کا شوہر خدا اور بیوی کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ اگر کبھی اپنی تعریف بھی کرے گا تو بیوی کے حوالے سے۔ اس سے پوچھا گیا:

’’آپ کی نظر میں سب سے زیادہ قابل شخص کون ہے؟‘‘

جواب دیا ’’میری بیوی کا شوہر‘‘

ایک اسی پر کیا موقوف، ایسی بیوی پاکر ہر بھلا شوہر ’’‘‘ ہوجائے گا۔