شاعر

شاعر جب بھی منہ کھولتا ہے یا تو کھانے کے لئے یا شعر سنانے کے لئے۔ ہر سال اس کی عمر، ناکامی اور نا تجربہ کاری میں قابل قدراضافہ ہوجاتا ہے۔ شاعرمرتے وقت ان تینوں چیزوں کا ایک قیمتی خزانہ چھوڑ کر فوت ہوتا ہے۔ سستی سگریٹ پیئے تو اسے اپنی صحت کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ بڑھیا سگریٹ پیئے تو پیسے کا غم ستاتا ہے۔ شاعر اگر ستر سال کا بوڑھا ہوجائے تو خود اپنے گھر میں مہمان ہوجاتا ہے۔شاعر اسی سال کا ہوجائے تو مہمان خصوصی بن جاتا ہے۔ 

شاعر سوتے وقت تاریکی پسند کرتا ہے اور سوچتے وقت روشنی۔ وہ جانتا ہے کہ تقدیر روشنی اور تاریکی کا ایک دل چسپ مرکب ہے۔ 

ایک اچھےشاعر میں اچھا شوہر بننے کی بری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں کیونکہ شاعر خیالات کا آدمی ہوتا ہے۔ خیال اور حقیقت میں یہ فرق ہے کہ خیال نظر نہیں آتا، حقیقت نظر آتی ہے اور عورت کسی ایسے بندے کو شوہر ماننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتی جو پورے طور پر نظر نہ آئے۔ پس اچھے شاعر کا مقام شاعری جتنا بلند ہوتا ہے، مقامِ شوہری اتنا ہی پست۔ 

ہر شاعر شوہر نہیں ہوتا مگر غزلیں ضرور کہتا ہے۔ ہمارا مطلب ہے جب بھی کسی مخلوط محفل میں جاتا ہے عورتوں سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ تاہم اتنی احتیاط ملحوظ رکھتا ہے کہ مذکورہ عورت اسکی بیوی نہ ہو۔ 

سارے جہاں کا دردشاعر کے جگر میں ہوتا ہے۔ شاعر جتنا مصیبت زدہ ہوگا اس کا فن اتنا ہی نکھر کر سامنے آئے گا۔ غم زدہ اور محبت زدہ تو ہرشاعر ہوتا ہے مگر بیوی زدہ صرف قسمت والے ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہوتے ہیں جنہوں نے غلطی سے اپنے ’’فن‘‘ کی بجائے ’’بیوی‘‘ سے شادی کی ہوئی ہوتی ہے۔ بیوی زدہ اگلے مرحلے میں دیوان زدہ ہوجاتا ہے۔ دیوان زدہ ایسے کو کہتے ہیں جس پر اس کی بیوی اسی کا دیوان اٹھا اٹھا کر مارتی ہے۔ 

امجد اسلام امجد کے جد امجد ایسے شاعر نہیں تھے جیسے وہ خود ہیں۔ بالوں کی نایابی کچھ انہیں کے حصے میں آئی ہے۔ ہر گنجا مالدار نہیں ہوتا اور ہر امجد اسلام امجد نہیں ہوتا۔ پہلے ہم سوچا کرتے تھے کہ سارے لوگ گنجے ہوجائیں تو حجام کہاں جائیں گے؟ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے اگر سارے مریض صحت مند ہوں تو ڈاکٹر کہاں جائیں گے؟ اب ہمیں پتہ چلا کہ ڈاکٹر بے روزگاری کے ڈر سے سارے مریضوں کو صحت مند نہیں ہونے دیتے۔ 

ہندوستان میں اپنے دورے کے دوران ہم یو پی کے ایک شاعر سلیم احمد خاں عقابؔ سے ملے تھے۔ گو سردیوں میں عقابؔ خاں ریچھ کی کھال کا جیکٹ پہنتے تھے اور گرمیوں میں مور کے پروں کی ٹوپی۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ طاقت ور ہونے کیلئے وہ اپنے جسم میں چیتے کا خون چڑھواتے ہیں۔ تاہم ہم انہیں جانور نما نہیں کہہ سکتے۔ ہاں جانور پسند ضرور کہیں گے۔ اگرچہ لوگ انہیں خود پسند بھی کہتے ہیں۔ ان کا دیوان کیا ہے ایک چڑیا گھر ہے۔ ہر جانور پر شعر کہے ہیں اور شیر پر جو شعر کہے ہیں، واقعی شیر نما شعر ہیں۔ اپنے مخالف معاصرین سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:

شعر کو شیر سمجھنے والوں

مت ڈرو میری شعر گوئی سے

سلیم احمد خاں عقابؔ سے ہم نے پوچھا کہ اپنے دیوان میں ایک چڑیا گھر تعمیر کرنے کا خیال آپ کو کیسے آیا؟ کہنے لگے اپنی پہلی مزاحیہ نظم میں نے بکری پر لکھی تھی۔ حیدرآباد دکن میں قیام کے دوران میری ملاقات ایک قدیم اور توانابکری سے ہوئی تھی جو ہمارے پڑوس میں رہتی تھی۔ بکری کا منہ اونٹ کی طرح کا تھا، ٹانگیں خچر کی طرح اور وہ خود اپنی طرح کی تھی۔ ویسے تو ہر جانور بے زبان ہوتا ہے مگر وہ گونگی بھی تھی۔ سارا سارا دن خاموش رہتی اور ساری ساری رات بے آواز مگر کسی بکرے کو دیکھ لیتی تو فوراً باتیں کرنا شروع کردیتی۔ اگرچہ روزانہ دودھ دیتی تھی مگر مالی اعتبار سے غیر اقتصادی بکری تھی، وہ اس لئے کہ دو کلو گائے کا دودھ پیتی تو ایک کلو بکری کا دودھ دیتی۔ ۔ ۔ اس کے بعد جانوروں پر شعر لکھنا میری عادت سی ہوگئی اور میرے دیوان میں ڈکارنے، گرجنے، چہچہانے اور بھونکنے کی آوازیں پیدا ہونے لگیں۔ 

اچھے ادیب اور شاعر مستقبل پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کے لئے لکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شاعر ہمارے سامنے آیا تو ہم نے اس سے ملنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کہا:

’’آپ آنے والے زمانے کے شاعر ہیں۔ ہم آپ سے پچاس سال بعد ملیں گے‘‘

مستقبل کے شاعر کے ساتھ پرابلم یہ ہے کہ اس کی شاعری اس کے ہم عصروں کے لئے نا قابل فہم ہوتی ہے۔ اس کی مستقبل بینی اس کی نا قدری کا سبب بن جاتی ہے۔ اسے چاہئیے کہ شاعری 1900ء میں کرے، پیدا 2000ء میں ہو۔ ہمارے کئی دوست ہیں جن کی شاعری کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ سب اپنے آپ کو مستقبل کا شاعر کہتے ہیں۔ ویسے ہمیں نا قابل فہم شعر زیادہ مزا دیتا ہے۔ یعنی ایک ایسا شعر جس میں عبارتی مصوری اور لفظی تصویر کشی کی گئی ہو۔ تصویر خوب صورت ہو مگر دھندلی۔ 

راوی بیان کرتے ہیں کہ آزاد نظم کا آغاز پنجاب سے ہوا۔ راوی تو یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ دریائے راوی تاریخ کا بلکہ جغرافیہ کا ایک اہم دریا ہے۔ آزاد نظم کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ یہ مرزا غالب نے کبھی نہیں کی۔ 

شاعری کی لت ایک مرتبہ پڑ جائے تو کبھی نہیں چھوٹتی۔ ڈاکٹر رحمان ایم بی بی ایس ہمارے دوست ہیں جو شاعری بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ لمبی بحر کی غزل لکھتے ہیں اور قافیہ پیمائی یوں کرتے ہیں جیسے کوہ پیمائی کررہے ہوں۔ ایک دن ٹرین میں مل گئے۔ کہنے لگے ’’اب میں نے چھوڑ دی ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا؟ شاعری ؟‘‘ کہا ’’نہیں، سرجری‘‘

شاعر کے حواس خمسہ کے مشاہدات و تجربات اس کی عقل و نظر کی جراحی کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک ایسا بندہ ہے جو غلطی کرنے سے پہلے ہی اپنی غلطی مان لیتا ہے۔ وہ با عزت زندگی گزارنے کے لئے عمر بھر ریاض کرتا رہتا ہے، اگر اپنے مقصد میں ناکام ہوا تو ایک دن با عزت طریقے سے مرجاتا ہے۔ جب دو شاعروں کے تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے سامنے ہنسنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بس جب بھی ملتے ہیں رونا شروع کردیتے ہیں۔