عوام

ایک ایسا جانور ہے جس پر حکمراں سواری کرتے ہیں اور جو مار کھانے ، ظلم سہنے اور خاموش رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اپنی زندگی میں چار کام ضرور کرتے ہیں پیدا ہونا، شادی کرنا، بچے جننا اور مرجانا۔ یہ چاروں کام بخوبی انجام پاجائیں تو پھر اپنے آپ کو کامیاب سمجھتے ہیں۔ شادی کے وقت اگر اچھی بیوی مل جائے تو ان کی زندگی بن جاتی ہے۔ بری ملے تو یہ فلسفی بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بالعموم چار قسم کے عوام پائے جاتے ہیں۔ پنجابی ، سندھی ، پٹھان اور بلوچی ۔ اسکے علاوہ مہاجر بھی عوام پائے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جہاں پنجابی کا پیار ختم ہوتا ہے وہاں پٹھان کی مہمان نوازی شروع ہوتی ہے اور جہاں سندھی کی سادگی ختم ہوتی ہے وہاں بلوچی کی نہ جانے کیا شروع ہوتی ہے۔ مہاجر کی کوئی چیز شروع ہوتی ہے نہ ختم بلکہ درمیان میں رہتی ہے۔ پاکستانی عوام ہر صحیح کام کو کل پر ٹال دیتے ہیں غلط کام آج ہی کرلیتے ہیں۔ چاہے عوام اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہوں یا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بنیادی طور پر جاہل ہوتے ہیں اور سیاسی پیچ و خم کو سمجھ نہیں پاتے مگر اپنی جہالت کو علم سمجھنے پر مصر رہتے ہیں۔ خواہ تیسری دنیا کے عوام ہوں یا چوتھی دنیا کے زندگی میں دو مرتبہ ہنستے ہیں۔ پہلی مرتبہ جب انہیں پہلی بار ہنسی آتی ہے، دوسری مرتبہ جب انہیں دوسری بار ہنسی آتی ہے۔مسکرانا انسان کی مجبوری ہے چنانچہ عراقی بھی مسکراتے ہیں پر جب وہ مسکراتے ہیں تو انکی آنکھوں کی یاس ان کی مجبور مسکراہٹ کی تکذیب کرتی ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ انکی مسکراہٹ کتنی ناتوان اور مدقوق ہے۔

بر صغیر پاک و ہند کے عوام تقسیم سے پہلے بھی ایسے ہی تھے جیسے آج ہیں یعنی پہلے بھی یہاں دو قسم کے عوام پائے جاتے تھے امیر اور غریب اور آج بھی ایسا ہی ہے۔امیر اشرفیوں سے بھرے مٹکے کی طرح خود کو وزنی اور پر حجم محسوس کرتے ہیں۔ غریب خالی برتن کی طرح خود کو بے کس اور بے مایہ محسوس کرتے ہیں۔امیر کے پاس بے گنتی وسائل ہوتے ہیں، غریب کے پاس بے گنتی مسائل۔

ہمیں آج تک یہ بات معلوم نہ ہوسکی کہ ہمارے لیڈر سے آخر چاہتے کیا ہیں؟ یا تو یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے یا ہماری سمجھ اس بات سے بالا تر ہے۔اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ پاکستان کے عوام کو کتنے مسائل کا سامنا ہے تو ہم کہیں گے کہ پاکستان میں کتنے سیاست داں ہیں؟ ہر سیاست داں ایک مسئلہ ہے۔ اگر کوئی لیڈر یہ کہے کہ قوم کے حالات دیکھ کر میرے دل میں درد ہوتا ہے تو سمجھ لیں ضرور اسے کوئی ہارٹ پرابلم ہے۔ لیڈر اور عوام میں اتنا گہرا اور انمٹ تعلق ہے جتنا سیاست اور جھوٹ میں۔ تمام لیڈر کے لئے مساوات کا درس دیتے ہیں۔ مساوات کا مطلب ہے ملک کے تمام  عوام کیلئے دولت اور وسائل کی فراہمی کی یکساں طور پر عدم موجود گی۔ اور سیاست دان دونوں اپنی جگہ متحد اور مضبوط ہیں کیونکہ عوام ایک طرف اگر یک جہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں تو دوسری طرف سیاست داں بھی عدم اتحاد کی کوشش میں متحد و منضبط ہیں۔ 

 عوام نے جب لیڈر سے سوال کیاکہ آپ اپنی تقریر سنانے کے لئے اکثر اسٹیج پر ’’کھڑے‘‘ ہوجاتے ہیں مگر ہماری کبھی نہیں سنتے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تو  عوام کی باتیں سننے کے لئے ہمیشہ کان ’’کھڑے‘‘ رکھتا ہوں۔ عوام وہی کرتے ہیں جو ان کے علاقے کا لیڈر کہتا ہے ۔ لیڈر وہی کرتا ہے جو وزیر کہتا ہے۔ وزیر وہی کرتا ہے جو وزیر اعظم کہتا ہے۔ وزیر اعظم وہی کرتا ہے جوامریکہ کہتا ہے۔ 

اور خواص میں یہ فرق ہے کہ لیڈر کی بات پر جو لوگ بغیر سوچے سمجھے یقین کرلیں وہ عوام ہیں۔ جو لوگ سوچ سمجھ کر یقین کریں وہ خواص۔ اگر ہمارے سیاست داں سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں تو عوام سکھ کا سانس لیں۔ اس لحاظ سے ہر سیاست داں مرتے وقت عوام پر احسان کرجاتا ہے اس لئے کہ موت کے بعد وہ سیاست سے ریٹائرڈ ہوجاتا ہے اور زندگی میں تو ریٹائرمنٹ کا کام اس کے لئے ممکن ہی نہیں۔

فرائیڈ نے عوام کی صنفی و جنسی تقسیم پر زور دیا ہے یعنی زنانہ اور مردانہ ۔ زنانہ ایسی مخلوق کو کہتے ہیں جو بے حد باتونی ہو مگر عمر بتاتے وقت گونگی ہوجائے اور یہ بغیر تلوار ، تیر اور خنجر کے گھائل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، دلوں پر حکومت کرنا جانتی ہو جب کہ مردانہ عوام ملکوں پر حکومت کرنا جانتی ہے۔مردانہ اور زنانہ عوام کے درمیان محبت کا رشتہ ہوتا ہے۔ محبت سب سے پہلے آنکھوں پر اثر کرتی ہے، پھر دل پر اور اس کے بعد جیب پر۔

ترقی پذیر ممالک کے عوام مہنگائی اور ٹیکس کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں۔ خون پسینہ ایک کرکے کچھ رقم پس انداز کرتے ہیں۔ پیسہ ہاتھ میں آنے کے بعد جتنی توانائی بحال ہوتی ہے، انکم ٹیکس ادا کرنے کے بعد اتنی ہی ضائع ہوجاتی ہے۔ مسلمان ملکوں کے عوام جھوٹ، بے ایمانی اور لڑنے جھگڑنے میں اتنے بد نام ہوچکے ہیں کہ ان سے پوچھا جاتا ہے تمہاری کوئی چیز اچھی بھی ہے؟ تو جواب میں اپنا ماضی پیش کردیتے ہیں۔

نیویارک میں پاکستانی عوام کے چہروں پر ایک دھندلاہٹ، بیزاری اور یکسانیت نظر آتی ہے جیسے سب لوگ ایک ہی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں کرنسی نوٹوں کی طرح، صرف چہرے کے سائزوں میں فرق ہے۔ عوام کی ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو یہاں آکر اپنا سب کچھ بھول گئے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ یہاں کی تہذیب ، ثقافت اور زبان کو اپنا رہے ہیں۔ یہ کہہ کر گویا اپنی شان میں اضافہ کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں سے اردو کا ایک لفظ بھی نہیں آتا وہ تو فر فر انگلش بولتے ہیں۔ جب اپنی مادری بھاشا کو بھول جاتے ہیں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔ جب اپنے دیش کے لباس اور طور طریقوں کو بھول جاتے ہیں تو اس سے بھی زیادہ دکھ ہوتا ہے۔

ایک نسبتاً کم درجے کی جو ہمارے آس پاس ہے جس کو خوشی نہ راس ہے اور جو بے آس ہے وہ الناس ہے۔ الناس کی تعریف ایک محرر نے یوں کی ہے کہ ایسی جس کا ناس مار دیا گیا ہو عوام الناس کہلاتی ہے۔ عوام الناس کی حالت زار دیکھ کر اس کی یہ تعریف صحیح لگتی ہے۔