اتوار, 08 دسمبر 2019
/ مزاحیات / اخلاق احمد خان / امریکہ کی عورتیں

امریکہ کی عورتیں

لوگ کہتے ہیں میں نے عورت کے موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کچھ نہیں لکھا۔ وقت ساتھ دے تو عورت کی صباحت و ملاحت اور رنگینی و نمکینی پر ایک لاکھ صفحے کی کتاب لکھ دوں۔ عورت مجھے کبھی خطرناک حد تک معصوم نظر آتی ہے۔ کبھی اس کے جسم کے سحر انگیز خم بل کھاتے ناگ معلوم ہوتے ہیں۔ عورت کے آنسو اس دنیا کی سب سے طاقت ور چیز ہے۔ پانی کی اصل طاقت تیز و تند طوفان میں نہیں، عورت کے آنسو میں نظر آتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے:

وجو د ز ن سے ہے تصو یر کا ئنا ت میں ر نگ 

مانا کہ یہ وادی گلزار ہے، یہ شام شفق زار ہے مگر عورت کو یہاں سے ہٹا کر دیکھو، یہ منظر ہوا ہوجائے گا۔ یہ لمحہ پھیکا پڑ جائے گا۔ نرسنگ، تیمارداری، کھانا پکانا، سینا پرونا یا گھر کی تزئین، یہ تمام کام صنف نازک ہی بہتر کرسکتی ہے۔ بد مزاجی عورت پر جچتی نہیں۔ بد مزاج عورت ایسی ہے جیسے خاردار پھول۔ جہاں تک عورت کی صورت کا تعلق ہے کوئی آئینہ ایسا نہیں جس نے عورت سے کہا ہو کہ تم بد صورت ہو۔ عورت جس کی صورت بری ہو مگر ہو وہ خوبصورت، ایک میک اپ شدہ عورت ہی ہوسکتی ہے۔ امریکہ میں صرف ایک مرتبہ میں نے ایسی عورت دیکھی جو بد صورت، بھدی اور غیر جاذب نظر تھی مگر اس کے جسم کے تین حصے بہت خوب صورت تھے۔ یہ تین حصے سونے کے دانت، ریشمیں زلفوں کی وگ اور قیمتی عینک تھی۔ مرد حضرات عورت کے وجود میں ایک حسین چہرے یا دلکش ادا کے متلاشی رہتے ہیں یا پھر ایک بڑے جہیز کے۔ جہیز ایک بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے جسے شادی کے وقت کیش کیا جاسکتا ہے۔ شریف عورتوں سے شادی کی جاتی ہے اور طوائفوں سے محبت۔ طوائف اگر امراؤ جان ادا ہو تو اس سے شادی بھی کی جاسکتی ہے۔ شادی کے بعد عمر قید شروع ہوجاتی ہے جس کا اختتام موت یا طلاق پر ہوتا ہے۔ شادی کے بعد عورت عورت نہیں رہتی بیوی بن جاتی ہے۔ محبوبہ اور بیوی میں یہ فرق ہے کہ محبوبہ کے دور رہنے کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے اور بیوی کے پاس رہنے کی وجہ سے۔ کامیاب مصور وہ ہے جو اپنی بیوی کی تصویر بنانا شروع کرے مگر تصویر جب مکمل ہو تووہ اس کی محبوبہ کی ہو۔ یہ مصور اپنے فن میں یکتا ہو نہ ہو مگر محبت میں ضرور یکتا ہوگا۔ پرانی کہاوت ہے کہ اگر آپ کا باپ غریب ہے تو یہ آپ کی قسمت ہے، اگر سسر غریب ہے تو آپ کی حماقت۔ 

اب میں چند عورتوں کا ذکر کرتا ہوں جن سے امریکہ میں ملا:

ڈورین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ستر سالہ بوڑھی، گوری امریکن بیوہ جس کے چہرے کے کھنڈرات بتاتے تھے کہ عمارت جوانی میں عالیشان رہی ہوگی۔ مرحوم شوہر کو یاد کرکے اس کی آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برسنے لگتیں۔ جی ہاں حسن بوڑھا ہوجاتا ہے، محبت بوڑھی نہیں ہوتی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ میں ازدواجی بندھن دیر پا نہیں ہوتے مگر ڈورین کی شوہر پرستی اس خیال کی تکذیب کررہی تھی۔ میں پہلی بار اس سے گراسری اسٹور میں ملا جب وہ شاپنگ کرچکی تھی اور سامان سے لدے دو بیگ اپنے بوڑھے ہاتھوں سے اٹھائے جارہی تھی۔ میں نے اپنی کار میں اسے گھر تک پہنچانے کی پیش کش کی جو اس نے اظہار تشکر کے ساتھ قبول کرلی۔ اس کا گھر چند سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ ’’اتنے بڑے گھر میں آپ اکیلی رہتی ہیں؟‘‘ میرے سوال کے جواب میں وہ دیر تک چپ رہی مگر وہ جذبے جو جاں گداز ہوں الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ اس کی چپ یقیناًکسی دکھ بھرے ماضی کی ترجمان تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس کے لبوں نے گہری، جاں گداز اور اکتاہٹ آمیز خاموشی کو توڑا۔ ’’ ایک سال پہلے میرا شوہر سرطان ایسے موذی مرض کا شکار ہوکر داغ مفارقت دے گیا۔ ہماری پچاس سالہ پر سکون ازدواجی زندگی میں شگاف پڑ گیا‘‘ اس کی بوڑھی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔ اگلی ساعت ایک سات یا آٹھ سالہ بچہ بھاگتا ہوا آیا اور ڈورین سے چمٹ گیا۔ میں نے دیکھا اس کے ا شک غم خوشی کے آنسوؤں میں تبدیل ہوگئے جیسے اسے سب کچھ مل گیا ہو۔ وہ روتے روتے ہنس پڑی ’’یہ ہے میرا پوتا‘‘ اس نے تعارف کراتے ہوئے کہا ’’میرے اکلوتے بیٹے کا اکلوتا بیٹا، میرے مرحوم شوہر نے اسے گودوں میں پالا تھا‘‘ غم، خوشی، محبت، یاد، یہ جذبے اور ان کا تاثر ہر ملک، ہر قوم اور ہر انسان پر یکساں ہوتا ہے۔ یہ اشتراک جذبات ہی ہے جو بین الاقوامی انسان دوستی کی دعوت دیتا ہے۔ 

سونیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میکسیکو کی بتیس سالہ اسپینی لڑکی۔ پچھلے سال کی سردیوں کے دن تھے۔ میں سنٹرل پارک کے ایک ٹیلے پر بیٹھا تھا۔ درخت برف کا سفید لبادہ اوڑھے چپ چاپ کھڑے تھے اور ندی کا پانی کسی کنواری کے جسم کی طرح بل کھارہا تھا۔ ایک ادھیڑ عمر کی سانولی عورت آئی جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چمڑے کا بیگ تھا۔ عورت کے ہمراہ ایک لڑکی تھی جو غالباً اس کی بیٹی تھی۔ اس کے ہاتھ میں بھی ایک چمڑے کا بیگ تھا، قدرے بڑا۔ ’’بابوجی یہ تصویریں خرید لو‘‘ عورت نے میرے آگے چھوٹی بڑی تصویروں کا ایک ڈھیر لگادیا جس میں نپولین کا پورٹریٹ تھا اور چارلی چپلن کا کارٹون بھی اور کچھ تصاویرقدرتی مناظر کی تھیں۔ لڑکی لانبی لانبی پلکوں کے اندر سے مجھے جھانک رہی تھی۔ اس کے بھورے لانبے بال کمر کے نیچے تک جھول رہے تھے۔ میں نے ایک تصویرخرید لی۔ جاتے وقت عورت نے بتایا کہ اگلے ہفتے نیو جرسی سٹی میں تصویروں کی نمائش ہورہی ہے میں اس میں ضرور آؤں۔ اس نے ایک اشتہاری پمفلٹ میرے ہاتھ میں تھمادیا۔ تصویروں سے مجھے رغبت نہیں لیکن نمائش میں محض اس لئے چلا گیا تاکہ لڑکی کی کم از کم آواز سن سکوں جو تمام وقت کچھ نہ بولی تھی حتی کہ جاتے سمے "Bye" بھی نہ کہا۔ نمائش پہنچا تو عورت نے گرم جوشی سے میرا استقبال کیا۔ لڑکی حسب سابق گھبرائی گھبرائی سی اور چپ چپ سی نظر آئی۔ تصویریں دیکھنے کے دوران میری وضاحت طلبی کے جواب میں اس نے کچھ ٹوٹے پھوٹے جملے ادا کئے۔ میں نے دل میں سوچا لڑکی کا چہرہ کتنا سندر ہے جسم کتنا لوچ دار ہے پر دماغ۔ ۔ ۔ دماغ کتنا کھوکھلا ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ لڑکی کا نام سونیا ہے۔ وہ تین سال پہلے اپنی ماں کے ہمراہ میکسیکو سے امریکہ آئی تھی۔ اس کا شوہر اور ایک بچہ میکسیکو میں ہے۔ یہاں گرین کارڈ حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کررہی ہے تاکہ شوہر اور بچے کو بلا سکے۔ مستقل اور طویل یاد نے سونیا کو روگی بنادیاہے۔ خاندانوں کی تقسیم امریکہ میں غیر ملکیوں کے لئے ایک المیہ ہے۔ 

سیلز گرلز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک قطار سے سیکنڈ ہینڈ چیزوں کی دوکانیں تھیں۔ بعض چیزیں تو اتنی زیادہ سیکنڈ ہینڈ تھیں کہ تھرڈ ہینڈ یا فورتھ ہیند لگتی تھیں۔ ان چیزوں کو بیچنے والی سیلز گرلز سیکنڈ ہینڈ نہیں تھیں کیونکہ وہ سب پچاس سال کی ’’لڑکیاں‘‘ تھیں۔ دوکان میں داخل ہوتے وقت جب میں نے ان سے ہاتھ ملایا تو وہ فرسٹ ہینڈ ہی لگیں البتہ جاتے وقت ہاتھ ملایا تو سیکنڈ ہینڈ لگیں۔ 

اینی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آذر بائیجان کی 37 سالہ اینی دنیا کی حسین ترین عورت ہے، کم از کم مجھے تو ایسی ہی لگی، جس میں اداکارہ نسیم کا چہرہ، مینا کماری کا بدن، مدھو بالا کی جاذبیت اور مونا لیزا کی مسکراہٹ یکجا ہوگئی ہے۔ اس کی ماں روسی ہے اور باپ ترکی چنانچہ دو نسلوں کے اشتراک سے ایک اچھوتا جسم وجود میں آیاا ہے۔ پہلی بار جب میں اینی سے ملا تو موسم بہار کی رت تھی۔ آکاش پہ اتنی تاریک گھٹا چھاگئی کہ رات کا گمان ہونے لگا۔ وہ نارنجی رنگ کی اسکریٹ زیب تن کئے ہوئے تھی۔ بھرپور نسوانی حسن کا جادو میری آنکھوں سے ٹکرایا۔ لاشعوری طور پر میری نظریں اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔ ناگن زلفیں، گلاب چہرہ، سرو قد وہ عورت کیا تھی عمرو خیام کا ایک خیال تھی، غالب کا شعر یا پھر چغتائی کی تصویر۔ اسے دیکھ کر قدرت کی شاہکاری یاد آتی تھی۔ بے کنار مد ہوشی میری رگ و پے میں سرایت کرگئی۔ تکلف کے سارے پردے چاک ہوتے گئے اور وہ فاصلوں کی طرح میری تصوراتی بانہوں میں سمٹ گئی۔ اینی آذر بائیجان کی ایک خوب صورت افسانہ نگار ہے جسے مشرقی علوم سے شغف ہے۔ ترکی، فارسی اور اردو لٹریچر پر اس کی معلومات بیش بہا ہیں۔ اس نے روسی اخبار کے لئے ایرانی دانشورر کا انٹرویو قلم بند کیا تھا۔ احمد فراز امریکہ آئے تو میرے ہمراہ جاکر ان سے ملی اور اردو ادب و شاعری کے متعلق سوالات کئے۔