/ مزاحیات / اخلاق احمد خان / بقرا عید کا بکرا

بقرا عید کا بکرا

گوماضی میں ہم کئی مرتبہ لکھ پتی ہوتے ہوتے بچے ہیں مگر ہماری موجودہ تنخواہ سرمایہ دار کے دل کی طرح بہت تنگ اور محدود تھی۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ بیماری، سردی اور غریبی کو جتنا محسوس کرو اتنا ہی لگتی ہے اس لئے ہم نے فیصلہ کرلیا اس سال خواہ کچھ بھی ہو ہم بقراعید پر بکرا ضرور لائیں گے۔ ویسے ہم جیسے مفلوک الحال کیلئے جس کا چہرہ دیکھتے ہی لوگ خیرات دینے دوڑتے بکرا لانا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ یہ تو ہمیں یاد ہے کہ ربع صدی پہلے ہم ایک کوتاہ قد اور کوتاہ عقل بکرا خرید کر لائے تھے لیکن جب سے ہم نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے قرضہ لے کر مکان بنایا ہے ہمارے جسم کا بال بال بلکہ رواں رواں قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ 

اس سال بکرے کی خریداری کے سلسلے میں ہمارے جذباتی ہونے کا محرک سچ پوچھو تو وہ بکرا تھا جو ہماری پڑوسن اللہ رکھی کے گھر کے آگے بندھا تھا۔ یہ گویا ہماری غربت کے منہ پر زناٹے دار چانٹا تھا۔ وہ غریب بیوہ اتنا شاندار بکرا لاسکتی ہے اور ہم کہ ابھی بیوہ بھی نہیں ہوئے مگر بکرے سے محروم۔ اللہ رکھی کے پاس بکرا کہاں سے آیا؟ اس کی مالی حالت تو اسکی اجازت نہیں دیتی۔ پھر کیا کسی نے تحفے میں دیا ہے یا قسطوں پر لیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے ہم مرزا کے ہاں پہنچ گئے جو ہر گھر کی ٹوہ میں رہتا تھا اور اسی لئے ہم اسے محلے کا خبر نامہ کہتے تھے۔ مرزا دروازے پر آیا تو ہم نے پوچھا ’’بکرے کی آواز شاید تمہارے گھر سے آرہی ہے، کیا تم نے بکرا خرید لیا؟‘‘

’’ہاں کل ایک بکرا لے کر آیا تھا جو بعد میں بکری ثابت ہوا‘‘

’’تم جیسا ہشیار آدمی بھی دھوکے میں آگیا‘‘

’’آجکل عورت مرد کی پہچان نہیں رہی ہے، بکرا تو پھر بکرا ہے‘‘

’’مرزا آج ہم تمہارے پاس ایک راز پر سے پردہ اٹھوانے آئے ہیں۔ وہ یہ کہ اللہ رکھی کا ہاں بکرا کیسے آگیا؟‘‘

’’یہ سب دبئی کا کمال ہے، بس سمجھو دبئی کا بکرا ہے‘‘

’’دبئی کا بکرا؟ لگتا تو کراچی کا ہے‘‘

’’ارے بھائی، اسکے بیٹے کو دبئی میں نئی نئی ملازمت ملی ہے‘‘

مرزا کے گھر سے اٹھ کر ہم نے سوچا چلو آج سارے محلے کے بکروں کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس گشتی رپورٹ کی روشنی میں پھر اپنا بکرا خریدیں گے۔ سب سے پہلے ہم بڑے میاں ربڑی والے کے ہاں گئے۔ دروازے پر لکھا تھا ’’ملاقاتیوں اور مہمانوں سے گزارش ہے کہ اس کو نہ کھٹ کھٹائیں، یہ ناقابل مرمت ہے ٹوٹ جائے گا‘‘ چنانچہ ہم نے کھڑکی پر دستک دی۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد بڑے میاں بر آمد ہوئے۔ آتے ہی ہانپنے لگے۔ جب خوب اچھی طرح ہانپ چکے تو کانپنا شروع کردیا۔ ہم یہ دیکھنا بھول گئے کہ موصوف کھڑکی کے راستے تشریف لائے یا دروازے کے راستے۔ پیٹ میں آنت کی قسم کو ہم نہیں کھاسکتے مگر بخدا منہ میں انکے ایک دانت نہ تھا۔ ہم نے دست سوال بڑہایا 

’’کیا آپ کے ہاں بکرا آگیا؟ اس سال تخمینہً کیا ریٹ ہیں بکروں کے؟‘‘ 

بڑے میاں نے پہلے چہرے پر لکچر دینے کی تمہید پیدا کی پھر بہت بڑے فلسفی کے انداز سے سوال کو نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا 

’’میاں اچھے بکرے تو اب دنیا سے اٹھ گئے ہیں۔ ہمارے زمانے میں تو بڑے روایت پسند اور جامع الحیثیات بکرے ہوا کرتے تھے۔ لیکن بہر حال تم دیکھ لو‘‘ 

بڑے میاں نے ہمار ا ہاتھ پکڑا اور اپنے ڈرائنگ روم کی طرف لے گئے۔ ہم نے دیکھا ایک ضعیف بکرا آنکھیں بند کئے قالین پر چپ چاپ بیٹھا ہے۔ معلوم ہورہا تھا مراقبے میں ہے یا ارسطو کے مسائل پر غور فرمارہا ہے۔ ڈرائنگ روم کے دائیں کونے میں ایک مغل عہدی حقہ رکھا تھا۔ اس حقے سے کون مستفید ہوتا ہے بکرا یا بڑے میاں؟ یہ سوال کرنے کیلئے ہم نے لب کھولے لیکن پھر بند کرلئے۔ بکرے کی مہم کے سلسلے میں ہماری دوسری منزل میاں آفت خاں کا کاشانہ تھا۔ پھر وہی سوال ’’کیا آپ نے اس سال کا بکرا لے لیا؟‘‘

’’ہاں بڑا جذباتی قسم کا بکرا ہے۔ جب سے آیا ہے تین مرتبہ خودکشی کی کوشش کرچکا ہے‘‘

’’خود کشی کی کوشش۔ ۔ ۔ ‘‘ ہم نے حیرت سے پوچھا ’’شاید کوئی عاشق مزاج بکرا ہوگا۔ عشق مجازی میں مبتلا ہوگیا ہوگا، دل دے بیٹھا ہوگا کسی چھیل چھبیلی بکری کو‘‘

’’نہیں بھائی دل دینا کیا معنی وہ تو کسی بکری کو لفٹ تک نہیں دیتا‘‘

آفت خاں کی باتیں سن کر ہمارا بکرے کو دیکھنے کا جذبہ شوق خطرناک حد تک شدید ہوگیا۔ بالآخر آفت خاں کا بیٹا بکرے کو لے کر آیا۔ ایک فصیح و بلیغ مسکراہٹ بکرے کے چہرے پر کھیل رہی تھی۔ ہمیں اس کا یہ انداز بہت بھایا۔ ایک بھرپور بوسہ ہم نے اسکے نرم و نازک گالوں کا لیا۔ 

اس کے بعد ہم مولوی غنیمت کے ہاں گئے۔ جہاں ہم نے ایک بکری دیکھی اور بقول مولوی غنیمت اس سے زیادہ شریف اور بے زبان بکری آج تک پیدا نہیں ہوئی۔ بکری کیا ہے اللہ میاں کی گائے ہے۔ لیکن ہم نے بکری کے چہرے اور چال ڈھال کا جائزہ لیا تو وہ ہمیں کچھ بد چلن نظر آئی۔ مولوی غنیمت نے بتایا یہ بکری انہوں نے ایک ہزار روپے میں خریدی ہے۔ ’’صرف ایک ہزار میں، پھر تو شریف بکری نہیں اس کا مالک ہوا کہ اتنی سستی بکری دے گیا‘‘ اس پر مولوی غنیمت نے پورا قصہ سنایا کہ 

’’کل میں اپنے گھر کے آگے چار پائی ڈال کر دنیا کی بے ثباتی پر غور کررہا تھا کہ میں نے دیکھا ایک لڑکا سات آٹھ بکریوں کے ریوڑ کو قدرے مشکوک طریقے سے ہانکتا جارہا ہے۔ معلوم نہیں وہ بکریوں کو چَرا رہا تھا یا چُرا رہا تھا۔ میں نے اسے آواز دی اور پوچھا یہ بکریاں بکاؤ ہیں؟ کہنے لگا ہاں۔ میں نے جلدی سے اس کی مٹھی میں چھ سو روپے رکھ دیئے۔ وہ یہ کہتا ہوا بھاگ گیا کہ اب یہ ساری بکریاں آپ کی ہیں لے لیجئے۔ میں بہت خوش ہوا مگر صرف ایک بکری ہاتھ آئی باقی بھاگ گئیں۔ 

بکرے کی خریداری کے سلسلے میں یہ معلومات کافی تھیں۔ اسکے علاوہ بیگم نے بھی ہمیں بکروں کے متعلق ایک فکری وعالمانہ لکچر دیاچنانچہ دوسرے دن ہم خود بکرا خریدنے منڈی پہنچ گئے۔ سب سے پہلے ہماری نظر ایک ایسے بکرے پر پڑی جو بادشاہوں کا بکرا یا بکروں کا بادشاہ کہلانے جانے کا مستحق تھا۔ کم خواب کی شیروانی اور اطلس کی ٹوپی اسے پہنائی گئی تھی۔ قیمت اسکی لکھی تھی پچیس ہزار روپے جو اکھٹے ہم نے کبھی نہیں دیکھے۔ دوسرا بکرا دیکھا جو اپنی دم سے نیم دائرہ بنائے کھڑا تھا۔ ویسے تو یہ بکرا ہمیں پسند آیا مگر ذرا بوڑھا معلوم ہورہا تھا۔ ہم نے بکرے والے سے کہا 

’’اس کی عمر ضرور دس سال سے زیادہ ہے‘‘ 

کہنے لگا ’’دس سال تو اسکے باپ کی بھی عمر ابھی نہیں ہوئی‘‘ ہم نے قیمت پوچھی تو بولا ’’چھ ہزار روپے‘‘ قیمت سن کر ہمار دل بیٹھ گیا پھر ہم خود بھی بیٹھ گئے اور ایک گلاس پانی مانگا۔ آگے بڑھے، ایک بکرے کو ہاتھ لگاکر دیکھنے لگے۔ مالک بولا ’’ کیا دیکھ رہے ہیں صاحب؟ پنجاب کا آریائی بکرا ہے۔ اس کا گوشت چغلی کی طرح کھائیے اور غیبت کی طرح ہضم کیجئے‘‘ ہم نے اسکے نو سو روپے لگائے۔ بکرے والے نے پہلے ہمارا شجرہ نسب پوچھا پھر اہل خاندان کو نام لے لے کر گالیاں دینی شروع کردیں۔ 

ایک موٹا تگڑا مسکین صورت بکرا آنکھیں بند کئے کھڑا تھا۔ بکرے کے مالک سے قیمت پوچھی۔ بولا ’’ساڑھے نو سو روپے‘‘ ہم چونکے، شک ہوا یا تو ہم ہوش میں نہیں یا بکرے والا۔ دوبارہ پوچھا، پھر وہی قیمت۔ غرض وہ بکرا خرید کر گھر لے آئے۔ ہم بکرے کو نہلانے کی تیاری کررہے تھے کہ پڑوس سے جبار بھائی آگئے، کہنے لگے ’’اپنا بکرا کچھ دیر کے لئے دے دیجئے ہمارے بچے کھیل کر واپس کردیں گے‘‘ ہمیں بہت غصہ آیا کہ بکرا نہ ہوا کھلونا ہوگیا کہ کھیل کر واپس کردیں گے لیکن بھلا ہو ہماری بیگم کا کہ انہوں نے کہیں ہمسائے کے حقوق پر کوئی لکچر سن لیا تھا۔ کہنے لگیں کوئی بات نہیں ایک دو گھنٹے میں واپس کردیں گے۔ جبار بھائی بکرا لے گئے۔ واپس کیا تو ہم نے دیکھا اس کا ایک کان کٹا ہوا ہے۔ ہمیں بہت غصہ آیا۔ جبار بھائی سے شکایت کی تو وہ بہت ناراض ہوئے کہنے لگے :

’’پہلی بات تو یہ کہ ہم نے آپ کا بکرا مستعار لیا ہی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ جب لیا تھا تو اسکا کان پہلے ہی سے کٹا ہوا تھا۔ تیسری بات یہ کہ جب واپس کیا تو اس کا کان اس وقت کٹا ہوا نہیں تھا‘‘

دوسرے دن ہمارا بکرا سوکھ کر کانٹا ہوگیا۔ لوگوں نے بتایا کہ بکرے والے لاغر بکرے کو بیچنے کیلئے کوئی ایسی شے کھلا دیتے ہیں جس سے بکرا عارضی طور پر موٹا اور توانا نظر آتا ہے۔ بیگم بکرے کی صحت کی دعا اور ہم عید کا انتظار کرنے لگے۔ سارے محلے کے بکرے میں میں کی لے کھینچ کر تشہیر کا سامان پیدا کرتے۔ ہمارا بکرا بھی حتی المقدور آواز نکالتا مگر اسکی سرگوشیاں صرف گھر کی چہار دیواری تک محدود رہتیں۔ بکرے کو جب ہم مثل ہڈیوں کا ڈھانچہ دیکھتے تو ہمیں بہت دکھ ہوتا۔ خدا خدا کرکے بقراعید آئی۔ بڑی مشکل سے ہم ایک نام نہاد قصائی پکڑ کر لائے جس کی چھری چلنے کا نام نہیں لیتی تھی مگر زبان چلی جاتی تھی:

’’ایسا بکرا بناؤں گا صاحب کہ مزا آجائے گا۔ میرا دادا مکان بنایا کرتا تھا، باپ داڑھی بناتا تھا اور میں۔ ۔ ۔ ‘‘

’’اچھا اب زیادہ باتیں نہ بناؤ۔ جاکر بکرا بناؤ‘‘

ہمارا اور ہمارے سامنے والے گھر کا بکرا ساتھ ساتھ بنارہا تھا کہ ایک اور صاحب اپنا بکرا لے کر آگئے۔ جھٹ سے کاٹ اسکو بھی بنانا شروع کردیا۔ جب گوشت اندر گیا تو بیگم حیرت سے بولیں ’’اوئی اللہ ہمارے بکرے کے پانچ پائے‘‘ ہم نے کہا ’’یہی فائدہ ہے مشترکہ ذبیحہ کا‘‘ مشترکہ ذبیحے کے طفیل کچھ گوشت کی بوٹیاں بھی بڑھ گئیں اسکے باوجود گوشت بہت کم تھا۔ ابھی تک قربانی کا گوشت کہیں سے ہمارے گھر نہیں آیا تھا۔ ہم نے شرعی اصول کے تحت اپنے گوشت کے یعنی اپنے بکرے کے گوشت کے تین حصے کئے اور ایک حصہ بیگم نے پکانے کیلئے چولہے پر رکھ دیا۔ سب کھانے بیٹھے تو دستر خوان کی طرف دیکھ کر پیٹ بھرنے سے پہلے ہماری آنکھیں بھر آئیں۔