/ کالمز / بابا جیونا / جبروت سے جابو

جبروت سے جابو

جبروت، جبروت نہیں جبو بن چکا تھا۔ جبروت بالکل ہی بیٹیوں جیسا لڑکا تھا انتہائی شرمیلا گلابی گلابی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ لچھے دار ہچکولے کھاتی گفتگو۔ باتیں کرتا تو ہونٹوں کے ساتھ اس کے کاغذی نتھنے بھی جنبش کرتے۔ جب وہ بے خیالی میں کبھی ہنستا تو اس کے ارد گر د ہواﺅں کے دوش پر ایک عجیب سی کھنکھناہٹ پیدا ہوجاتی۔ چلتے ہوئے زمین پہ اس نازک انداز سے قدم رکھتا گویا زمین کے بدن پر چھالے ہوں۔ اگر کبھی بے خیالی میں انگڑائی لیتا تو اس کے ہم جماعت شرارتی لڑکے ششدر ہو کر رہ جاتے۔ اس کے انگ انگ سے نسوانی زہر چھلک جاتا۔ اس کے مشاغل میں اپنی دونوں بڑی بہنوں کے ساتھ رسی پھلانگنا اڈا کھڈا کھیلنا گڑیا پٹولے بنانا اور امی کے ساتھ باتیں کرنے کے علاوہ ایکشن سے بھرپور کہانیاں پڑھنا بھی شامل تھا۔ وہ اکثر ایسی کہانیا ں پڑھتا جن میں کہانی کا ہیرو ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہو۔ جبروت ہمیشہ کچھ نہ کچھ حیران کن کرنے کے بارے میں سوچتا رہتا اور جب اپنی ہیرو بننے کی خواہش کا اظہار اپنے ہم جماتیوں سے کرتا تو وہ اس کا مزاق اڑاتے مختلف زنانہ نامو ں سے پکارتے شائد یہی وجہ تھی کہ وہ ہر کہانی میں صرف اور صرف ہیرو کے کارناموں تک ہی محدود رہتا۔ اس کی روح ہمیشہ ہیرو بننا چاہتی تھی مگر اس کا لچکدار بدن اس کا شرمیلا پن ہر بار اس کے راستے کی رکاوٹ بن جاتا۔ وہ چاہ کر بھی اپنی شخصیت میں بدلاﺅ نہیں لا سکا تھا۔ جبروت کی کلاس کے شرارتی لڑکے اسے تنگ کرنے کے لیے اور اس کا مزاق اڑانے کے لیے کبھی لپ اسٹک نیل پالش اور کبھی کوئی دوپٹہ یا چادر کسی گفٹ پیک میں گفٹ بنا کر لے آتے اور اس کو دیتے۔ جبروت میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ کلاس میں اپنے ساتھ ہونے والے بھونڈے مزاق کی پرنسپل کو یا اپنے گھر والوں کو شکایت ہی کر سکتا۔ ہر بار ایکشن کہانی پڑھتے جبروت ا للہ میاں سے دعا کرتا کہ اے میرے اللہ کیا اس طرح کے ہیرو صرف کہانیوں میں ہی ہوتے ہیں۔ کیا کسی ہیرو کی طاقت والی خوبی میرے اندر پیدا ء نہیں ہو سکتی۔ میں لڑکوں کی طرح شرارتی کیوں نہیں میں سہما سہما سا کیوں رہتا ہوں۔ وہ اکثر نہاتے وقت اپنے بدن کے تمام اعضاء کا بغور مشاہدہ کرتا اپنے بدن پر کوئی بھی نسوانی شہادت نہ پاکر اور خود کو ایک مکمل مرد پا کر سیخ پا ء ہو جاتا اسے انتہائی کوفت ہوتی کہ جب میں ایک مکمل مرد ہوں تو پھر میرے کلاس فیلوز مجھے لڑکی کیوں کہتے ہیں میرے لڑکیوں والے نام کیوں رکھتے ہیں۔ میرے اندر وہ کون سی کمی ہے جو مجھے مل نہیں رہی۔ میرا نام جبروت ہے میں کیوں اپنے نام کی لاج رکھنے سے بھی قاصر ہوں۔ قدرت، طاقت، حشمت، عظمت، بزرگی اور جلال کتنے خوبصورت مطلب ہیں اس نام کے کتنی مردانہ اور رعب دار کیفیات کا نام ہے جبروت۔ اب جبروت سچ مچ پریشان رہنے لگا تھا کیوں کہ اب جبروت کا مردانہ مگر لچکدار بدن اور نسوانی خیالات اوج نوعمری سے نکل کر شباب دلفریب کی دہلیز پہ قدم رکھ رہے تھے۔ اب جبروت کو سمجھ آنے لگا تھا کہ جسے وہ اپنی خام خیالی اور لوگوں کی شرارت سمجھتا تھا وہ کہیں نہ کہیں سچ ہے ایکشن کہانیوں کا ہیرو اچھا لگنا محض اتفاق نہیں تھا۔ مردانہ وجاہت کے لوگ بھلے لگنا محض اس لیے نہیں تھا کہ وہ بھی ان جیسا مرد لگنا چاہتا ہے بلکہ یہ تو کوئی اور طرح کی کیفیت تھی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ کلاس میں لڑکوں کا لپ اسٹک نیل پالش اور دوپٹے گفٹ کرنا شرارت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا سچ تھا جسے میں تسلیم نہیں کر پا رہا تھا۔ بظاہر میں سچ مچ مرد ہی ہوں مگر کوئی کمی ضرور ہے۔ اب جبروت بچپن کی کہانیوں کے ہیرو سے نکل کر حقیقت میں مردانہ رعب کے مالک مردوں کی طرف راغب ہونے لگا تھا۔ جبروت کے ابا اور اماں کی اکثر لڑائی رہتی اور ہر بار اس لڑائی کے پیچھے محرک جبروت کا زنانہ پن ہوتا۔ جبروت اب گنگا جمنی کیفیت میں مبتلاء رہتا۔ اگر میں ایسا ہوں تو اس میں میرا کیا قصور میرے ابا کو چاہیے تھا کہ مجھے لڑکا پیدا کرتے یا لڑکی یا پھر اماں ابا کو چاہیے کہ وہ اللہ سے گلہ کریں۔ ان لڑائیوں سے تنگ آکر جبروت نے لڑکی بننے کا فیصلہ کرلیا۔ اب ہر وقت وہ اسی خیال میں گم رہتا کہ ٹھیک ہے اگر میں مرد نہیں بن سکتا تو لڑکی بن جاتا ہوں مگر کیسے جبروت جب اکیلا ہوتا کہیں بھی تنہائی میں ہوتا تو خود کو لڑکی تصور کرتا اپنے نرم نرم بدن پہ ہاتھ پھیرتا تو قدرے بھلا محسوس کرتا اس کا دل کرتا کہ کوئی بھاری مردانہ ہاتھ اس کے بدن کوچھوئے اس کے دل میں حسرت پیدا ہوتی کہ اس کا سینہ بھی نوعمر لڑکیوں کی طرح اٹھا ہوا ہونا چاہیے۔ اپنے بدن پر کچھ مردانہ نشانیاں مگر دل میں زنانہ خواہشات کا اٹھتا ہوا آتش فشاں دیکھ کر رونے لگتا برہنہ حالت میں اپنے بستر پر لیٹا گھنٹوں کروٹیں بدلتا رہتا۔ جبروت آٹھویں جماعت کے امتحان سے فارغ ہوا تھا کمرے میں لیٹا کوئی ناول پڑھ رہا تھا جب اس نے اپنی اماں کو ابا سے یہ کہتے سنا کہ اپنے محلے میں ایک عجیب بات ہوئی ہے۔ بشیر ڈرائیور کی بیٹی سکینہ لڑکا بن گئی ہے۔ کل اس کے پیٹ میں درد ہوا وہ اپینڈکس کا درد سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو ڈاکٹر نے آپریشن کے بعد سکینہ کے لڑکا بن جانے کی خوش خبری سنا دی۔ یہ خبر سن کر جبروت اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا مطلب دوران پیدائش جس میں کہیں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو آپریشن کرکے وہ ٹھیک کی جاسکتی ہے۔ جبروت نے خودکلامی کی۔ مگر مجھے تو درد کبھی نہیں ہوتا مجھے تو اپنے مردانہ عضو کو دیکھ کر اسے چھو کر اچھا لگتا ہے۔ بہر حال یہ بات طے ہے کہ میں لڑکی ہی ہوں اور ایک آپریشن کی ضرورت ہے بس۔ مگر کیسے اور کون کرے گا یہ آپریشن۔ میں ڈاکٹر سے کیا کہوں گا اور میرے سینے پہ ایسے کوئی آثار بھی تو نمودار نہیں ہوئے جن سے لگے کہ میں لڑکی ہوں۔
آج پھر جبروت کے اماں ابا کی خوب لڑائی ہوئی تھی۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب جبروت کے ابا نے جبروت کو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے آپ سے باتیں کرتے دیکھا۔ اب جبروت کے ابا جبروت کو گھر سے نکالنے کی بات کر رہے تھے۔ جبروت کے ابا نے کہا تھا کہ اپنے لاڈلے سے کہو اپنے لچھن ٹھیک کرے یہ ہروقت لڑکیوں کی طرح آئینے کے سامنے کھڑے رہنا کمرے میں گھسے رہنا دن کو بھی کمرے کا دروازہ بند رکھنا مجھے بالکل پسند نہیں کیوں خاندان اور محلے میں ہماری ناک کٹوانے پہ تلا ہے تیرا لاڈلا۔ محلے میں لوگوں کی بیٹیاں آپریشن سے بیٹے بن رہی ہیں اور ایک ہمارا سپوت ہے جو لڑکا ہو کر بھی لڑکا نہیں لگتا۔ کاش یہ لڑکی ہی بن جاتا اس کو بیاہ تو سکتے یہ پتہ نہیں کون سی مخلو ق ہے۔ جبروت کے ابا غصے میں جانے کیا کیا بول گئے۔
جبروت کا بچگانہ ذہن انتشار کا شکار ہوچکا تھا جبروت عجیب خیالوں میں گم تھا۔ کیا میں اپنے ماں باپ کے لیے توہین کا سبب ہوں۔ کیا اس طرح کا لڑکا ہونے سے لڑکی ہونا بہتر ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ابو نے کبھی مجھے پیار سے نہیں دیکھا۔ کیا یہی وجہ ہے کہ ابو آج تک کہیں بھی مجھے ساتھ لے کر نہیں گئے۔ شاید اسی وجہ سے میں اپنے گھر میں اماں ابا کے ساتھ رہ کر بھی ہمیشہ تنہا ء رہتا ہوں۔ کیا آپریشن سے میں لڑکی بن سکتا ہوں۔ کیا میرے جوان ہونے پر خاندان اور محلے میں میرے ابو کی ناک کٹ جائے گی۔ جبروت سرگوشی کے انداز میں اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا اور ناجانے کیا سوچ کر سکول بیگ سے کتابیں نکال نکال کر اپنے کپڑے رکھ رہا تھا۔
رات کے دو بج چکے تھے۔ لاری اڈے پر صرف وہ ہی لوگ موجود تھے جو کہیں دور جانا چاہتے تھے یا جو کہیں دور سے سفر کر کے پہنچے تھے۔ رات کے اس پہر تھکے تھکے چہرے جبروت کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جس چھپر ہوٹل کی پٹھے کی چارپائی پہ جبروت بیٹھا تھا اس ہوٹل کا مالک بھی جبروت کو دو تین بار دیکھ کر عجیب سا مسکرایا تھا۔ ہر بار جبروت اس ہوٹل مالک کی مسکراہٹ دیکھ کر نظریں جھکا دیتا۔ آخر ہوٹل مالک کاﺅنٹر سے اٹھ کر جبروت کے پاس آگیا اور پھٹے گلے سے نکلتی گرجدار آواز سے بولا لگتا ہے گھر سے بھاگ کر آئے ہو۔ کھانا کھاﺅ گے۔ آجاﺅ اندر اور جبروت کو بازو سے پکڑ کر اٹھا لیا۔ پہلی بار کسی اجنبی مرد کے سخت ہاتھ نے جبروت کو چھوا تھا۔ جبروت کا جی چاہا کہ وہ شور کرے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بھاگ جائے کیوں کہ ہوٹل مالک کی نظروں میں پدرانہ شفقت کی بجائے کوئی عجیب سی بدبودار ہوس تھی مگرجبروت بچہ ہونے کے ساتھ گھر سے بھاگا ہوا زنانہ اداﺅں والا کچے گوشت کا وہ لوتھڑا تھا جسے یہ گدھ نماء ہوٹل مالک نوچ ڈالنا چاہتا تھا۔
حضرت آدم ؑ سے آج تک جتنی بھی قومیں آئیں ہر قوم میں کوئی ایک برائی ہوا کرتی تھی اور اس ایک برائی کی وجہ سے ان قوموں پہ زوال آتے انسانوں کی شکلیں بدل جاتیں۔ واحد امت محمدﷺ ہے جس میں وہ تمام برائیاں اور گناہ پائے جاتے ہیں جو ہم سے پہلی قوموں میں پائے جاتے تھے۔ مگر یہ اللہ کا خاص کرم اور عنائت ہے اس امت کو یہ سرکار دوعالم ﷺ کے صدقے اعزاز اور شرف حاصل ہے کہ ہربرائی ہونے کے باوجود نہ تو ان کی شکلیں بدلتی ہیں نہ ان پہ کبھی کوئی عذاب الٰہی آئے گا۔ قیامت تک اللہ اس قوم کی لاج اور پردہ رکھے گا۔
اب جبروت کو اس ہوٹل پہ مالک کا مقام حاصل تھا۔ تین وقت کے کھانے کے بدلے جبروت ہوٹل مالک کی بھوک مٹانے کا عادی ہوچکا تھا۔ چند لمحوں کی ذلت کے بدلے ہوٹل مالک اسے نئے نئے کپڑے جوتے خرید کر دیتا۔ جبروت کو اکثر اماں اور بہنوں کی یاد آتی کبھی کبھی تنہائی میں بیٹھ کر خوب رو بھی لیا کرتا مگر صرف اس ڈر سے گھر نہ جاتا کہ اس کی وجہ سے اس کے ابو کی عزت خراب ہوجائے گی۔ خاندان میں ناجانے کون سی ناک ہے جو کٹ جائے گی۔ اب تو جبروت کبھی کبھی چرس والے سگریٹ کے بھی کش لگانے لگا تھا پہلی بار جس گلاس کو سونگھ کر جبروت الٹیاں کرنے لگا تھا اب اس گلاس کا عادی ہوچکا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا جب جبروت شراب کے نشئے میں دھت ہوجاتا تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا ہوٹل مالک جبروت کی اس کیفیت سے بھی خوب فائدہ اٹھاتا اسے گود میں بٹھا کر اس کے آنسو صاف کرنے لگتا۔ جبروت ہوٹل مالک کی درندہ صفت شفقت سے مانوس ہوکر ہوٹل مالک سے لپٹ جاتا جبروت ہوٹل مالک کی اس حیوانیت کو اپنا نصیب سمجھ بیٹھا تھا۔
وقت گزرتا رہا آج ہوٹل پہ ہیجڑوں کی ایک مسافر ٹولی کا آنا ہوا جب شبو نے جبروت کو دیکھا تو خوشی سے پاگل ہوگئی۔ شبو نے جبروت کو پاس بلایا وہی لہیجہ وہی چال چلن وہ ہی نزاکت وہ ادائیں جو نئے ہیجڑوں کو سکھانے کے لیے شبو کو مہینوں اور سال لگتے تھے وہ تمام کی تمام جبروت میں قدرتی طور پر موجود تھیں۔ ایک لاکھ روپے میں شبو اور ہوٹل مالک کا سودا طے پا گیا۔ ہوٹل مالک نے جبروت کو ایک لاکھ روپے کے عوض اس شرط پہ شبو ہیجڑے کے ہاتھ بیچ ڈالا کہ کبھی کبھی جبروت میرے ہوٹل پہ ضرور آیا کرے گا اور تم لوگ اسے منع نہیں کرو گے۔
جبروت کو سرخ رنگ کی مسہری پہ بٹھایا گیا۔ وہ لپ اسٹک جو کلاس میں لڑکے شرارتاََ جبروت کو دیا کرتے تھے جبروت کے مرمریں ہونٹوں پہ بڑے پیار سے لگائی گئی جبروت کی موٹی موٹی نیلی آنکھوں میں شبو نے اپنے ہاتھوں سے کاجل لگایا۔ گوٹے کناریوں والا سرخ دوپٹہ جبروت کے سر پر دیا گیا۔ چار ہیجڑوں نے ایک سرخ دوپٹہ جبروت کے سر پر تان دیا۔ ہاتھوں پر مہندی لگائی گئی۔ کسی دلہن کی طرح جبروت کو سجایا گیا۔ ڈھولک کی تھاپ پہ تمام ہیجڑے خوشی کے گیت گاتے ناچ رہے تھے۔ شبو کے گھر کے باہر لالے قصائی نے چار بکرے ذبح کیے۔ گوشت بریانی زردہ پلاﺅ کی دیگیں پکائی گئیں۔ پورے علاقے کے ہیجڑے جمع ہوگئے۔ سب ہیجڑوں نے جبروت کو مختلف تحفے تحائف دیے مٹھائی کے ڈبوں کے انبار لگ گئے۔ ہر آنے والا ہیجڑا بڑے منفرد انداز سے جبروت کے ساتھ اپنائیت کا اظہار کرتا۔ شبو کے گھر میں موجود ہر کوئی شبو کو مبارکیں دیتا اور جبروت کی بلائیں لے رہا تھا۔ شبو بھی ایک خوبصورت جوڑے میں ملبوس آنے والوں سے مبارکیں وصول کرتے تھک نہیں رہی تھی۔ آج شبو کے ڈیرے پر کوئی شادی کا سماں تھا۔ کوئی جبروت کی پیشانی پہ بوسہ دیتا کوئی سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا۔ جبروت کو سبز رنگ کی چوڑیا ں پہنائی گئیں۔ کانوں میں سونے کے جھمکے ماتھے پہ ٹیکہ پہنایا گیا۔ ہزا ر ہزار کے نوٹ سلامی کے طور پہ جبروت کے مہندی لگے ہاتھوں پہ رکھے جا رہے تھے جو کوئی بھی جبروت کو سلامی دیتا شبو کو بھی مٹھائی کا ڈبہ اور ہزار پانچ سو لازمی دیتا۔ جبروت خیالوں میں گم پلکیں جھکائے لال مسہری پہ بیٹھا چیچلی انگلی کا ناخن دانتوں سے کاٹتے ہوئے ناجانے زندگی کی کون سی الجھی گتھیاں سلجھا نے میں لگا تھا۔ آج جبروت کے جسم پہ موجود واحد مردانہ علامت کو بھی ختم کیے جانے کی رسم ہورہی تھی۔ جبروت کی آنکھوں میں نمی تھی وہ دل ہی دل میں اپنی اماں بہنوں او ر ابا کو یاد کررہا تھا۔ وہ آج عزت دار معاشرے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا تعلق توڑنے جا رہا تھا۔ اسے اپنے ابا کی ناک کی فکر تھی مردانہ عضو کے کٹ جانے سے درد کی اٹھنے والی ٹیس اس درد کے سامنے کوئی معانی نہیں رکھتی تھی جو درد اس کے اپنوں نے دیا جو درد ابا کی باتوں نے دیا کاش میرے ابا مجھے قبول کرلیتے کاش معاشرہ مجھے بھی اپنے جیسا انسان سمجھ کر قبول کرلیتا۔ کاش لوگ اللہ کی بنائی مخلوق میں رہ جانے والی کسی کمی کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیتے۔ کاش میرے کلاس فیلوز مجھے زنانہ نام نہ دیتے۔ کاش ہوٹل مالک ہی مجھے اپنا بیٹا بنا لیتا۔ کاش جب میں نا سمجھی میں گھر سے بھاگ گیا تھا تو کوئی مجھے ڈانٹ کر واپس گھر پہنچا دیتا۔ کاش لوگ میرے گورے رنگ کورے بدن اور زنانہ اداﺅں پر مرنے کی بجائے میرے اندر گھٹ گھٹ کر مرتے مرد کو پہچان لیتے۔ کاش ایسے انسانو ں کا کوئی الگ سے قبیلہ ہوتا اور آج مجھے ہیجڑوں میں شامل نہ ہونا پڑتا۔ جبروت انھیں خیالوں میں گم تھا جب شبو نے اپنے ہاتھ سے جبروت کو بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر جبروت کی آنے والی زندگی ہمیشہ کے لیے اندھیروں کی نذر کردی اب جبروت جبروت نہیں رہا تھا بلکہ جبو بن چکا تھا۔

بابا جیونا

بابا جیونا  جن کا اصل نام نوید حسین ہے ایک سرکاری ملازم اور ایک بہترین لکھاری ہیں۔