Sunday, 15 September 2019
/ کالمز / باشام باچانی / قربانی

قربانی

سڑکیں پانی سے بھری ہوئی ہیں، بجلی دو تین دن سے منقطع۔ ۔ ۔ یہ کیا ہورہا ہے؟کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ بارش کی آمد سے ہمارے یہاں یہ مسائل تو جنم لیتے ہیں، اس میں تعجب کس بات کا؟ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت اس حوالے سے اُن کی مدد کرے۔ مجھے تو اس بات پر ہنسی آتی ہے۔ ۔ ۔ اتنے سال ہوگئے ہیں، کبھی حکومت لوگوں کی توقعات پر پوری اتری ہے؟ خیر حکومت پر الزام نہ لگایا جائے تو اچھا ہوگا۔ ہم کونسا سڑکوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھتے ہیں۔ ہر کوئی سڑکوں کو کچرے سے بھر دیتا ہے۔ ہم سب اپنے ملک کی سڑکوں اور نالوں کی بربادی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ تو جو بویا ہے اسے اب کاٹو۔ الزام تراشی کا راستہ نہ اپنائیں، بلکہ خود احتسابی سے رجوع کریں۔ شکریہ!
توبہ !توبہ! مجھے کہنا کچھ اور تھا، اور میں نے اس موضوع پر لیکچر دے ڈالا۔ خیر اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔ یہ شیطان کا کام ہے، وہ انسان کو بھکاتا ہے، وہ ہمارا دشمن ہے۔ ۔ ۔ ایک منٹ، ایک منٹ۔ مجھ سے میرا ضمیر کچھ کہنا چاہتا ہے۔ اللہ رحم کرے۔ ۔ ۔ اتنے دنوں بعد جاگا ہے۔ جی ضمیر صاحب! فرمائیے۔ "یار تم نے ابھی ابھی کہا تھا: 'الزام تراشی کا راستہ نہ اپنائیں، بلکہ خود احتسابی سے رجوع کریں۔ 'اور اب خود شیطان پر الزام لگا رہے ہو۔ شرم کرو! "اب میں کیا کہوں۔ ارے ہاں!ضمیر صاحب!یہ بات تو ہمارے رب نے بھی فرمائی ہے۔ "وہ (یعنی شیطان) تمہارا کھلا دشمن ہے۔ "(سورۃیٰس، آیت نمبر60) اب بتاؤ، کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ جواب دو۔ ضمیر صاحب کا جواب: "کمال ہے یار! تم لوگ اپنے مطلب کی آیت ڈھونڈتے رہنا۔ قرآن پاک میں یہ بات بھی تو درج ہے کہ شیطان آخرت کے روز یہ فرمائے گا: 'میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی جانب) بلایا تو تم نے(جلد بازی میں) میرا کہنا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ کو ہی ملامت کرو۔ '(سورۃابراھیم، آیت نمبر 22)"یہ دیکھیں:ابھی ابھی آپ کو لیکچر دے رہا تھا کہ الزام تراشی سے پرہیز کیجیے، اور خود کسی اور پر اپنی غلطی کا الزام لگانے بیٹھ گیا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا ہے:"اور انسان کمزور تخلیق کیا گیا ہے۔ "(سورۃالنساء، آیت نمبر 28) ضمیر صاحب!آپ کا بہت بہت شکریہ!"بیوقوف!اللہ کا شکر ادا کرو!"ارے ہاں !یا اللہ پاک تیرا شکریہ!
اب میرا خود کا یہ حال ہے تو آپ لوگوں سے کیا عرض کروں۔ سوچا تھا کہ ایسی بات کہوں گا جو دانش، عقل اور علم سے تعلق رکھتی ہو، لیکن اپنی کمزوری دیکھ کر مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے خاموش رہنا چاہیے۔ اس قوم کو علامہ اقبال، حکیم سعید اور اشفاق احمد جیسی شخصیات اپنے قلم سے سدھارنے میں ناکام رہیں تو میں کون ہوں؟ مجھے تو اس حوالے سے اجازت دیجیے۔ میں نالائق اور کم عقل ہوں۔ یہ کیا؟ ضمیر پھر سے بیدار ہوگیا۔ "تم نامعقول کا اضافہ کرنا بھول گئے۔ "ضمیر صاحب! آپ کی مہربانی۔ ایسا کریں کہ کسی اچھی اردو لغت سے استفادہ کریں اور جو جو الفاظ میرے لائق آپ کو ملیں ان سے مجھے مطلع کیجیے۔ میں اپنے اگلے مضمون میں اُن سارے القاب کو اپنی شخصیت کے ساتھ جوڑ دوں گا۔ ٹھیک ہے؟ فی الحال مجھے اپنی بات کرنے دیجیے۔ ۔ ۔ "اچھا چلو ٹھیک ہے۔ "شکر اللہ کا!
تو دوستو! میں کہہ رہا تھا کہ اس قوم کی اصلاح—اور وہ بھی میرے قلم کے ذریعے—ناممکن ہے۔ ۔ ۔ میں نالائق ہوں اور نالائق محض اپنی نادادنی اور بیوقوفی سے لوگوں کو ہنسا سکتا ہے۔ (جیسے کہ آپ ابھی میری غلطیوں پر ضرور ہنسے ہونگے۔) اشفاق احمد صاحب نے اپنے پروگرام (زاویہ) میں کیا خوب فرمایا تھا:"جو شخص جس کام کے لیے پیدا ہوتا ہے، بس وہی کرسکتا ہے۔ اس سے بڑھ کے کرنے کی کوشش کرے تو وہ معدوم ہوجاتا ہے۔ "(صفحہ نمبر119، زاویہ، اشفاق احمد، جلددوئم، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2015) میں معدوم نہیں ہونا چاہتا۔ لہذا میں بیوقوف رہ کر اپنے آپ کو خوش پاتا ہوں۔ میں وہ نہیں بننا چاہتا جو میں ہوں نہیں۔
اور دیکھا جائے تو آج کے دور میں نالائق ہونا بہتر ہے بہ نسبت ہوشیار ہونے کے۔ معاف کیجیے گا لیکن میں پھر سے اشفاق احمد صاحب کے ایک قول یا بیان کا سہارا لینا چاہتا ہوں۔ (ظاہر ہے، میں نالائق جو ہوں۔) انہوں نے کہا—اور اس بات پر وہ ہمیشہ زور دیا کرتے تھے—"میرے خیال میں ہمارے پیارے وطن کو جتنا نقصان ہم پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے اَن پڑھوں یا جنہیں ہم حقارت سے گنوار کہتے ہیں، انہوں نے نہیں پہنچایا۔ جتنی بڑی کرپشن ہو وہ شخص اتنا ہی زیادہ پڑھا لکھا ہوگا۔ "(صفحہ نمبر 28، زاویہ، اشفاق احمد، جلدسوئم، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2015) مطالعہ پاکستان کے طالب علم اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا ہیں۔ اشفاق احمد صاحب کی یہ بات مبالغہ آمیزی پر مبنی نہیں۔
قرآن میں بھی ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے—جو بظاہر تو ہمیں عقل مند معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کی دانش کے پیچھے ایک الگ چہرہ چھپا ہوتا ہے۔ رب تعالی ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں:"انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دُنیا کی زندگی میں تمھیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن ِحق ہوتا ہے۔ جب اُسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے—اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ "(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر204 تا 205) کیا ہمارے ملک کی تاریخ میں ایسے اشخاص کا ذکر نہیں ملتا؟ ہم نے دیکھا کہ فلاں کے پاس آکسفرڈ یا کیمبرج کی ڈگری ہے، اچھی انگریزی بول لیتا ہے، انگریزی لباس پہنتا ہے، غیر ملکی کُتب کا مطالعہ کرتا ہے، لہذا ایسے شخص کو ملک کا سربراہ چُن لینا چاہیے۔ ۔ ۔ اور کچھ نہیں تو ہم اپنے(اعلی) افسران (چاہے وہ عسکری ہوں یا عوامی) کو ضرور اس معیار پر رکھ کر بھرتی کرتے ہیں۔ اس بات سے ہم لاتعلق ہوتے ہیں کہ کیا وہ شخص اخلاقی قابلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں؟ ہمیں تو بس اس بات سے غرض ہے کہ اُس شخص کو انگریزی آنی چاہیے، اور ساتھ ساتھ اُس کا بود و باش بھی فرنگی کےطرز پر ہونا چاہیے۔ ۔ ۔ اخلاق، اقدار وغیرہ جیسی چیزیں فضول ہیں۔ اللہ تعالی نے اتنے سالوں پہلے ہمیں اس حوالے سے آگاہ کردیا تھا کہ کہیں تم ایسے لوگوں کی چال میں نہ پھنس جاؤ، لہذا محض دنیاوی زندگی میں جو تمہیں بھلا معلوم ہوتا ہے—یا جس کی بات تمہیں اچھی لگتی ہے—وہ ضروری نہیں کہ اقتدار پانے کے بعد اچھی کارکردگی بھی دکھائے۔ قرآن پاک اس بارے میں ہماری اس طرح رہنمائی کرتا ہے:"اور جب انہیں کہا جاتا ہےکہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ جواب دیتے ہیں:ہم تو محض اصلاح لانے والوں میں سے ہیں۔ خبردار!بے شک، یہی ہیں وہ لوگ جو فسادی ہیں، لیکن انہیں شعور نہیں۔ "(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 11 تا 12)
ہم نے انگریزی بولنے والے افسران تو بھرتی کرلیے، اور ساتھ ساتھ ایسے حکمران بھی چن لیے جو یورپ اور امریکہ کی اعلی یونورسٹیوں کے سند یافتہ ہیں، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کیا ہمارا ملک یورپ اور امریکہ کی طرح ترقی کر رہا ہے؟کیا ہماری سڑکیں ایسی ہیں جیسی یورپ میں پائی جاتی ہیں؟کیا ہم علم کے میدان میں ان کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں؟ چلیں کوئی بھی معیار اٹھا کر دیکھ لیں۔ کیا ہم فرنگیوں کا کسی بھی میدان میں (سوائے بدعنوانی اور کرکٹ کے) مقابلہ کرسکتے ہیں؟ نہیں نا۔ بھلا کیوں؟ہم نے تو ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ان لوگوں کی نقل اتار نے میں، لیکن پھر بھی ہماری زندگی اور اُس سے جُڑی حقیقتیں بالکل مختلف ہیں اور ان کی زندگی سے وابستہ حقائق بالکل مختلف۔ ایسا کیوں؟
میری گزارش ہے کہ آپ تھامس سوویل —مشہور امریکی ماہرِ اقتصادیات اور تیس سے زائد کتابوں کے مصنف—کی ایک تصنیف، ویلتھ، پاورٹی اینڈ پولیٹیکس(ری وائیزڈ اینڈ اِن لارجڈ ایڈیشن) کا ضرور مطالعہ کریں۔ کتاب میں سوویل صاحب نے اُن عوامل کا ذکر کیا ہے جو قوموں کو غربت سے نکالنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں؛دوسری جانب انہوں نے اُن پہلوؤں کی بھی نشان دہی کی ہے جن کی وجہ سے بہت سے ممالک ابھی تک غربت کا شکار ہیں۔ ہم ان سارے عوامل کا یہاں ذکر تو نہیں کرسکتے، لیکن ایک بنیادی پہلو ایسا ہے جس کا ذکر یہاں کرنا انتہائی مفید ہوگا۔ سوویل صاحب لکھتے ہیں کہ کام کی جانب رویہ بھی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کیا ایک قوم ترقی کرے گی یا نہیں؟ وہ قومیں ہمیشہ پسماندہ رہتی ہیں، جن کے سپوت بہت سے کاموں کو حقارت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور صرف اس آسرے بیٹھے رہتے ہیں کہ ہمیں صرف سرکاری نوکری کرنی ہے، کاروبار سے اجتناب کرنا ہے، ہنر سے دور بھاگنا ہے، محض ڈگری حاصل کرکے کسی جگہ ملازمت اختیار کرنی ہے۔ اس کے برعکس سوویل صاحب برطاونی شاہی خاندان ٹیوڈر کا ذکر کرتے ہیں۔ (اس خاندان نے بہت سالوں تک برطانیہ پر حکومت کی؛ مشہور انگریزی ملکہ ایلزبتھ اول بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔) ٹیوڈر خاندان میں یہ رواج تھا کہ اُس کا کوئی بھی سپوت خالی ہاتھ نہیں بیٹھتا تھا اور خاندان والوں پر بوج بننے سے اجتناب کرتا تھا۔ (صفحہ نمبر 149 تا 150، ویلتھ، پاورٹی اینڈ پولیٹیکس:ری وائیزڈ اینڈ اِن لارجڈ ایڈیشن، تھامس سوویل، بےسِک بُکس، نیو یارک، 2016) اب اس بات کو سمجھنے کے بعد ہمیں حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ برطانیہ کیوں آگے جاکر دنیا پر چھا گیا اور ایک طاقتور عسکری و معاشی قوت بن کر اُبھرا۔ برطانوی شاہی خاندان کا یہ رویہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارے یہاں اکثر طالب علم چھوٹے موٹے کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ وہاں کے نوجوانوں میں آپ ایک عادت عام پائیں گے:وہ اپنی جیب خرچ جلد خود کمانا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے طالب علم جب تک نوکری لگے والدین کے آسرے بیٹھے رہتے ہیں؛وہاں یہ رویہ نہیں اپنایا جاتا۔ وہاں آپ دیکھو گے کہ طالب علم چھوٹی موٹی نوکری (جیسے کہ کسی ہوٹل میں ویٹر وغیرہ کی خدمات فراہم کرنا، کسی ادارے میں عام سی ملازمت اختیار کرنا، وغیرہ وغیرہ) کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ اس طرح جب تک وہ اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں اپنے والدین پر بوج نہیں بنتے۔ اپنے اخراجات کا بار خود اٹھاتے ہیں۔
فرنگیوں کو چھوڑیں! ہمارے پاس رسول ِعربیﷺکی مثال ہے تو ہم کہیں اور کیوں بھٹکیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہانے فرمایا:"رسول اللہﷺاپنے طہارت (وضو) کے برتن کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے، اور نہ اس چیز کو جس کو صدقہ کرنا ہوتا، بلکہ اس کا انتظام خود کرتے تھے۔ "(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 362)خود سرکارِدو عالم نے فرمایا:"اللہ تعالی نے جسے بھی نبی بنا کر بھیجا اس نے بکریاں چرائیں۔ "صحابہ کرام نے اپنے استاد سے پوچھا:"اے اللہ کے رسولﷺ، آپ نے بھی؟"رسول اللہﷺنے جواب دیا:"(ہاں!) اور میں بھی اہل مکہ کی بکریاں قیراطوں کے عوض چرایا کرتا تھا۔ "(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر2149)
دوستو! آج ہمارے یہاں شرح خواندگی کا، تعلیم کا مقصد کچھ اور ہے۔ اس کے برعکس، مغرب میں —اور ہمارے مذہب میں—تعلیم اور علم کا مقام کچھ اور ہے۔ آج ہمارے یہاں آدمی جتنا زیادہ پڑھتا ہے، اتنا زیادہ مغرورو متکبر بن جاتا ہے۔ اور اگر اسےکسی اچھی جگہ ملازمت مل جائے—خاص طور پر سرکاری—تو وہ دوسروں پر رحم نہیں کھاتا۔ مانا کہ اس ملک کو قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسے پڑھے لکھوں نے بنایا۔ لیکن وہ آج کے پڑھے لکھے لوگوں سے بالکل مختلف تھے۔
علامہ اقبال کے فرزند، ڈاکٹر جاوید اقبال، اپنی کتاب—زندہ رُود(علامہ اقبال کی مکمل سوانح حیات)—میں لکھتے ہیں:"اقبال کو 1923ء میں"سر"کے خطاب کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے گورنر پنجاب سے کہا کہ جب تک ان کے استاد سید میر حسن کی علمی خدمات کا اعتراف نہ کیاجائے۔ وہ خطاب قبول نہ کریں گے۔ گورنر نے پوچھا کہ کیا سید میر حسن کی کوئی تصانیف ہیں؟ اقبال نے جواب دیا، میں خود اُن کی تصنیف ہوں۔ چناچہ اقبال کے خطاب کے موقع پر سید میر حسن کو بھی شمس العلماء کا خطاب ملا۔ "(صفحہ نمبر 85، زندہ رُود، ڈاکٹر جاوید اقبال، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2014) آج کا پڑھا لکھا یہ جرات رکھتا ہے کہ اپنے مفاد سے پہلے اپنے استاد کی عزت کو ترجیح دے؟ کیا ہم اپنے استاد کے لیے یہ کرسکتے ہیں؟
قائد اعظم کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ انگلستان میں خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے پاس سب کچھ تھا۔ بہترین رہائش، اعلی نوکری، دولت، عالیشان گاڑی۔ ۔ ۔ سب کچھ تھا ان کے پاس۔ لیکن یہ سب انہوں نے قربان کردیا۔ انہوں نے اپنی عمر اور بیماری کا بھی لحاظ نہ کیا۔ چاہتے تو مزے سے آرام کرتے۔ اپنے آخری ایام اس دنیا میں سکون سے گزارتے۔ لیکن انہوں نے اپنی صحت، دولت، وقت، توانائی، سب کچھ اپنی ملت کے لیے قربان کردیا۔
بھائیو اور بہنو! وہ لوگ پڑھے لکھے تھے، بالکل تھے۔ اور میں یہ نہیں کہتا کہ آج ایسے لوگ ناپید ہوچکے ہیں۔ بہت سارے لوگ ہیں جو اُن مردِ مجاہد کے نقسِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ہدف اور رخ کا تعین کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ہے کہ آج اکثر لوگ تعلیم اور علم کو محض اپنی شہرت، عزت اور دولت کی خاطر ترجیع دیتے ہیں۔
اِس سال بکرا عید اور آزادی کا دن ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ بکرا عید ہے نام قربانی کا۔ حضرت ابراھیمؑ کی قربانی—انہوں نے اپنے لختِ جگر(حضرت اسماعیل ؑ) کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اور پاکستان نام ہے ہمارے بڑوں کی قربانی کا۔ ان دونوں دنوں کو ضرور منائیے گا، لیکن یہ بھی یاد رکھیے گا کہ اِن دونوں دنوں کے پیچھے کونسا فلسفہ پوشیدہ ہے۔
میرےدوستو! قربانی سے متعلق ایک داستان ملاحظہ ہو، پھر میں اجازت چاہوں گا:
قدرت اللہ شہاب، جو ملک غلام محمد، اسکندر مرزا، اور ایوب خان جیسے حکمرانوں کے قریب رہ کر کام کرچکے تھے، بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے، اپنے والد عبد اللہ صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اُن کی علمی صلاحیتوں کا ڈنکا بجنے لگا۔ سر سید احمد خان کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں، وہ اُس وقت مسلمانوں کو علم کے میدان میں آگے بڑھانا چاہتے تھے، لہذا انہوں نے عبد اللہ صاحب کے پاس اپنا خاص منشی وظیفہ دے کر بھیجا۔ عبد اللہ صاحب نے وہ وظیفہ قبول کیا اور علی گڑھ سے بی اے کیا، وہاں بطور لیکچرر ملازمت اختیا ر کی۔ لیکن سر سید احمد خان انہیں مزید ترقی دلانا چاہتے تھے۔ لہذا انہوں نے عبد اللہ صاحب کو انگریز سرکار سے انگلستان جانے کے لیے وظیفہ دلا کر دیا۔ عبد اللہ صاحب نے جب اس بات سے اپنی والدہ کو مطلع کیا تو ان کی والدہ نے دو ٹوک انداز میں انہیں منع کردیا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا پردیس جائے۔ عبد اللہ صاحب نے جب سر سید احمد خان سے اس بات کا ذکر کیا تو سر سید احمد خان بولے۔ "کیا تم اپنی بوڑھی ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہو؟"عبد اللہ صاحب نے جواب دیا۔ "جی ہاں۔ "پھر آگے جو ہوا، وہ قدر ت اللہ شہات کی زبانی سنیے:
"یہ ٹکا سا جواب سن کر سر سید آپے سے باہر ہوگئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے پہلے انہوں نے عبد اللہ صاحب کو لاتوں، مکوں، تھپڑوں اور جوتوں سے خوب پیٹا، پھر کالج کی نوکری سے برخاست کرتے ہوئے یہ کہہ کر علی گڑھ سے نکال دیا:"اب تم ایسی جگہ جا کر مرو جہاں میں تمہارا نام بھی نہ سن سکوں۔ "عبد اللہ صاحب جتنے سعادت مند بیٹے تھے، اُتنے اطاعت گزار شاگرد بھی تھے۔ نقشے پر انہیں سب سے زیادہ دور اُفتادہ اور دشوار گزار مقام گلگت نظر آیا، چناچہ وہ ناک کی سیدھ گلگت پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی گورنری کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ "(صفحہ نمبر 477، ملاقاتیں کیا کیا!، الطاف حسن قریشی، مرتب:ایقان حسن قریشی، اشاعت دوئم، جمہوری پبلیکیشنز، لاہور، 2016؛صفحہ نمبر 70، شہاب نامہ، قدرت اللہ شہاب، چھٹا ایڈیشن، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2015)
تو دوستو! قربانی کے جذبے کے بغیر پڑھےلکھےشخص کی مثال اُس درخت کی سی ہے جس کے سارے پتے جھڑ چکے ہیں۔ اب مجھے اجازت دیجیے۔ اسلام علیکم!اللہ حافظ!

باشام باچانی

باشم باچانی  ٹیچر ہیں اور 2012ء سےشعبہ تعلیم سے وابسطہ ہیں ۔ مطالعے کا بے حد شوق ہے اور لکھنے کا اس سے بھی زیادہ۔تاریخ، اسلامیات، اور مطالعہ پاکستان پسندیدہ مضامین ہیں۔ ناول کے مصنف اور کالمز تحریر کرتے ہیں۔