1. ہوم
  2. کالمز
  3. باشام باچانی
  4. بھارت کی چنِتا

بھارت کی چنِتا

دو منٹ کے لیے سوچیں کہ اگر بھارت کو ہمارے ملک میں کسی کو اپنا کارندہ (ایجنٹ) بنانا ہو، تو وہ کس بندے کا انتخابات کریں گے؟ اگر آپ میں تھوڑی سی بھی عقل ہے، تو آپ جانتے ہونگے کہ حسن ایک ایسی چیز ہے جو اچھے اچھوں کو بھٹکا دیتی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی کسی ایسے بندے کا انتخاب کرے گی جو بے انتہا خوبصورت ہو۔ آپ اکثر دیکھیں گے کہ اشتہار چاہے کسی بھی چیز کا ہو، خوبصورت لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے سامان کی پزیرائی کروائی جاتی ہے۔

پھر بات یہاں آکر نہیں رکتی۔ محض خوبصورتی ہی کافی نہیں۔ اشتہار کے لیے ایسے خوبصورت بندے اور بندیاں درکار ہوتی ہیں جو معاشرے کے جانے مانے لوگ ہوں۔ زیادہ تر کھیل کے اور تفریحی صنعت کے ستاروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف حسن کا استعمال کرتے ہیں، اچھے کپڑے پہنتے ہیں، اچھے دکھتے ہیں، بلکہ یہ اپنی شہرت کا استعمال کرتے ہیں۔۔ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں سامان ضرور خریدیں۔

یہ تو ہوگئے پہلے دو معیار۔ اب تیسرا معیار بھی جان لیجیے۔

اب یاد رہے بھارت اپنے کارندے کو یہ تو نہیں کہے گا کہ کہو "بھارت ماتا کی جے!" وہ اتنے بیوقوف تو نہیں کہ براہ راست کہیں گے کہ جی یہ ہمارا بندہ ہے، وہ ہمارے پنجابی بھائی جس طرح کہتے ہیں: "یہ ساڈا منڈہ سی!" بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی اپنے کارندے کو کہے گی کہ وہ حتی الامکان حب الوطن ہونے کا ڈھونگ رچائے۔ لوگوں کو یہ باور کرائے کہ اس سے زیادہ کوئی محب وطن ہو ہی نہیں سکتا۔ بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی چاہے گی کہ وہ لوگوں کو باور کرائے کہ اس کے خلاف جتنے بھی لوگ ہیں وہ میر جعفر اور میر صاد ق ہیں، ملک کے غدار ہیں۔

پھر ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں دین کی کافی اہمیت ہے، لہذا بھارت کی خفیہ ایجنسی اپنے کارندے کو "اسلامی ٹچ" دینے کے لیے ہدایت ضرور دے گی۔ اپنے کارندے کو بھارت کی ایجنسی کی طرف سے یہ سخت تاکید ہوگی کہ کسی بھی صورت مذہبی چہرہ دکھاؤ۔

جب ایسا بندہ، جو بیان کیے گئے معیار پر پورا اترتا ہو، بھارت کو مل جائے گا، تو پھر بھارت کی کوشش ہوگی کہ اس سے تین کام ضرور کروائے جائیں:

1۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا ستیاناس: ملک کا سب سے بڑا صوبہ یعنی سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ پنجاب کا کباڑا کیا جائے۔ (ذرا ذہن پہ زور ڈالیں اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ پنجاب کا کونسا وزیر اعلی ایسا تھا جس کی اپنی جماعت اس سے ناخوش تھی؟ جس کے بارے میں بچے بچے کو پتہ تھا کہ وہ نااہل ہے اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کو چلانے کے قابل نہیں)کیونکہ جب پنجاب کمزور ہوگا تو ملک کمزور ہوگا۔

2۔ نوجوان نسل کا کباڑا: جب اگلی نسل پڑھائی چھوڑ کر، کام دھندے کو چھوڑ کر دنگے فساد میں ملوٖث رہے گی تو پاکستان کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔ دشمن ملک کی کوشش ہوگی کہ نئی نسل پڑھائی اور کام کے بجائے غلط کاموں میں الجھی رہے۔ بلکہ ایسے کاموں میں الجھی رہے جس سے اس کا مستقبل تباہ ہوجائے، یعنی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتیں۔ (ذہن پہ زور ڈالیں، کس جماعت نے اپنے کئی نوجوان غلط کام میں ملوث کرکے انہیں ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پھینٹی کھلوائی ہے؟)

3۔ ملک میں افراتفری: بھارت کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ اپنےکارندے سے ملک میں بدامنی پھیلائے۔ یہ سب براہ راست نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ چسکے دار اور مرچ مصالحے والے نعروں کے زیر اثر کیا جائے گا۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ وہ ملک کا ستیاناس نہیں کر رہے، بلکہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیونکہ ملک میں جب سڑکیں بند رہیں گی، عمارتیں جلتی رہیں گی، انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی، تو ملک میں کاروبار اور تجارت ٹھپ ہوجائے گا۔ اس سے ریاست کو نقصان ہے اور ہمارے کام کرنے والے طبقے کو بھی۔ (کس جماعت کی یہ خواہش ہے کہ ملک میں ایس سماء ہو؟) بھارت کو اچھی طرح پتہ ہے کہ ہماری فوج سے وہ لڑائی نہیں کرسکتی، لہذا اس نے ہمارے ملک میں اپنے ایسے پالتو چھوڑے ہیں جو یہاں وقت آنے پر ملک کو آگ لگاتے ہیں۔

ذرا سوچیں کہ کون اس معیار پر پورا اترتا ہے جس کو ہم بیان کرچکے ہیں اور جو ان تین اہداف کو مکمل کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے؟ جواب ہر کسی کو پتہ ہے بھئی! موصوف کے بارے میں چند دن پہلے یہ افوا گردش کرنے لگی کہ وہ شاید اللہ میاں کو پیارے ہوگئے ہیں۔ یہ خبر آنے کی دیر تھی کہ بھارت کو اپنے کارندے کی "چِنتا" ہونے لگی۔ بھارتی میڈیا نے دن رات ایک کردیے، اپنے مسائل اور سیاست پر گفتگو کرنے کے بجائے، اس شخص پر نشریات شروع کردیں۔ صدقے جاؤ بھارت پر، وہ اپنے سرمائے اور اثاثے کے لیے کتنی "چنِتا"کرتا ہے۔

بات یہاں آکر نہیں رکی۔ اس شخص کی بہن سے بھی انٹرویو لیا گیا۔ ایک نہیں کئی بھارتی صحافیوں نے محترمہ کے انٹرویو لیے۔ وہی ملک جو ہمارے ملک کے ٹکرے ٹکرے کرنا چاہتا ہے، جو ہمارا پانی بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے، جو ہر جگہ پاکستان کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ ملک اچانک ہمارے ایک شخص کی خیریت کے لیے دن رات چیخنے لگا۔ ظاہر ہے اتنے سالوں کی محنت اور سرمایہ کاری ڈوبتے نظر آرہی تھی۔ وہ بیچارے بھی کیا کرتے؟

بھارت کی خفیہ ایجنسی کو "چِنتا" ہونے لگی کہ بھئی! یہی تو تھا جو جلسوں میں ہمارے وزیر خارجہ کی کلپس چلایا کرتا تھا، یہی تو تھا جو ہمارے نمبر ایک دشمن (پاک فوج) کو للکارتا تھا، جو ہمیں غیرت مند قوم کہتا تھا، جو ہمارے عزائم کو پوراکرنے والا تھا، کہیں اسے کچھ ہوگیا تو ہمارا کیا ہوگا؟

دوستو! یہ وہ وقت ہے جس نے اچھے اچھوں کا میک آپ اتار دیا۔

بیرونی سازش کہنے والے، امریکی مداخلت نامنظور کہنے والے، آج خود امریکا اور بیرون ملکوں سے مدد مانگ رہے ہیں، ان ملکوں کی مداخلت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ واہ!

افغانستان۔۔ جو ایک وقت میں اسلامی انتہا پسند ملک کہلایا جاتا تھا، آج وہ ملک بھارت جیسے ملک کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے۔ یعنی ایک ایسا ملک جہاں گائے کے گوبر سے نہایا جاتا ہے، جہاں گائے موت نوش کیا جاتا ہے، جہاں بت پرستی عروج پر ہے، جہاں مساجد شہید کرکے مندر تعمیر کیے جارہے ہیں، وہ ملک افغانستان کی مدد کے لیے دن رات ایک کر رہا ہے۔ واہ!

وہ لوگ جو کہتے تھے چور ڈاکو ہم تسلیم نہیں کریں گے، ہم میر جعفر اور میر صادق نہیں مانیں گے، وہ آج دہشتگردوں پر ہلکا ہاتھ رکھنے کی پالیسی کو پسند کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ بچوں اور معصوم لوگوں کو شہید کر رہے ہیں ان سے مذاکرات کیے جائیں، جبکہ اپنی ہی فوج اور حکومت کے خلاف بغاوت کی جائے۔ واہ!

یہ وہ وقت ہے جب ہماری فوج ملک کے بیرونی اور داخلی دونوں دشمنوں کو تیخ تیخ کر رہی ہے۔ اللہ ہماری فوج کی مدد کرے۔ ہماری دعائیں ملک کے دشمنوں کو اپنے انجام تک پہنچانے والوں کے ساتھ ہیں۔

خیر، ہمارے موجودہ سپہ سالار اور فیلڈ مارشل کو پتہ ہے کہ کیسے بھارت کی "چِنتا" (یعنی کہ پریشانی) کو بھارت کی "چِتا" میں کیسے تبدیل کرنا ہے۔

جاتے جاتے میں پھر سے کہوں گا، سوچیے تو سہی۔ بھارت کو اچانک ہمارے ملک میں ایک شخص کی صحت اور سلامتی پر تشویش کیوں ہے؟ کیوں بھارت میں دن رات ہمارے ایک قیدی کی صحت دریافت کی جارہی ہے؟ یہ تو وہ ملک ہے جو ہمارے ملک میں "گھس کر" کاروائی کرنا چاہتا ہے، جو ہمیں پانی سے محروم رکھنا چاہتا ہے، جو ہمارے ٹکرے ٹکرے کرنا چاہتا ہے۔ اسے اچانک ہمارے ایک شخص کی صحت اور سلامتی عزیز کیوں ہونے لگی ہے؟ موصوف کی بہن کو بلا کر بڑے ادب کے ساتھ انٹرویوز کیوں لیے جارہے ہیں؟ جبکہ پاکستان کی جانب سے کوئی بھی بھارتی میڈیا میں جائے تو اسے کڑوے سوالات اور بدتمیزی کا شکار بنایا جاتا ہے، لیکن ہمارے ملک کے ایک قیدی کی بہن پر اتنی شفقت کیوں نچھاور کی جارہی ہے؟

بھارت کی میڈیا کو "گودی" میڈیا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نریندر مودی کی گود میں بیٹھے دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے ایک خاندان نے تو گودی میڈیا کی گود ہی پکڑ لی۔۔ یہ ہیں وہ لوگ جو "غیرت" کے درس دیتے ہیں اور "حقیقی آزادی" کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ کتنے غیرت مند ہیں اور کتنے آزاد، پتہ چل گیا۔ گودی کی گود پکڑنے والے۔۔ سخت الفاظ نکل جائیں گے، لہذا مضمون کو ختم کرنا ہی بہتر ہوگا۔ ہم اتنے گرے ہوئے نہیں کہ گالیاں دیں۔

باشام باچانی

Basham Bachani

باشم باچانی  ٹیچر ہیں اور 2012ء سےشعبہ تعلیم سے وابسطہ ہیں ۔ مطالعے کا بے حد شوق ہے اور لکھنے کا اس سے بھی زیادہ۔تاریخ، اسلامیات، اور مطالعہ پاکستان پسندیدہ مضامین ہیں۔ ناول کے مصنف اور کالمز تحریر کرتے ہیں۔