Thursday, 21 November 2019
/ کالمز / فضا بشام / اندر کی کمی

اندر کی کمی

پچھلے سالوں میں بہت بیزار تھی اپنی زندگی سے، جینا نہیں چاہتی تھی۔ کوئی نہیں تھا جو میرے احساسات کو جان سکے یا پہچان سکے۔ سب سے اچھا تعلق نہیں تھا اور اس میں میری ہی غلطی تھی، کیوں کہ تب بھی مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں غلط ہوں، لیکن غصہ اور انا مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتےتھے۔ آخر کیا کرتی میں احساسِ کمتری کا شکار تھی۔ پر جب کوئی میری بات کو سمجھتا تو میری محبت کا کوئی پیمانہ نہ ہوتا۔ اس بات سے مجھے ایک دوست یاد آگئی، میرے ابو نے میرا داخلہ نئے اسکول میں کروایا، چونکہ سابقہ اسکول میں پڑھائی کے حوالے اب وہ بات نہیں تھی جس کے تحت یہ کیاگیا۔ میں بہت پریشان تھی 12 سال کی لڑکی ایک نئے ماحول میں جارہی تھی اسکے دل میں بہت ڈر تھا طالبہ کیسے ہونگے؟ اساتذہ کیسے ہونگے، سخت تو نہیں ہونگے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے کافی خیال ذہن میں آرہے تھے۔ میرا پہلا دن تھا نئے اسکول میں۔ ماحول بڑا دوستانہ تھا، سب نےمیری مدد کی۔ سب مجھے ا فسوس کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے آخر یہ کیا معاملہ تھا؟

معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ میں جس لڑکی کے ساتھ بیٹھی تھی وہ دراصل جماعت کی سب سے لڑاکا لڑکی تھی جس سے سب لڑتے رہتے ہیں، اور دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن میں نے اس بات پر غور نہیں کیا۔ کچھ دن تک تو میں کسی سے گھلی ملی نہیں نیا ماحول تھا مجھ جیسی لڑکی کو کچھ وقت تو لگنا تھا۔ اس لڑکی نے کبھی مجھ سے جگھڑا نہیں کیا۔ ہم دونوں ایک سیٹ پر آگے بیٹھتے۔ کچھ لڑکیوں نے مجھے نصیحت کی کہ اس لڑکی کے ساتھ مت بیٹھو ورنہ پاگل ہوجاؤ گی میں نے ان کو بتایا کہ میرے ساتھ بہت اچھی دوستی ہے اسکی اور میں نے اسکی اور وضاہت کی کہ وہ ایسی نہیں ہے۔ بہرحال وہ اپنی بات کرکے چلے گئے۔ آہستہ آہستہ مجھ پر ان لڑکیوں کی بات کااثر ہوگیا اور میں نے اپنے آپ کو بچانےکےلئےجگہ بدل دی۔ اندر ہی اندر دکھ بھی ہوا کہ میں نے ایسا کیوں کیا ایک وہ تھی جس نے سب سے پہلے میرے لئے جگہ بنائی، نہ ہی وہ مجھ سے لڑی بلکہ مجھ ہر احسان کیا اسنے۔ خیر آدھا سال گزر گیا میری کم لڑکیوں سے تھوڑی بہت دوستی ہو بھی گئی۔ اس با ت کو میں بھول چکی تھی۔ اتفاقاً میری اس لڑکی سے پھر دوستی ہوگئی ہوئی۔۔ اس نے مجھ سے کبھی جھگڑانہیں کیا کبھی ہمارے درمیان تلخی نہیں ہوئی تھی۔ مجھے وہ بات یاد آگئی تھی پھر مجھ سے رہا نہیں گیا، میں نے اس سے پوچھ ڈالا کہ سب سے تم جھگڑتی کیوں ہو، سب تم سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔ پہلے تو وہ خاموش رہی، میں نے جلد بازی کا مظاہرہ کرکے اس کی خاموشی کایہ مطلب لیا کہ کسی مفاد کے تحت مجھ سے دوستی رکھ رہی ہے۔ اسکی بات سن کر میں بہت شرمندہ ہوئی اپنی سوچ پر۔ مجھے اسکے الفاظ یاد نہیں۔ پر بات یہ تھی کہ وہ بہت اچھی تھی لیکن ہر کوئی اس کے جذبات سے آگاہ نہ تھا، اور یہ کہ اس سے لڑائی کرنے والے لوگ دوسروں کے دلوں میں اسکی نفرت ڈالتے۔ جیسا کہ میرے ساتھ بھی کیا گیا۔ اور جب میں نے بھی غور کیا کہ لڑائی شروع کرنے والا کوئی اور ہوتاسارا قصورمیری دوست پر آتا اسکی وجہ صرف یہ تھی کہ میری دوست زبان دراز تھی جوکہ اسکی کمزوری تھی جسکی وجہ سے اسے اس بغاوت کا سامنہ کرنا پڑتا۔

میں نے پھر اپنی حالت پر بھی نظر ڈالی کہ میری کیا کمزوری ہے؟تو جواب آیا کہ غصہ اور خواہش کو دبائے رکھنا، جب یہ چیزیں میں نے اپنے اندر سےختم کردی تو جینے کا مزہ آگیا۔ تو دوستو!اپنے اندر کی سنو، سب کا احترام کرو۔ مختصر یہ کہ خاموشی اور مسکراہٹ کو اپنا معمول بنا لو۔ کیونکہ خاموشی سے بہت سے مسائل ٹل جاتے ہیں اورمسکراہٹ سے مسائل دور ہوجاتے ہیں۔

فضا بشام

فضا بشام بی اے کی طالبہ ہیں۔ فلسفے کے مضمون سے بے حد لگاؤ رکھتی ہیں۔ قلم کا سہارا لے کر دوسروں تک اپنے مشاہدات منتقل کرنے کی خواہشمند بھی ہیں۔