/ کالمز / حماد حسن / موحد دانیال حسین جیسے ہوتے ہیں

موحد دانیال حسین جیسے ہوتے ہیں

بہت سال پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں میری تعیناتی ہوئی تو کچھ دن مسافری اور تنہائی کے ساتھ کاٹنے کا عادی ہونے ہی والا تھا کہ ادبی اور صحافتی دوستوں کو۔ میری آمد کی خبر ہو گئی۔ عزیز دوست اورڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف پروفیسر حنیف خلیل تب ایک کالج میں تعینات تھے ممتاز شاعرشھاب صفدر تو تھے ہی مقامی باشندے جبکہ مشہور ادیب ڈاکٹر چراغ حسین سول ہسپتال کے ایم ایس تھے۔
پروفیسر یحیٰ بھی پی ایچ ڈی مکمل کر کے دوستوں کو روایتی کھانا صحبت کھلانے میں مگن تھے سو ریسٹ ہاؤس کے جس کمرے میں میرا قیام تھا وہاں سے اداس تنہائی نکلتی اور دوست داخل ہوتے گئے۔
یہ بھی سردیوں کی ایسی ہی ایک شام تھی کہ اچانک دروازے پر ہلکی سی ایک دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو ایک وجیھہ اور خوش لباس اجنبی نوجوان سامنے کھڑا تھا، سلام کیا اور ہاتھ ملاتے ہوئے پُر اعتماد طریقے سے اپنا تعارف کرایا، میرا نام دانیال حسین ہے اور میں ایک مقامی سکول میں ٹیچر ہوں آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں کسی سے پتہ چلا کہ آپ آج کل یہاں پر ہیں سو میں نے سوچا کہ آپ سے مل آؤں۔
آئیے۔ ۔ ۔
میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور کمرے میں لے آیا گپ شپ کے دوران اس نے میرے بعض ایسی تحریروں کے حوالےدئیے جو مجھے خود بھی یاد نہیں رہے تھے یعنی واقعی اس نے میری تحریریں پوری توجہ سے پڑھی تھیں لیکن مجھے زیادہ دلچسپی اس میں تھی کہ اس نے باقی کیا پڑھا ہے سو میں نے بات اُس طرف موڑ دی اور میں حیران ہوتا گیا کہ نہ صرف اُردو اور انگریزی بلکہ روسی اور سپینش ادب کو بھی کمال عرق ریزی کے ساتھ پڑھا تھا۔
گھنٹہ بھر مجھے اپنی گفتگو اور شخصیت کے سحر میں جکڑ نے کے بعد اس نے جانے کی اجازت چاہی تو ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔
سر اگر آپ ڈسڑب نہ ہوں تو میں آیا کروں گا۔ نیکی اور پوچھ پوچھ کہہ کر میں نے رُخصت کیا۔ اب وہ روزانہ میرے پاس آتا اور اس محفل میں شریک ہوتا جو عمومًا میرے کمرے میں سجتا ایک دوبار وہ ہم چند دوستوں کو اپنے گھر کھانے پر بھی لے گیا چھوٹا سا لیکن سلیقے سے سجا ہوا گھر اور اس کے دونوں بچوں کو دیکھ کر اس کے چھوٹے سے خاندان کی نفاست اور وقار کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے نوٹ کیا کہ وہ ایک پر اعتماد پڑھا لکھا اور سچا انسان ہونے کے ساتھ ایک مئوحد آدمی ہے جو خدا اور انسان کے واضح تفریق کو کسی مصلحت کی نذر نہیں کرتا۔
ایک دن ایک دوست نے بتایا کہ فلاں ضلع کے ڈپٹی کمشنر (جو ایک باآثر بیوروکریٹ تھے ) دانیال حسین کے سگے اور اکلوتے بھائی ہیں۔
مجھے حیرت ہوئی کیونکہ دانیال نے خود کبھی یہ ذکر نہیں کیا تھا۔
اسی دن وہ ملنے آیا تو اتفاق سےمیں اکیلا تھا اس لئے میں نے کچھ ذاتی سوال پوچھے جس میں ایک یہ بھی تھا کہ فلاں افسر واقعی تمہارا بھائی ہے اس نے صرف ہاں کہا اور بات بدل دی لیکن میں نے کسی جاہل شخص کی مانند اپنی بات کو دھرایا تو اس نے حسبِ عادت مدللّ انداز اور صاف گوئی سے کہا کہ ہم دونوں واقعی بھائی ہیں لیکن ہمارے بیج اس کی ڈپٹی کمشنر کھڑی ہے کیونکہ وہ مجھے اس پیڈسٹل پر دیکھنا چاھتا ہے جس پر عام سے خوشامدی بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ مجھ سے بھی اس روئیے کی توقع رکھتا ہے جو کسی تیسرے درجے کے بازاری آدمی کو تو ججتا ہے لیکن کسی بھائی کو نہیں اور میں بھائی کے فطری سٹیٹس سے کم تر سطح پر ہرگز نہیں آؤںگا کیونکہ عزت اور کامیابی کے لئے ضروری نہیں کہ ہر آدمی کا بھائی ڈپٹی کمشنر ہو۔
دانیال حسین نے بات ختم کی تو وہ مجھے ایک خودار آدمی سے زیادہ ایک مؤحد ہی لگا جس کے نس نس میں اللّہ تعالٰے کی کامل قدرت اور وحدانیت رچ بس گئی تھی۔ کچھ دنوں بعد میں واپس پشاور چلا آیا اور رفتہ رفتہ ہمارا رابطہ کم ہونے لگا کیونکہ وہ بھی میری طرح ہر وقت فون کھڑکانے والاآدمی نہیں تھا کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ وہ ملک سے باہر چلا گیا ہے اور یوں کمزور سا رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔
اب تقریبًا ڈیڑھ عشرہ بیت چکا تھا اور دانیال حسین میرے ذہن کے کسی حصّے میں گم ہو چکا تھا چند دن پہلے ایک بڑی سی گاڑی آکر گیٹ پر رُکی میرا بیٹا باہر گیا تو ہاتھ میں کچھ قیمتی تحائف لئے واپس آیا اور بتایا کہ کوئی دانیال صاحب آئے ہیں میرے ذھن میں فوری طور پر ایک دو دانیال آئے لیکن ان کی حیثیت ان مہنگے تحائف کی نہ تھی تاہم میں نے مہمان کو بٹھانے کو کہا۔ تھوڑی دیر بعد میں ملنے آیا تو ایک حیرت بھری خوشی مجھ سے لپٹ گئی کیونکہ آیا ہوا مہمان دانیال حسین تھا وہی وجاہت اور وہی خوش لباس بس بالوں کے ایک حصے پر سفیدی اتر آئی تھی جو اس کی شخصیت کو مزید با وقار اور سنجیدہ بناتی رہی۔
پرانی باتوں سے ہم زمانہ حال کی طرف آئے تو میں نے بھابی بچوں کے بارے میں پوچھا  اس نے بتایا کہ بڑا بیٹا سول سروس میں گیا اور اس وقت پنجاب میں اسٹنٹ کمشنر ہے جبکہ چھوٹا بیٹا اسلام آباد میں ہے اور اپنا بزنس کر رہا ہے وہاں بھی اور ڈی آئی خان میں بھی اس نے ہمارے لئے گھر بنائے اس لئےہم میاں بیوی کبھی اسلام آباد اور کبھی اپنے شہر ہوتے ہیں۔ وقت بہت ہے اور اللّہ تعالٰے نے مالی استطاعت بھی دی ہے اس لئے کتابوں کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ تشکر میں لپٹی گفتگو کئے جارہا تھا کہ میں نے بھائی کے بارے دریافت کیا کہ آج کل کہاں پوسٹنگ ہے میرے اس سوال پر ایک ادسی نے اس کے چہرے کو لپیٹ میں لیا اور چند لمحے خاموشی کے بعد کہا کہ مدت ہوئی ان کو فالج کا شدید اٹیک ہوا اور چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔مجھے اپنے سوال پر افسوس ہونے لگا اس لئے فورا" بات بدل دی اور اسے اس کے بچوں کی کامیابی کی طرف موڑ دیا تھوڑی دیر بعد وہ تشکر سے لبریز باتیں کرتا رہا اور مجھے برسوں پرانی وہ شام یاد آتی رہی جب اس کے لفظ لفظ سے اللّہ تعالٰے پر کامل اعتقاد اور کسی انسان کو خدا کا درجہ دینے سے ایک مؤحد انکار ٹپک رہا تھا اور یہی وہ جرات ہے، جس کا صلہ دینے کا وعدہ اس ذات نے کیا ہے جو گرانے سے پہلے تکبر کے راستے اور اُٹھانے سے پہلے قناعت کے راستے پر ڈال دیتا ہے اور دانیال حسین نے تو ہر راستے سے منہ موڑ لیا تھا صرف صبر اور قناعت کی راہ لی تھی۔