/ کالمز / حماد حسن / سپاہی بنات خان اسی وطن کا بیٹا تھا

سپاہی بنات خان اسی وطن کا بیٹا تھا

وہ اسی وطن کا بیٹا تھا اور اسی وطن کے لئے لڑ رہا تھا لیکن نصف صدی ہونے کو آئی اور کسی نے مڑ کر پوچھا بھی نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا دُشمن ملک کے کسی جیل میں اپنوں سے دوری، بے گناہی اور بے وطنی کے عذاب جھیلتے جھیلتے اپنی آزادی کے خوابوں اور گھر لوٹنے کی حسرتوں سمیت مر گیا ہے۔ یہ ایک فوجی سپاہی بنات خان کی دلدوز کہانی ہے۔
بنات خان کا تعلق ضلع صوابی کے مشہور  گاؤں پنج پیر سے تھا۔ چھ فٹ لمبا قد اور اسی طرح سُرخ و سفید رنگت جو ان علاقے کے لوگوں کا عمومی طور پر خا صہ ہے ساٹھ کے عشرے میں جب وہ بائیس سال کا ایک خوبرُو نوجوان تھا وہ پاک فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اب گاہے وہ چھٹی پر اپنے گاؤں آتا اور کبڈی کے میدان میں اُترتا تو تماشائی دنگ رہ جاتے کیونکہ ایسی جوانی اور ایسی طاقت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اب اسے فوج میں ملازمت کرتے ہوئے تقریبًا چھ سال ہو گئے اسی دوران اس کے خاندان والوں نے اس کی منگنی بھی کردی اور ارادہ تھا کہ جُوں ہی اسے چھٹی مل جائے تو اس کی شادی بھی کروادیں لیکن تب کسے معلوم تھا کہ تھوڑا سا آگے عمر بھر کی بدنصیبی اسے لپٹ جائے گے۔
1970ء کے آس پاس فوج کی تعداد میں کمی کی جانے لگی تو بنات خان کو بھی پنشن اور مراعات سمیت فارغ کردیا گیا تب اس کی عمر ستائیس یا اٹھائیس سال تھی وہ گاؤں پہنچا تو اس کی شادی کی تیاریاں کی جانے لگیں کہ اس دوران پاک بھارت جنگ چھڑ گئی اور اسے پھر سے محاذِ جنگ پر بلا لیا گیا۔ دوسرے دن صبح سویرے بوڑھی والدہ نے اس کا آخری بوسہ لیا اور وہ اسی دن محاذ پر روانہ ہوا اور پھر وہ دن اور آج کا دن بنات خان لوٹ کر نہیں آیا۔
پاک بھارت جنگ اختتام کو پہنچی اور نوّے ہزار پاکستانی بھارتی جیلوں میں گئے تو خیال تھا کہ بنات خان بھی انہی میں سے ایک ہوگا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا اور یوں نوّے ہزار قیدیوں کی رہائی بتدریج ہونے لگی اب بنات خان کی بوڑھی ماں کے کان ریڈیو اور آنکھیں دروازے پر رہنے لگی لیکن نہ کانوں نے اس کا نام سنا نہ آنکھوں نے اسے آتے دیکھا (سنا ہے کچھ عرصہ پہلے وہ دلی کے نواح میں کسی جیل میں تھا) ایک طویل اذیت سہتے سہتے بارہ سال بیت گئے اور یہ بد نصیب ماں اپنی حسرتوں سمیت قبر میں اُتر گئی۔
بنات خان کا چھوٹا بھائی حیات خان بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا ہے لیکن اس کی ہمّت کی جوانی اب بھی قائم ہے وہ روز صبح کاغذات کے پلندے جس میں مختلف درخواستیں اور اخبارات کے تراشے وغیرہ شامل ہیں اُٹھائے گھر سے نکلتا ہے اور ہر اس دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے جہاں اسے اُمید کی ہلکی سی کرن بھی دکھائی دے۔
سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے لے کر مختلف ٹی وی چینلز اور سیاسی رہنماؤں سے اخبارات کے دفاتر تک کوئی در اس نے چھوڑا نہیں لیکن اُمید اور بے حسی کی اسی جنگ میں پلڑا ابھی تک بے حسی کا ہی بھاری ہے۔
ابھی ابھی وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر خیر اور انسانیت کا ایک لافانی پیغام دیتے ہوئے دُشمن ملک کے پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کا اعلان کیا اور وہ اپنے ملک بھی لوٹ گیا لیکن یہ توقع ہم نریندرا مودی سے نہیں رکھ سکتے کیونکہ وہ خیر اور انسانیت کی تلاش کا مزاج ہی نہیں رکھتا لیکن پورا ہندوستان ایسا ہرگز نہیں وہاں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو انسانیت اور امن و آشتی کا علم اُٹھائے ہوئے ہیں سو وہ بھی میری اُمیدوں کے مراکز میں سے ایک ہیں لیکن وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے گزارش ہے کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی سے آپ کا جو مثبت امیج دُنیا کے سامنے بن گیا ہے تو کیوں نہ بنات خان کی تلاش میں اسے مزید آگے بڑھایا جائے بلکہ وزیراعظم عمران خان یہ ٹاسک دلیّ میں متعین پاکستانی سفیرکو ہی سونپ دیں تو نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں، ساتھ ساتھ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے گزارش ہے کہ وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے جس لشکر کے آپ سپہ سالار ہیں اس لشکر کا ایک دلیر جوان اور آپ کا ایک سپاہی اپنی مٹی کے لئے لڑتا ہوا دُشمنوں کی بستی میں کہیں گم ہو چکا ہے، آپ کا منصب اور دلیر پن اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے گم شدہ سپاہی کی خبر لی جائے، اور ہاں گم شدہ اور بے آسرا قیدیوں کے لئے لڑتے ہوئے انصار برنی صاحب آپ سے بھی مخاطب ہوں اور ان تمام دوستوں سے بھی جو خیر کی پرچار اور انسانیت کا علم اُٹھائے ہوئے ہیں خواہ وہ لکیر کے اس پار ہیں یا اُس پار۔ کیونکہ
انسانی بھلائی اور دردِ دل کا جذبہ تو ہر جگہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے نا۔